بھارت کی لیڈی ٹارزن ہاتھی اسکی بات سنتے اور مانتے ہیں

ہاتھیوں نے میری ماں کو مار ڈالا تھا اس کے بعد انھیں بھگانے کا طریقہ سیکھا، نرملا


Net News October 31, 2013
ہاتھیوں نے میری ماں کو مار ڈالا تھا اس کے بعد انھیں بھگانے کا طریقہ سیکھا، نرملا. فوٹو بی بی سی

بھارتی ریاست جھارکھنڈ کی 14 سالہ قبائلی لڑکی نرملا ٹوپّو ان دنوں کسی سلیبریٹی سے کم نہیں، وہ ہاتھیوں سے باتیں کرتی ہے جو اس کی بات سنتے اور مانتے ہیں، اسے اپنے علاقے میں لیڈی ٹارزن کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

بی بی سی کیمطابق جون میں اڑیسہ کے شہر راؤر کیلا میں اس وقت خوف و ہراس پیدا ہو گیا ،جب 11 ہاتھیوں کا ایک جھنڈ گھس آیا تھا،محکمہ جنگلات کے افسروں نے بتایا کہ جب حکومت شہر سے ہاتھیوں کو نکالنے میں ناکام ہو گئی تو اس نے نرملا سے مدد طلب کی۔نرملا نے بتایا کہ وہ ہاتھیوں سے مقامی قبائلی بولی منڈاری میں بات کرتی ہیں اور جانوروں کو وہ اسی زبان میں اپنے علاقے میں لوٹ جانے کیلیے کہتی ہیں۔



رومن کیتھلک نرملا نے بتایا کہ 'پہلے میں دعا کرتی ہوں اور پھر ان سے بات کرتی ہوں، میں ان سے کہتی ہوں کہ یہ ان کا گھر نہیں ہے انہیں وہاں لوٹ جانا چاہیے جہاں سے وہ آئے ہیں۔' نرملا کا کہنا ہے کہ جنگلی ہاتھیوں نے ان کی ماں کو مار ڈالا تھا اس کے بعد ہی انھوں نے ہاتھیوں کو بھگانے کا طریقہ سیکھنے کا فیصلہ کیا،ان کے کام میں انہیں ان کے والد اور بعض مقامی بچوں کی مدد حاصل ہے۔

مقبول خبریں