بڑھتی ہوئی مہنگائیعوام ریلیف کے منتظر

ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جس سے ملک معاشی طور پرخود کفیل ہو،ملکی اورغیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے نجات حاصل کرسکے


Editorial March 12, 2022
ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جس سے ملک معاشی طور پرخود کفیل ہو،ملکی اورغیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے نجات حاصل کرسکے۔ فوٹو : فائل

اس وقت ملکی سیاسی منظرنامے میں اپوزیشن کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ماحول کافی گرم ہے' اپوزیشن نے منگل 8مارچ کو تحریک عدم اعتماد اور ساتھ ہی قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی۔

حکومت اور اپوزیشن ہر دو فریق اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ہم خیال ارکان کو ایوان میں لاکر مطلوبہ تعداد 172سے زائد ووٹ لیں گے دوسری جانب حکومت کو اپنی کامیابی کی امید ہے۔ ریکوزیشن جمع کرانے کے14دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا لازم ہے۔

اجلاس بلانے کی آخری تاریخ 22مارچ بنتی ہے۔ رولز کے مطابق عدم اعتماد کی قرار داد کا نوٹس موصول ہونے کے بعد سیکریٹری ارکان کو نوٹس ارسال کرے گا۔ ہر دو فریقین کے کامیابی کے دعوے اپنی جگہ مگر اصل صورت حال تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بعد ہی واضح ہو گی۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف جس ایشو کو سیاسی طور پر سب سے زیادہ استعمال کر رہی ہیں وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ حکومتی وزراء بھی اپنے بیانات میں مہنگائی کا اعتراف کر رہے ہیں۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کے لیے گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک میں مہنگائی میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اقتصادی پالیسیوں میں ملک کے طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے اور اس کے اثرات براہ راست غریب عوام پر پڑتے ہیں، ملک میں اقتصادی پالیسیاں ایسی بنائی جا رہی ہیں کہ اس میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جارہا ،ملک کے طاقتور طبقے اپنے مفادات کو ان پالیسیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔

یہ طبقے قومی دولت لوٹتے ، قرضے لیتے اور بعد میں پارلیمان میں اپنے ان قرضوں کو معاف کروا لیتے اور اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کار، مزدور اور کاریگر سب پریشان ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جتنا سرمایہ اور محنت وہ لگاتے ہیں اتنا اس کا منافع حاصل نہیں ہوتا لہٰذا وہ کسی اور ذریعہ سے پیسہ کمانے کا سوچنے لگتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر شخص پریشان ہے، اسی طرح روپے کی قدر میں تیزی سے ہوتی کمی اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک میں حالیہ عرصے کے دوران اشیا کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ دیکھا گیا۔

حکومتی وزرا مہنگائی کے حوالے سے اپنی پریس کانفرنسوں میں دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان اب بھی دیگر ممالک کے مقابل سستا ملک ہے ، لیکن عام لوگ کیا کریں، کہاں جائیں؟ کس دروازے پر دستک دیں۔حکومت نے چینی پر کمیشن بٹھایا، بہت دعوے ہوئے، کسی ایک کا بھی محاسبہ نہیں ہوا اور چینی کی قیمت بڑھتی ہی چلی گئی۔ گندم اسکینڈل پر کمیٹی بنی، رپورٹ آئی،کسی کا محاسبہ نہیں ہوا اور آٹا عوام کی پہنچ سے دور ہوتا چلا گیا۔ ایل این جی پہ کمیٹی بنی۔پتہ نہیں اس کا کیا بنا لیکن بجلی کی قیمت بڑھتی ہی چلی گئی۔

اب تو اتنے بھاری بل آرہے ہیں کہ اچھی خاصی آمدنی رکھنے والوں کے لیے بھی ان کی ادائیگی مشکل ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر کمیٹی بنی، کوئی فرق نہ پڑا۔ اس دوران بے روزگاری کا سیلاب بھی بے قابو ہو چکا ہے۔

عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق روزگار کے قابل 70 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، آپ انھیں ستر لاکھ کا خاندان سمجھیں۔ ان بے روزگاروں میں 12 فی صد وہ نوجوان ہیں جن کی عمریں بیس اور چوبیس سال کے درمیان ہیں۔ گزشتہ سال جاری ہونے والی عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 40 فیصد پاکستانی، اس کے معیار کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں یعنی ان کی تعداد آٹھ کروڑ سے زائد ہے، گزشتہ حکومت کے دنوں میں یہ شرح 25 فیصد کے لگ بھگ تھی۔

ہر طرف آٹا،چینی اور دوسری ضروریات زندگی نے غریب عوام کا بھرکس نکال دیا ہے، عوام کی زبان پر بس ایک ہی لفظ ہے مہنگائی مہنگائی۔ ہمارا ملک جو ایک زرعی ملک کہلاتا ہے،جس کا دارومدار زراعت پر ہے، لیکن اس ملک کی زرعی پیداوار اتنی بھی نہیں ہے کہ عوام کی غذائی ضروریات پوری ہوسکیں، دوسری جانب ہماری زرعی پیداوار کا ایک بڑا حصہ افغانستان اسمگل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں اشیائے خورونوش کی قلت ملک میں پیدا ہوجاتی ہے اور مہنگائی بڑھتی ہے۔

ہمارے پاس دنیا کا بہترین نہری نظام اور زرخیز ترین زمین ہے، لیکن مقام افسوس ہے کہ کوئی بھی حکومت ایک کامیاب زرعی پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے ، کیونکہ حکومت سرے سے زراعت کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔

ملکی اقتصادیات کو ہولناک بحران کا سامنا ہے، معاشی مسیحائوں کو مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے پیدا شدہ مسائل کے مجتمع طوفانوں نے بوکھلا دیا ہے، معیشت ایک بے پتوار سفینہ کی طرح منزل کی تلاش میں ہے، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ کوئی سانحہ رونما ہوئے بغیر معاشی مسائل کا کوئی صائب حل نکلے مگر معیشت کو جہاندیدہ اور تجربہ کار معاشی ماہرین ہی کی ضرورت ہے جب کہ معاشی چارہ گروں نے جتنے بھی اقدامات اور پالیسی ساز فیصلے کیے ہیں۔

ان کے نتیجہ میں صائب پیداواری نتائج نہیں نکلے، معیشت کو اعصاب شکن چیلنجز درپیش ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاست دان اور اقتصادی ماہرین آئی ایم ایف کو مطعون کر رہے ہیں لیکن حقیقت اور ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا جائے تو عالمی مالیاتی ادارہ کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ عالمی معیشت کو کسی بھی سانحہ اور سقوط سے دوچار نہ ہونے دے، مالیاتی فنڈ حکومت کے پاس پروگرام دینے خود نہیں آئی۔

حکومت خود لیت ولعل کے بعد آئی ایم ایف سے رابطہ پر مجبور ہوئی اور آج اگر آئی ایم ایف اپنی شرائط منوانے پرزور دے رہا ہے تو اس کی بھی ایک صائب وجہ ہے، مالیاتی ادارہ حکومت سے اپنے تحفظات پر کوئی گارنٹی چاہتا ہے، اسے ایک واضح یقین دہانی چاہیے کہ حکومت جو قرضے مانگ رہی ہے وہ واپس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں، آئی ایم ایف نے حکومت سے آمدنی کے حصول کے کئی آپشنز مانگے، ملکی سلامتی کے ادارہ، بیوروکریسی اور حکومتی غیر پیداواری مراعات میں کٹوتی سے بچت کرنے پر مالیاتی فنڈ کا اصرار درست تھا، جب حکومت کسی قسم کی جائز کٹوتی پر تیار نہیں ہوتی تو آئی ایم ایف کے پاس یہی آپشن ہے کہ وہ حکومت سے کہے کہ پھر آپ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں، آپ عوام کو مزید زیر بار کرتے ہیں۔

کیونکہ فیصلہ سازوں اور معاشی مسیحائوں کے پاس عوام کو دینے کے لیے کوئی امید افزا پروگرام نہیں، کوئی پالیسی نہیں، چارہ گروں کے پاس حقیقت میں معیشت کے استحکام کا کوئی ٹھوس و موثر منصوبہ نہیں ہے، وہ اندھیرے میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں، اور سارا الزام آئی ایم ایف کو دیتے ہیں، جو عالمی معیشت اور حکومتوں کے مالیاتی سسٹم کا نگران ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت اکانومی کو مستحکم کرنے کی کوئی پالیسی بنائے، خود کفیل ہو جائے تاکہ آئی ایم ایف کی محتاجی ختم ہو جائے۔ لیکن حکومتی قرضوں کے بوجھ تلے ملک دب چکا ہے اور بوجھستان بن گیا ہے۔

بلاشبہ پاکستان میں مہنگائی کی چار بنیادی وجوہات ہیں جن میں رسد کے مسائل، حکومت کی جانب سے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس وقت حکومت کو جو سب سے بڑا عوامی مسئلہ درپیش ہے، وہ مہنگائی اور گرانی کا کوہِ گراں ہے جو بارہا کوششوں کے باوجود نہ صرف یہ کہ اپنی جگہ پرقائم ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ مشاہدے میں آرہا ہے۔ اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خور ونوش جیسے گندم، آٹا، گھی، چینی کی قیمتوں کو تو جیسے پر لگے ہوئے ہیں۔

ان میں اضافہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ملک میں سیاسی عدمِ استحکام کی وجہ سے زندگی کا ہر شعبہ جمود کا شکار ہے۔ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہماری معیشت مضبوط ہے تو پھر غیر ملکی قرضوں کا بار بار حصول کیوں؟

مہنگائی کے اس طوفان کے باوجود حکومتی وزراء اور خود وزیراعظم مسلسل یہ دعوے کر رہے ہیں کہ دنیا اور خاص کر اس خطے کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی نسبتاً کم ہے۔ ان کی یہ منطق اور دعوے سمجھ سے بالا تر ہیں۔سابق حکومتوں میں بھی عوام مہنگائی سے تنگ رہے اور اس پر احتجاج بھی کرتے رہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جس سے ملک معاشی طور پر خود کفیل ہو، ملکی اور غیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے نجات حاصل کرسکے۔

مقبول خبریں