خطرے کی گھنٹی۔ ہر پاکستانی اسے سن لے

عہد بعہد اور نسل در نسل کی خوشامد ہمارے خون میں رچ بس چکی ہے۔


Abdul Qadir Hassan November 23, 2013
[email protected]

WASHINGTON: عہد بعہد اور نسل در نسل کی خوشامد ہمارے خون میں رچ بس چکی ہے۔ پہلے ہم نہایت ہی دانشمند قوم انگریزوں کے غلام رہے۔ انھوں نے ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت ہمارے ہاں غلاموں اور خوشامدیوں کی ایک نسل تیار کر دی۔ میں نے پرانے لوگوں سے سنا کہ جب انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا منصوبہ بنایا تو ان خوشامدیوں اور غلامی پسندوں نے ان سے پوچھا کہ پھر ہمیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو۔ انگریزوں کو اپنے غلاموں کے اس سوال کا پہلے سے ہی علم تھا چنانچہ وہ ہمیں نئی ابھرتی ہوئی طاقت امریکا کے سپرد کر گئے کیونکہ برطانیہ عالمی جنگ کے بعد اب اس طاقت اور عزم سے محروم ہو چکا تھا جو اپنی ان مقبوضات کو سنبھال سکتا جن پر سورج غروب کبھی نہیں ہوتا تھا، دن ہو یا رات وہ ان کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کسی نہ کسی محکوم سر زمین پر چمکتا ہی رہتا تھا۔ برطانیہ عظمیٰ سمٹ سمٹا کر ایک جزیرے تک محدود ہو گیا جس میں اس نے دنیا بھر کی دولت جمع کر رکھی تھی۔ ہم پوری دلجمعی کے ساتھ نوخیز امریکا کی خوشامد میں مصروف ہو گئے۔

یہ کیفیت ہم پر آج بھی دن رات گزر رہی ہے، اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن امریکی بالکل نئی وضع قطع اور نئے مزاج کے لوگ تھے، خود ان کے ایک دانشور سیاستدان اور سابق وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے کہا تھا کہ امریکا کے دوستوں کو اس کے دشمنوں کی نسبت زیادہ بچ کر رہنا چاہیے۔ یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں اور امریکا جو افغانستان کے ساتھ ہی ہمارے جیسے دوستوں پر بھی حملہ آور ہو گیا، اب زیادہ کھل کر آ گیا ہے۔ پہلے تو وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں جنھیں وہ 'غیر پاکستانی' قرار دیتا تھا اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے حوالے سے ان پر حملے کرتا رہا، اب وہ پاکستان کے مصدقہ علاقوں پر حملہ آور ہو گیا ہے، اس ضمن میں جنرل حمید گل کی بات واضح اور برمحل ہے کہ امریکا اپنے طے شدہ نشانوں پر یعنی پاکستان کے اٹھارہ شہروں پر حملے کر سکتا ہے۔ ہم دوست اور دشمن کو پہچانیں، امریکا ہمارے ساتھ دشمنی کر رہا ہے، ہم نے ذمے داری کا ثبوت نہ دیا تو پورے ملک پر ڈرون حملے ہو سکتے ہیں۔ ہم امریکا سے براہ راست جنگ نہیں کر سکتے لیکن نیٹو سپلائی کو فوری طور پر بند کر سکتے ہیں، شاید اسی خطرے کی وجہ سے امریکا ہماری فوج کو ملک کے اندر ہنگامے کرا کے اسے مصروف کر رہا ہے تا کہ اس کی مزاحمت کم ہو جائے اور کوئی معمولی سا خطرہ بھی نہ رہے۔

میں نے جس خوشامدی ذہن کا ذکر کیا ہے ایسے ذہن والوں کا بال بال امریکی مراعات سے بندھا ہوا ہے اور امریکا ہی کیا پورے یورپ کے ملکوں میں ہمارے رئوساء نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اس طرح وہ ہر ملک کے محتاج اور اس کی مہربانی کے مستقل طلب گار ہیں۔ وہ ایسے تمام ملکوں کی خوشامد میں مصروف رہتے ہیں جس سے ان کی خوشامد پسند خو بو کو تسکین ملتی رہے اور وہاں سرمایہ بھی محفوظ رہے اب تو ہم بھارت تک کی خوشامد کرتے ہیں اور اپنے دیوالیہ پن کا ثبوت دیتے ہیں یعنی اپنے سب سے بڑے اور مستند دشمن کی خوشامد ایک قومی جرم ہے لیکن ہم اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے تحت سب کچھ کر رہے ہیں۔ ایسی قوم اور اس کی اشرافیہ کی قیادت کے سامنے امریکا جیسے طاقت ور ملک کو کیا جھجھک ہو سکتی ہے، بات صرف اتنی ہی نہیں کہ ان پہاڑی علاقوں اور ان سے ملحقہ پاکستان کے بندوبستی علاقوں پر ڈرون حملے ضروری ہیں کہ وہاں امریکا کے دشمن کو ختم کیا جا سکے بلکہ درحقیقت اصل نشانہ ایٹمی پاکستان ہے جس کی طرف امریکا قدم بقدم بڑھ رہا ہے اور اگر ہم نے جنرل حمید گل اور عمران خان کی رائے کے مطابق امریکا کو زیادہ پریشان کیا تو وہ خود ایسا نہ بھی کرے تو بھارت کو اشارہ کر کے ہم پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور اندریں حالات ہم پر اتنا ہی کافی ہے۔ بھارتی دانشور تو ہمیں پہلے ہی ناقابل ذکر قرار دے چکے ہیں۔

امریکا کا ہنگو کی تحصیل ٹل پر ڈرون حملہ ہمارے لیے یوں بھی حیران کن تھا کہ ہمارے اخبارات ہمارے وفاقی مشیر کے مطابق امریکا کی اس خوش کن یقین دہانی سے بھرے ہوئے تھے کہ مذاکرات کے دوران امریکا ہم پر ڈرون حملہ نہیں کرے گا۔ صوبہ خیبر پختون خوا سے ہمارے نمایندے شاہد حمید نے جو وہاں موقع پر موجود ہیں حالات کا صحیح اندازہ لگایا ہے۔ انھوں نے ہماری طرح لاہور یا کراچی میں بیٹھ کر حالات پر تبصرہ نہیں کیا بلکہ یہ ان کی ہڈ بیتی ہے جو ان پر گزری ہے اور نہ جانے کہاں تک گزرتی چلی جائے گی۔ شاہد صاحب نے خبر بھیجی ہے اور امریکا کے اس حملے کو بجا طور پر خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے، اس میں انھوں نے کہا ہے کہ امریکا نے خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے میں پہلا ڈرون حملہ کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جو ایک جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے نیٹو کو رسد کی بندش کے لیے دھرنا دینے اور احتجاج کرنے کے خلاف صوبہ میں تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کے لیے قبل از احتجاج سخت پیغام بھی ہو سکتا ہے جب کہ دوسری جانب مذکورہ ڈرون حملہ امریکا کی جانب سے خطے میں جاری جنگ کو افغانستان اور قبائلی علاقوں کے بعد خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں تک توسیع دینے کا اعلان بھی گردانا جا سکتا ہے جس کے تحت اگلا نمبر صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت کسی بھی شہر کا ہو سکتا ہے۔

امریکا کی جانب سے خیبر پختونخوا کے بندوبستی ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں اس وقت مدرسہ پر ڈرون حملہ کرتے ہوئے6 افراد کو ہلاک کیا گیا کہ جب ایک جانب امریکا کے مستقبل کے حوالے سے افغانستان میں لویہ جرگہ جاری ہے جس میں امریکی افواج کی افغانستان میں تعداد، ان کو عدالتوں میں پیشی سے استثنیٰ دینے اور رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مارنے کے امور کے حوالے سے جائزہ لیا اور ان تجاویز کو منظور یا مسترد کیا جائے گا تو دوسری جانب کل تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی کے خلاف دھرنا اور احتجاج کرتے ہوئے مذکورہ سپلائی کی بندش کرنے جا رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے مذکورہ ڈرون حملہ کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ حملہ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاہم یہ تحریک انصاف کی قیادت اور صوبائی حکومت کے لیے نیٹو سپلائی کی بندش کے حوالے سے ایک سخت پیغام بھی ہو سکتا ہے جس کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کیا گیا ہے تاہم مذکورہ ڈرون حملہ کا تیسرا ممکنہ پہلو امریکا اور نیٹو افواج کی خطے میں موجود رہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو افغانستان اور قبائلی علاقوں کے بعد خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پورے خطہ کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے جس کے تحت حقانی نیٹ ورک یا شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے نام پر اگلا نشانہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور یا کوئی بھی دوسرا ضلع بن سکتا ہے جس کے حوالے سے متحد ہونا وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک ڈرون حملہ ایف آر بنوں کے علاقہ بکاخیل میں جب کہ ایک اور ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقہ میں بھی ہو چکا ہے تاہم یہ دونوں ڈرون حملے بندوبستی علاقوں میں نہیں تھے تاہم ہنگو کی تحصیل ٹل میں گذشتہ روز ہونے والا ڈرون حملہ خیبر پختونخوا کی حدود میں ہونے والا پہلا ڈرون حملہ ہے جس سے صوبائی حکومت بھی مرکز کے ساتھ مذکورہ معاملہ اب مزید شدت کے ساتھ اٹھانے پر مجبور ہو گی۔ ملک میں جو صورت حال موجود ہے اور جس خطرے سے پورا ملک دو چار ہو چکا ہے اس کو سامنے رکھیں تو ہمیں اپنی پوری طاقت اب دوروں اور تقریروں میں نہیں عملی اقدامات کی طرف موڑ دینی چاہیے، قوم کو کسی بھی خطرے سے خبردار کیا جائے اور ہر پاکستانی کو بتا دیا جائے کہ وہ میدان جنگ میں ہے اور اپنی توفیق کے مطابق اسے جنگ میں اپنا کردار کرنا ہے ہم عوام تو اپنا کردار ہر مشکل میں ادا کرتے ہی رہتے ہیں۔ سوال ہمارے بڑوں کا ہے جن کے ہاتھ میں قدرت نے ہمارا ملک دے دیا ہے کہ وہ کس قدر ذمے داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ ذرا غور کریں کہ پاکستان کی آبادیوں میں جو سب کی سب گنجان بھی ہیں اگر ڈرون گر جائے تو کیا ہو گا۔ ہمارا تو دنیا بھر میں کوئی دست و بازو بھی نہیں ہے اور آج کے دور میں ہر ایک کو اپنی اپنی فکر لاحق رہتی ہے سوائے ہمارے۔ اب اس سچ کو تسلیم کر لیں کہ ہمارا ملک براہ راست زبردست خطرے میں ہے اور ہم عوام کے پاس تو پاکستان سے باہر خدا کی زمین پر ایک انچ بھی ایسا نہیں جہاں ہم پناہ لے سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچائے اور ہمیں اپنے دشمنوں سے بچنے کی توفیق بھی عطا کرے۔

مقبول خبریں