منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن

سرکاری مشینری کو چلانے والے دماغ اپنی بیڈگورننس کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر عام آدمی پر منتقل کررہے ہیں۔


Editorial November 10, 2021
سرکاری مشینری کو چلانے والے دماغ اپنی بیڈگورننس کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر عام آدمی پر منتقل کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم کی زیرصدارت اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول سے متعلق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ چینی کے تمام ذخیرے کو مارکیٹ میں لایا جائے اور 15نومبر سے پورے ملک میں گنے کی کرشنگ شروع کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کے سامنے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔

انھوں نے مزیدکہا کہ عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور چونکہ پاکستان درآمدی اشیاء پر انحصار کرتا ہے اس لیے اثرات مرتب ہو رہے ہیں تاہم حکومت غریب طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں تاخیر، خام تیل کی فی بیرل قیمت دوبارہ بڑھنے، مہنگی ایل این جی کے درآمدی معاہدے جیسے عوامل کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں روپیہ پھر دباؤ کا شکار ہوگیا، جب کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے۔

بلاشبہ وزیراعظم مہنگائی پر قابوپانے کی دلی خواہش رکھتے ہیں اور اس ضمن میں وہ تواتر سے مختلف فورمز پر اظہارخیال بھی کرتے رہتے ہیں ، لیکن ان کی تقاریر اور اقدامات کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری مشینری کو چلانے والے دماغ اپنی بیڈگورننس کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر عام آدمی پر منتقل کررہے ہیں ۔

پاکستان میں عام طور پر امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کو مہنگائی بڑھنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، کسی حد تک یہ بات درست نظر آتی ہے لیکن حکومت کے اکنامک منیجرز کی ترجیحات کچھ اور ہیں، وہ صرف آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں،اسی لیے عام آدمی اس وقت سب سے زیادہ پریشان ہے ،دوسری جانب اقتصادی ماہرین موجودہ صورتحال کے بارے میں کہتے ہیں کہ کورونا کیسز میں کمی کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے مختلف اشیا کی طلب بڑھ رہی ہے۔

طلب بڑھنے کے نتیجے میں درآمدات بڑھ رہی ہیں، جس سے روپے پر دباؤ ہے، کیونکہ درآمد کنندہ درآمدی مال کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھول رہے ہیں، انھیں ڈالر کی ضرورت ہے اور مارکیٹ میں ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔مہنگائی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل، گیس، کوئلے، گندم سمیت بیشتر اجناس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جب حکومت مہنگی اشیا درآمد کریں گے تو ظاہریہاں بھی مہنگائی بڑھے گی۔

حالیہ تین ہفتوں کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کی معاشی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، تاہم دوسری جانب حکومت کی معاشی ٹیم کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک بھی بار بار دہراتے ہیں کہ ایکس چینج ریٹ مارکیٹ کے مطابق ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں کرنسی کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ پانچ سو ڈالر کی خرید وفروخت کے وقت بائیومیٹرک تصدیق لازمی کی جائے، افغانستان کی غیریقینی کی صورتحال بھی معیشت پر انداز ہو رہی ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت نے مہنگی ایل این جی خریدی ہے، بظاہر تو حکومت اظہارکرتی نظر آتی ہے کہ اسے احساس ہے مہنگائی کا ، مگر عملی طور پر سب کچھ پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق ہورہا ہے ۔ آئی ایم ایف کے پلے پڑے ہیں تو عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ پٹرول دو ماہ میں بڑھ کر 145روپے لیٹر تک آ پہنچا، روپے کی قدر ابھی تک ڈانواں ڈول ہے اور ڈالر سے فری اسٹائل کشتی جاری ہے جب کہ تاجروں اور صنعتکاروں نے واضح کیا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے اشیائے صرف کی پیدواری لاگت بڑھے گی۔

مشیر وزیر خزانہ سمیت رات دن تقریریں اور ٹاک شوز کرنے والوں کو بھی اس کا علم ہے لیکن اپنی اپنی مجبوری ہے۔ پیدواری لاگت بڑھنے سے قیمتیں کہاں بر قرار رہیں گی؟ بجٹ میں لگے خفیہ ٹیکس اپنا رنگ دکھا رہے ہیں۔ فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے مالکان نے ایڈوانس ٹیکس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ دواؤں کی قلت کا خدشہ ہے۔ ایسے میں دوائیں مہنگی ہوں گی پہلے ہی ساڑھے 3 سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

عوام کی قوت خرید اوربرداشت دونوں جواب دے گئی ہیں اور وہ سچ میں گھبرانے لگے ہیں، گھبرا رہے ہیں۔ گھبراہٹ بڑھ گئی تو سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ تنکوں کی سرکشی سر چڑھ کر بولنے لگے تو انھیں شعلہ بننے سے کوئی نہ روک سکے گا۔ اس ہولناک منظر نامہ کے باوجود لوگ اپنے گرد مضبوط حصار کھینچے مطمئن بیٹھے ہیں ،تعجب ہے۔

ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہورہے ہیں۔ ایک جانب کورونا وائرس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے تو دوسری طرف مافیا نے اشیاء خورونوش اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کو نا جائز طور پر ذخیرہ کر کے مصنوعی بحران پیدا کر د یا ہے جس سے ایک جانب عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہو ئی ہے تو دوسری طرف ملک میں آٹے،چینی، گھی، تیل، سبزیاں، گوشت اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتو ں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

اکثر ملازمین کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں، انھیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی چینی اورکبھی آٹے کا بحران پیدا کرکے ان کی قیمتوں کوبڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بجلی،گیس اور پٹرول کی قیمتیںآسمان سے باتیں کر نے لگ جاتی ہیںجس سے غریب عوام ذہنی طور پر مفلوج ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی کے ذرایع انتہائی محدود ہیں۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے مڈل کلاس بہت تیزی سے ختم ہورہی ہے ، حکومت مہنگائی اور غربت کے خاتمے کے لیے سوائے زبانی جمع خرچ یا بیانات دینے کے عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی ہے ۔

پبلک ٹرانسپورٹرزکی جانب سے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی طفل تسلیاں سمجھ سے باہر ہیں، چار فصلوں کی ریکارڈ پیداوار کی نوید سنائی جارہی ہے ،تب بھی اجناس کی مہنگائی میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، وفاقی بجٹ سے پہلے شوکت ترین کی یقین دہانیاں کہاں گئیں کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔97 فیصد عوام یوٹیلٹی اسٹورزتک رسائی نہیں رکھتے، کیونکہ ملک کی آبادی کے تناسب سے ان اسٹورز کی تعداد انتہائی کم ہے۔

لہٰذا عوام ان اسٹورز کا رخ نہیں کر پاتے ۔ ہر دوسرے تیسرے دن چین کی بے پناہ ترقی کی مثالیں دی جاتی ہیں، یورپ میں انصاف پر مبنی نظام کی تعریف سننے کو ملتی ہے لیکن کبھی کسی منصوبہ ساز نے سوچا کہ اس کے لیے عزم مصمم، واضح ویژن اور مضبوط با کردار ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تینوں غائب، عزم مصمم کو این آر او لے گئے۔ مافیاز نے سارے کس بل نکال دیے، بارہا بے چارگی کا اظہار، یہ سب کچھ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

درحقیقت ڈالر کی قیمت میں استحکام اسی وقت ممکن ہے کہ جب پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو، درآمدات میں کمی ہو، لگژری گاڑیوں سمیت تمام غیرضروری اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافہ کردیا جائے تاکہ بے جا درآمدات کا سلسلہ کم ہو، گوکہ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں 114 اشیاء کی درآمد پر سو فیصد کیش مارجن کی شرط عائد کی ہے، لیکن یہ کافی نہیں، وزارت تجارت کو بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

موجودہ صورت حال میں ہمیں تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ درآمدی بل میں اضافہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرے ۔

خلق خدا اس مہنگائی کے ہاتھوں شدید کرب ، اذیت ،تکلیف اور مشکلات کا شکار ہے، حکومت کو فہم وفراست اور تدبر کو بروئے کار لاتے ہوئے عملی طور پر ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے، جس سے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر نہ صرف قابو پایا جاسکے بلکہ ان منافع خور اور ذخیرہ اندوز مافیاز کے خلاف وفاق اور صوبوں کی سطح پر کریک ڈاؤن وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

مقبول خبریں