سانحہ پشاور کے خلاف احتجاج جاری چرچ سے بچی کی لاش ملی

ہلاکتیں 84ہو گئیں، سوگ ختم، مشنری ادارے کھل گئے،حملوں میں 139افراد مارے گئے،بشپ آف پشاور کا دعویٰ


Numaindgan Express September 26, 2013
لاہور سمیت ملک بھر کے گرجا گھروں میں دعائیہ تقریبات، مسلم تنظیموں، این جی اوز نے اظہار یکجہتی کیلیے ریلیاں نکالیں،شمعیں جلائیں فوٹو: فائل

کوہاٹی گیٹ چرچ میں صفائی کے دوران ملبے سے بچی کی لاش ملی ہے جس کے بعد دھماکوں میں مرنیوالوں کی تعداد84 ہو گئی جبکہ بشپ آف پشاور ہیمفری سرفراز پیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں 139افراد مارے گئے ہیں۔

دریں اثنا لاہور سمیت مختلف شہروں میں سانحہ پشاور کیخلاف مسیحی برادری کا احتجاج جاری رہا جبکہ مسلم تنظیموں نے ریلیاں نکالیں اور شمعیں جلا کر اظہار یکجہتی کیا۔ سانحہ پشاور کے چوتھے روز چرچ کی صفائی کے دوران امدادی کارکنوں کو ایک بچی کی لاش ملی جسے بعدازاں مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا، چرچ کے قریب واقع مارکیٹیں اور دکانیں بھی کھل گئیں تاہم خوف وہراس چھایا رہا۔



دریں اثناء تین روزہ سوگ ختم ہونے پر گزشتہ روز تمام مشنری ادارے کھل گئے تاہم مشنری اسکولوں میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی، ہلاک ہونیوالے افراد کیلیے تعزیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بشپ آف پشاور ہیمفری سرفراز پٹیر نے کہا کہ دھماکوں میں 139افراد ہلاک اور 160زخمی ہوئے ہیں، گرجا گھر کے قریب رہائش پذیر لوگوں اور تاجروں نے دھماکے کے وقت اور بعد میں بھی بڑا تعاون کیا جس پر مسیحی برادری انکی مشکور ہے۔

مقبول خبریں