دہشت گردی کیخلاف جنگ پر مؤقف نہیں بدلا آپریشن پر تکلیف ہے عمران خان

محسود، وزیر قبائل مذاکرات پر تیار ہیں، بات چیت نہ چاہنے والے افغانستان میں ہیں


جھنگ:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین چنڈ بھروانہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق میرا موقف تبدیل نہیں ہوا، نواز شریف کو ہی سمجھ نہیں آیا، آپریشن پر بڑی تکلیف ہے، محسوداور وزیرقبائل مذاکرات پر تیار ہیں۔

اچھا ہوا نجم سیٹھی نے 35 پنکچرزکے حوالے سے لیگل نوٹس بھجوایا۔ ہم تو 4حلقوں کی بات کر رہے تھے۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرم ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگومیں انھوں نے کہاکہ وزیراعظم نے جنرل کیانی کی موجودگی میں مجھے کہاکہ آرمی چیف کہتے ہیں کہ آپریشن کی کامیابی کے 40فیصد امکانات ہیں۔ میراشروع سے موقف رہا ہے کہ پہلے ڈائیلاگ کریں۔ اسے جتنا وقت دیں گے، مذاکرات نہ چاہنے والے سامنے آجائیںگے۔ طالبان کے قریباً 50 گروپ ہیں۔ سب کے خلاف آپریشن کامطلب سب کودشمن بنانا ہے۔ اصل لڑنے والے محسود اور وزیر قبائل ہیں جو مذاکرات پر تیار ہیں۔ وزیرستان والوں نے القاعدہ ارکان، فوج کے حوالے کیے۔ بات چیت نہ چاہنے والے مولوی فضل اللہ اورمہمند قبائل کی قیادت افغانستان میںبیٹھی ہے۔ طالبان میں ایسے عناصربھی ہیں جنھیں باہرسے پیسہ مل رہا ہے۔

شیعہ سنی کو لڑانے کی سازش عالمی ہے۔ ہم نے امریکی دباؤ اور ڈالروں کے لیے فوج وزیرستان بھیج دی۔ آپریشن 2004میں شروع ہوا جبکہ ٹی ٹی پی2007میں سامنے آئی۔ اب تک 6ہزار آپریشن ہوچکے ہیں جن میں 200 بڑے آپریشن شامل ہیں۔ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں بڑے آپریشن سے سارے مسائل حل ہو جائیںگے جبکہ خودکش حملوں کاکوئی توڑنہیں ہے۔ ہمیں امریکی جنگ سے نکلنا ہوگا۔ عمران خان نے کہا 5برسوں میں ڈرون حملوں میں صرف 47 شدت پسند مرے جبکہ 15سوعام لوگ جاں بحق ہوئے۔ میں نے مشرقی پاکستان اپنی آنکھوں کے سامنے جاتے دیکھا، بلوچستان میں 3 آپریشن کیے گئے۔ اکبربگٹی کو مار ڈالا۔ کارگل پر چڑھ دوڑے۔ امریکی نوازلابی ڈرارہی ہے کہ طالبان پورے ملک پر قبضہ کر لیں گے، وہ کیسے ایسا کر سکتے ہیں، شریعت کا نفاذ ان کا مطالبہ نہیں کیونکہ قبائلی علاقوں میں پہلے ہی شرعی نظام نافذ ہے۔ اصل میں طالبان میں بھی اور ادھر بھی کچھ فورسز بیٹھی ہیں جو انتشار چاہتی ہیں۔

ڈائیلاگ نہ چاہنے والے عناصرکامیاب ہونے جا رہے ہیں۔ مجھے آپریشن پر بڑی تکلیف ہے۔ وزیرستان میں صرف 15،20 ہزار جنگجو ہیں جبکہ ساڑھے 6 لاکھ قبائلی ہیں۔ ذراسوچیں وزیرستان میں بمباری سے وہاں بچوں اور عورتوں پرکیاگزرے گی؟ آپریشن کی چیخ پکارکرنے والی پیپلزپارٹی، اے این پی اورایم کیوایم نے اپنے دورمیں ایسا کیوں نہیں کیا۔ عمران نے کہاکہ 35 پنکچرزکا میری چڑیا نے بتایا، فافن نے بھی اپنی رپورٹ میں اس کا ذکرکیا، اچھا ہوا نجم سیٹھی نے قانونی نوٹس بھجوایا، اس کاجواب جلددیںگے۔ عدالت کو کہیں گے کہ 35حلقوں کے نتائج دوبارہ چیک کرائیں، ہو سکتاہے اب ساری چیزیں سامنے آ جائیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 11مئی کے عام انتخابات میں ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی، سارا دن عوام نے بلے کوووٹ ڈالے لیکن شام کو جیت شیر گیا۔ گزشتہ 25سال میں ن لیگ نے پنجاب میں6 مرتبہ جبکہ مرکز میں 3بار حکومت بنائی ہے، 9 باریاں لے کر بھی اگر وہ عوام کی قسمت نہیں بدل سکتے تو اب کیسے بدلیں گے۔ جھنگ کے علاقہ چنڈ بھروآنہ میں ضمنی الیکشن کے حوالے سے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ن لیگ نے جیتنے کیلیے پنجاب میں35 پنکچرز لگائے لیکن ہم نے توصرف 4حلقوں میں دوبارہ گنتی کا کہا مگر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت کسی نے نہیں سنی۔ الیکشن ٹریبونل ری کاؤئنٹنگ کے آرڈر جاری کرتا ہے تو دھاندلی سے کامیاب ہونیوالے ن لیگ کے ایم این ایز ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے آتے ہیں۔

یہ جنگ ن لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ دونظریات کی جنگ ہے۔ اگر عوام تھانہ کلچر، پٹواری نظام، غریب کو غریب تراور امیر کو امیر تر کرنے والی معاشی پالیسی اور تھانے کچہری کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پی ٹی آئی کو کامیاب کرائیں۔ ملک پر اس وقت گینگ آف سیون کی حکومت ہے۔ طالبان سے مذاکرات یا ان کے خلاف آپریشن ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، سابق وزیرداخلہ فیصل صالح حیات اور حلقہ پی پی81 سے پی ٹی آئی کے امیدوار رائے تیمور حیات بھٹی نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں عمران خان دربار حضرت شاہ جیونہ گئے جہاں انھوں نے فیصل صالح حیات کے ہمراہ دربار پر چادر چڑھائی وہ فیصل صالح حیات کی رہائش گاہ پر بھی گئے جہاں پر انھوںنے اپنے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔

مقبول خبریں