دہشت گردی کے ناسور سے نجات

انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں در آئی ہے


Editorial March 07, 2022
انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں در آئی ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: پشاور خودکش دھماکے کے مزید پانچ زخمی دم توڑ گئے، جس سے شہید ہونیوالے افراد کی تعداد 63ہوگئی ، پشاور میں مزید گیارہ افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی ، شہر میں دوسرے روز بھی سوگ کی کیفیت رہی ، تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پشاور میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث تینوں ملزمان کی شناخت ہوچکی ہے ، آیندہ ایک دو روز میں پولیس ملزموں تک پہنچ جائے گی ۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل ترین جنگ لڑی ہے ، ستر ہزار سے زائد قیمتی انسانی جانوں کی قربانی دی ہے ، ملک کا انفرا اسٹرکچر دہشت گردی کے واقعات کے سبب تباہ ہوا ، حالیہ کچھ ماہ سے دہشت گردانہ حملے اس وجہ سے بھی بڑھ گئے ہیں کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور انھوں نے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے بھی سخت موقف اپنایا ہوا ہے۔

دہشت گردی کے واقعات کا دوبارہ تسلسل سے رونما ہونا انتہائی فکر و پریشانی کی بات ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ماہ جنوری کے آخر میں آیندہ دو ماہ میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ملک میں دہشت گردی کی اس تازہ لہر پر قابو پانے کا یقین دلایا تھا ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا ۔ یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ''بیرونی ہاتھ'' کا ہمیشہ سے کردار رہا ہے، لیکن اس بیرونی ہاتھ کو سہولت کار اور ''آپریٹو'' ملک کے اندر سے ہی ملتے ہیں۔ دہشت گرد حملہ کرنے سے پہلے شہری علاقوں میں کئی کئی روز قیام کرتے ہیں۔

کوئی پراپرٹی ڈیلر کمیشن کے لالچ میں اور کوئی نہ کوئی مالک مکان چند سو روپے زیادہ کرایہ کے لالچ میں بغیر تحقیق کیے ان ملک دشمن عناصر کو اپنا مہمان بنا لیتا ہے۔ شاید ہمارے خیال میں یہ جنگ یا تو پولیس اور ایجنسیوں کی ذمے داری ہے یا فوج کی۔ ان کی ذمے داری اپنی جگہ لیکن جب تک ہم میں یہ احساس پیدا نہیں ہو گا کہ یہ جنگ اس ملک کے بچے بچے کی جنگ ہے اور ہم سب کو یہ جنگ جیتنے کے لیے ہر سطح پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ہمیں مکمل کامیابی نہیں ملے گی۔

نجانے کب تک ہم معاملات کو سطحی انداز اور مخصوص دائروں میں رہ کر دیکھتے رہیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم دل خراش واقعات کے رونما ہونے کے بعد ان کا نوحہ لکھتے ہیں اور معاملہ ختم.... اسباب و محرکات پر غور کرنے کی یا تو ہمیں فرصت نہیں یا پھر الجھے معاملات کو سلجھانے کے لیے جو فہم و فراست درکار ہوتی ہے، وہ ہم سے رخصت ہو چکی، معاشرے کے سکون کو تہہ و بالا کرنے میں دہشت گردی کا کردار کلیدی ہے۔

اس ناسور سے نجات حاصل کرنے کے لیے حکومت اور ادارے بھرپور کوشش کر رہے ہیں ، مگر دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہو جائے حکومتی حکام اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی کمر توڑ کر دم لیں گے، لیکن ابھی تک یہ کمر نہیں ٹوٹی۔ اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کا کارن انتہا پسندی ہے اور یہ انتہا پسندی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کیے جا رہی ہے۔

مذہبی انتہا پسندوں نے معاشرے میں تصادم کی فضا کوبڑھاوا دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد برپا ہونے والی جنگ برائے انسداد دہشت گردی کی بدولت جہاں ہم نے ستر ہزار انسانی جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے، وہاں ہم نے اعتدال و برداشت کا راستہ بھی کھو دیا ہے۔

آج ایک طرف انتہا پسند ہیں جو اسلام کے نام پر معصوم و نہتے لوگوں پر بربریت کے پہاڑ توڑ رہے ہیں تو دوسری جانب ہمیں اس بات کو بھی ذہن نشین کرنا ہو گا کہ انتہا پسندی معاشرے کے تمام طبقات میں سرایت کر چکی ہے۔ معاشرتی ناہمواری، انصاف کی عدم فراہمی اور انتہا درجے کی بیروزگاری وہ چند عوامل ہیں جو انتہا پسندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، چلیے انتہا پسندی کو ہی لیجیے آج انتہا پسند جس آگ سے معاشرے کو بھسم کرنے کے درپے ہیں۔

اِس کے لیے ایندھن کہاں سے فراہم ہو رہا ہے؟ جب تک دہشت گردی کو جنم دینے والی وجوہات باقی رہیں گی، یہ مسئلہ بھی باقی رہے گا۔ سب سے پہلے غربت اور بے روزگاری۔ ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ غربت سے تنگ آ کر کسی نے خود کشی کر لی جو بھوک اور غربت سے تنگ آ کر اپنی جان لے سکتا ہے اسے کسی اور کی جان لینے پر بھی اکسایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کھلونا بنتے ہیں۔

بنیادی ضروریات تو بہت دور کی بات ہے، ہمارے ملک کی آبادی کے بڑے حصے کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی خوراک بھی پورا سال میسر نہیں ہوتی۔ عالمی ادارے ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں، ''فوڈ سیکیورٹی''، جس کا مطلب ہے کسی علاقے کی آبادی کو صحتمند رہنے کے لیے ضروری خوراک سارا سال میسر رہے۔ ''ورلڈ فوڈ پروگرام'' کے مطابق پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ''فوڈ ان سیکیورٹی'' کا شکار ہے اور پاکستان کے 12 اضلاع خوراک کی شدید کمی (ایمرجنسی لیول سے بھی زیادہ)، 35 اضلاع ''ہائی لیول'' کی خوراک کی کمی، اور باقی ماندہ پاکستان بھی درمیانہ لیول کی ''فوڈ ان سیکیورٹی'' کا شکار ہے۔

نصف پنجاب، کراچی اور کوئٹہ کو چھوڑ کر اکثر علاقوں کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ خوراک کی شدید ترین کمی کا شکار علاقوں میں تھرپارکر، نارتھ وزیرستان، ساؤتھ وزیرستان، اورکزئی ایجنسی، ڈیرہ اسماعیل خان اور فاٹا کے علاقے بھی شامل ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے بچوں کو پیسوں کے لالچ میں انسان دشمن عناصر کے حوالے کر دیتے ہیں کہ ان بچوں کو دو وقت کی روٹی مفت مل جائے گی ۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ انتہا پسندی کو فروغ دینے میں ہماری خستہ حال معیشت کا کردار بنیادی ہے جس معاشرے میں غربت کی لکیر (یومیہ آمدن2امریکی ڈالر سے کم) سے نیچے زندگی بسر کرنے والے آبادی کا 28 فیصد ہوں، وہاں نچلے و نچلے متوسط طبقات کے لیے کہاں ممکن ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وسائل فراہم کریں؟ اس لیے غریب والدین اپنے بچوں کو روایتی تعلیم دلوانے کی غرض سے مدارس میں داخل کروا دیتے ہیں، جہاں ان بچوں کو کھانا و رہائش مفت فراہم کیا جاتا ہے۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ ملک کے دینی مدارس دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے این جی اوز کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں، لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیںکرنی چاہیے کہ انتہا پسندی کے فروغ اور انتہا پسندوں کو افرادی قوت کی فراہمی میں بھی کچھ عناصر ملوث رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مساجد و مدارس پر حکومت کی سخت نظر ہوتی ہے اور دنیا کے اکثر اسلامی ممالک میں کوئی بھی مسجد و مدرسہ تعمیر کرنے سے پہلے حکومت کی جانب سے این او سی درکار ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔

انتہا پسندی کے فروغ میں مذہبی منافرت نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی بدولت ہزاروں افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ مسلکی اختلافات دُنیا کے تمام مذاہب اور معاشروں میں پائے جاتے ہیں لیکن مسلک کے حوالے سے جو شدت ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے (یا پیدا کر دی گئی ہے مخصوص عناصر کی جانب سے) شاید ہی کہیں اور ہو، ہم شاید اس حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ دُنیا گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے۔

یورپ کی وہ اقوام جو برسوں ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار رہیں آج باہم شیرو شکر ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ2012 میں امن کا نوبل انعام یورپی یونین کو دیا گیا اس لیے کہ یورپی اقوام نے دوسری جنگ عظیم کے بعد خطے کے امن کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی پُر امن بنانے کے لیے کاوشیں کیں۔

انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں در آئی ہے۔ ہم اپنے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والوںکو برداشت نہیں کرتے ہیں۔ درحقیقت یہی وہ فرسٹریشن ہے جس نے معاشرے کی ایک تعداد کو اپنا شکار بنا رکھا ہے چونکہ نوجوانوں کی اکثریت (معاشرے کی اکثریت بھی) استحصال کا شکار ہے اور جب کسی نے انھیں تبدیلی کا خواب دکھایا اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ان کی قوت کو بروئے کار لانا چاہا تو اس قوت کے احساس نے ان نوجوانوں کو بھی فاشزم کی جانب دھکیل دیا۔

ہم اگر انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو غربت اور بیروزگاری جیسے عفریتوں کو شکست دینا ہو گی، صحت اور انصاف کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا ہو گا اور نوجوانوں کو شدت پسندوں کا ہتھیار بننے سے روکنا ہو گا۔

مقبول خبریں