نوابشاہ ٹنڈوالہیار کی حلقہ بندی کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ کالعدم

درخواست گزاروں کے اعتراضات سن کر دوبارہ فیصلہ کیا جائے، 2 رکنی بینچ سندھ ہائیکورٹ


Staff Reporter December 08, 2013
حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانے کیلیے بنیادی اصول پامال کردیے گئے،پٹیشنرز کا موقف۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس صادق حسین بھٹی پر مشتمل دورکنی بینچ نے ضلع بینظیرآباد اورٹنڈو الہیار کی حلقہ بندی کیخلاف دائر درخواستوں پراپیلٹ ٹریبونل/کمشنر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی،درخواست گزاروں کے اعتراضات سن کر دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔

ٹندو الہیار سے درخواست گزارحق نواز اور عبدالکریم نے جبکہ بینظیرآباد( نوابشاہ) سے عبدالرشیدنے اپنی درخواستوں میں غیر منصفانہ بنیادوں پرحلقہ بندی کو چیلنج کیا ہے ،درخواست گزار وں نے موقف اختیارکیاکہ حکومت نے جن افسروں کو حلقہ بندیوں کیلیے تعینات کیاہے انھوں نے عوامی آراکوتوجہ دیے بغیریک طرفہ طورپرمن مانی حلقہ بندیوں کی سفارش کی اور عوام کی جانب سے جواعتراضات دائرکیے گئے تھے ان کی سماعت نہیں کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے یاورفاروقی اور عرفان میمن ایڈووکیٹس نے موقف اختیارکیاکہ حلقہ بندیوںکیلیے آبادی،معیار،محل وقوع ، جغرافیائی وحدت اور جیسے اصول محض اس لیے پامال کردیے گئے کہ حکمران پارٹی کے نمائندوںکو فائدہ پہنچایاجاسکے جو کہ ایس ایل جی ایکٹ 2013کے دفعہ 13اور 153Aکی انتہائی خلاف ورزی ہے۔



درخواست گزاروں کے مطابق دیہی اور شہری علاقوں کوشامل کرنے کی اشاعت نہیں کی گئی ، 30تا 40ہزار ایکڑ دیہی زمین نوابشاہ کے شہری وارڈز میں شامل کردی گئی اورمقامی لوگوں کے اعتراضات کو نظرانداز کردیاگیا،ایسے اقدامات کو دنیا بھر میں دھاندلی کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ دیہی وارڈز اور شہری وارڈز کی تقسیم میں آبادی کے بھی مختلف اصول لاگو کیے گئے،حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید پیش ہوئے ، فاضل بینچ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعداپیلیٹ ٹریبونل/کمشنر کے فیصلے کالعدم قراردیے اورہدایت جاری کی کہ تمام فریقین کے اعتراضات کومدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ حلقہ بندی کاعمل کیاجائے،عدالتی فیصلے میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کی دفعات 13اور 153کا تفصیلی جائزہ لیاگیا اور قراردیاگیا کہ حلقہ بندی کیلیے یہ بنیادی قوانین ہیں۔

مقبول خبریں