لاپتہ افراد کیس ایف سی کے اہلکاروں کو تفتیش کیلیے پیش کیا جائے سپریم کورٹ

تمام افرادکی بازیابی یقینی بنائی جائے،حکومت ورثاکی مشکلات کااحساس کرے،قائم مقام آئی جی کاتقرر3روز میں کیا جائے، عدالت


عرفان قادراور ججز میں تلخ کلامی، آپ نے نامناسب رویے کو وتیرہ بنا لیا، لائسنس معطل ہوسکتا ہے، عدالت، آپ منسوخ کردیں، وکیل ۔ فوٹو : ایکسپریس/ فائل

KARACHI: سپریم کورٹ نے قائم مقام آئی جی ایف سی کو حکم دیا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں ملوث ایف سی اہلکاروں کو تفتیش کیلیے ڈی آئی جی سی آئی ڈی کے سامنے پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے سماعت کے دوران قرار دیا کہ ایف سی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اس موقع پر سیکریٹری داخلہ پیش ہوئے اور کہا کہ آئی جی ایف سی نے رخصت نہیں لی، بیماری کی صورت میں رخصت لینے کی روایت نہیں، اس موقف کو عدالت نے تسلیم نہیں کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ ایف سی براہ راست وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔ عدالت اور آئی جی ایف سی کے وکیل عرفان قادرمیں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، عرفان قادر نے الزام عائد کیا کہ عدالت نے ذہن بنا رکھا ہے، انھیں سنا نہیں جا رہا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عرفان قادر نے عدالت کے سامنے نامناسب رویے کو وتیرہ بنایا ہوا ہے جس پر ان کا لائسنس منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے عرفان قادر کو معذرت کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور کہا کہ وہ صرف شفاف ٹرائل چاہتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق عرفان قادر نے کہاکہ خبرآئی ہے کہ ایک عدالتی ستارہ غروب اور سیاسی ستارہ ابھر رہا ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ آپ میرا لائسنس معطل نہیں منسوخ کردیں۔



عرفان قادر نے کہا کہ میں آئی جی ایف سی کا وکیل ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کا وکالت نامہ قبول نہیں کیا، نوٹس جاری کرنے پر مجبور نہ کریں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ جج ذاتیات پر نہیں آتے۔ قائم مقام آئی جی بریگیڈیئرخالد سلیم پیش ہوئے اور کہا کہ ان کے پاس کوئی لاپتہ شخص نہیں۔ عدالت نے ان کے لباس پر اعتراض کیا اور آبزرویشن دی کہ انھیں یونیفارم میں پیش ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ منتخب حکومت خود کو منوائے گی تو اس کی بات مانی جائے گی، آئی جی ایف سی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ملکر کوشش کریں، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بلوچستان میں ایف سی کمانڈ کے بغیر آپریٹ کررہی ہے، آئی جی ایف سی ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں، قانون کے مطابق بیماری کی صورت میں انھیں مجاز اتھارٹی سے رخصت لینا چاہیے تھی، ایف سی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، حکومت ایک منظم فورس کے سربراہ کو عدالتوں کا احترام بھی سکھائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگلی سماعت پر چیف سیکریٹری، آئی جی،آئی جی ایف سی اور ہوم سیکریٹری پیش ہوں اور وضاحت کریں کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر اب تک کیا کامیابی ملی اور اگر ناکامی ہوئی تو ذمے دار کون ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ آئی جی ایف سی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی مناسب وقت پر الگ سے کی جائے گی۔

مقبول خبریں