واہگہ بارڈر پر بھی بلا اشتعال بھارتی فائرنگ پاکستان کا احتجاج اسمگلروں کو نشانہ بنایا بھارت کا دعویٰ

3 ڈرگ اسمگلر ماردیے،بی ایس ایف کا موقف، وضاحت طلب کرنے پر بھارت ثبوت پیش نہ کر سکا، کنٹرول لائن پربھی فائرنگ،شہری زخمی


واہگہ بارڈر پر بھارتی فوجی اہلکار مبینہ مقابلے میں مارے گئے اسمگلروں کی لاشوں کے پاس کھڑے ہیں ۔ فوٹو : اے ایف پی

بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ہفتے کو واہگہ بارڈر کے نزدیک پاکستان رینجرز کی علی شہید چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی، پاکستانی رینجرز نے بھرپور طریقے سے جواب دیکر بھارتی بندوقوں کو خاموش کرا دیا۔

علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے اس واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا اور ہنگامی میٹنگ میں وضاحت طلب کی گئی جس پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے افسروں نے موقف اختیار کیا کہ انھیں پاکستانی سرحد کی جانب سے 5 نامعلوم افراد بھارتی حدود میں داخل ہوتے دکھائی دیے جن پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3 نامعلوم اسمگلر ہلاک جبکہ 2 پاکستانی سرحد کی جانب فرار ہو گئے۔ بھارتی حکام کے مطابق ہلاک افراد کے قبضے سے ہیروئن سے بھرے30 پیکٹ، ایک پستول اور ایک رائفل برآمد کی گئی ہے۔ پاکستانی رینجرز حکام نے بھارتی حکام سے ہلاک افراد کی لاشیں دکھانے، ان کے فنگر پرنٹس دینے اور برآمد کی گئی اشیاء دکھانے کا مطالبہ کیا تو بھارتی حکام لاجواب ہو گئے اور کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی بارڈر فورس کی یہ کارروائی جعلی مقابلہ بنا کر پاکستانی میڈیا کے دبائو کو کم کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ بھارت ماضی میں بھی اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا ہے۔اس کے جھوٹے الزامات اور بوکھلاہٹ کی قلعی کھل گئی ہے۔دریں اثنا بھارت کی جانب سے ہفتے کو لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی کے مقام پر شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس سے ایک شہری شدید زخمی ہوگیا۔کنڈی گاؤں کا رہائشی کالے خان مویشیوں کیلیے گھاس کاٹ رہا تھا کہ بھارتی فائرنگ کا نشانہ بن گیا، اسے10گولیاں لگیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے رواں سال سیز فائر کی 345 خلاف ورزیاں کی گئیں۔



بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے اور اس کا خود میڈیا نے موقع پر جاکر جائزہ بھی لیا ہے۔ جس میں ثابت ہوا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے کچھ عرصے سے بلاشتعال فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری کے سرحدی دیہات کے رہائشیوں نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی کی بلااشتعال فائرنگ سے معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں۔ ہمارے گائوں میں کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ ایک 60سالہ خاتون نور بی بی نے کہا کہ ہمارے بچے ہماری آنکھوں کے سامنے ان جان لیوا ہتھیاروں کی زد میں آکر معذور اور زخمی ہو رہے ہیں۔ مکینوں کا کہنا تھا کہہمارے مویشی بھی بھاری تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔

بی ایس ایف والے صرف نہتے دیہاتیوں پر گولی چلانا جانتے ہیں۔ آن لائن کے مطابق مقبوضہ کشمیر پولیس کے سربراہ اشوک پرشاد نے الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران 80 تربیت یافتہ مجاہدین کنٹرول لائن عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ مزید سیکڑوں مجاہدین کنٹرول لائن کے پار دراندازی کیلیے تیار بیٹھے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجاہدین نے حکمت عمل تبدیل کرلی ہے اور اب وہ دن کے اوقات میں سرحد عبور کرتے ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا سید علی گیلانی کو حیدرپورہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت ہے لیکن وہ سرینگر میں نماز کی ادائیگی کیلیے بضد ہیں جہاں انھیں اجازت دینا ممکن نہیں۔

مقبول خبریں