تارڑ کا قلعہ جنگی
بڑے سے بڑا سانحہ چند دنوں میں پرانا ہو جاتا ہے، بھلا دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ قلعہ جنگی کے ساتھ ہوا۔
وہ 8 فروری 2014ء کا دن تھا جب کراچی کے ساحل پر کتابوں کا میلہ تھا، آنکھیں مشہور ادیبوں کی دید سے شاد ہو رہی تھیں۔ لبوں پر سمندری ہواؤں کے نمک کا ذائقہ تھا، میں گرم نان کے نوالے توڑتی تھی، جب مستنصر حسین تارڑ نے اپنا ناول ''قلعہ جنگی'' مجھے عنایت کیا اور میں نے کتابوں کے اپنے تھیلے میں اسے توشۂ خاص جان کر رکھ لیا۔ نام بہت جانا پہچانا تھا پھر اس کے ساتھ قندوز، مزار شریف اور شبرغان یاد آنے لگے۔ سالہا سال سے اخباروں، ٹیلی وژن چینلوں اور خبروں کی ترسیل کے دوسرے ذرائع سے واقعات کی یلغار کا وہ عالم ہے کہ بڑے سے بڑا سانحہ چند دنوں میں پرانا ہو جاتا ہے، بھلا دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ قلعہ جنگی کے ساتھ ہوا۔ شمالی افغانستان کے مشہور اور مقدس شہر مزار شریف سے کچھ فاصلے پر اٹھارویں صدی میں بنے ہوئے اس قلعے میں 25 نومبر سے یکم دسمبر 2001ء کے سات دنوں میں یہاں خون کے دریا بہہ گئے۔ دونوں طرف کلمہ گو، دونوں طرف شہیدوں کی قطار اور ان کی لاشوں کے انبار، ہوا یوں کہ قندوز میں شمالی اتحاد کے نام دار جنرل رشید دوستم کے سامنے حریف لڑاکوں نے ہتھیار ڈالے تو ان میں پاکستانی، افغان، عرب ، چیچن جنگجو سب ہی شامل تھے۔
پشت پر بندھے ہوئے ہاتھوں والے یہ قیدی قلعہ جنگی لائے گئے۔ ان سے تفتیش شروع ہوئی اور اسی دوران بعض قیدی جنھوں نے اپنی گھیردار شلواروں میں ابھی تک اسلحہ چھپا رکھا تھا انھوں نے پوچھ گچھ کی ذلت سے برافروختہ ہو کر کچھ ہینڈ گرینڈ اچھال دیے اور عین اسی وقت جوش ایمانی سے چھلکتے ہوئے کسی نوجوان نے قمیص میں چھپائی ہوئی کلاشنکوف کا برسٹ بھی مار دیا۔ لیجیے، آن کی آن میں بغاوت برپا ہو گئی۔ ایسی بغاوت کہ سات دنوں اور سات راتوں پر محیط تھی جس میں خون کے دریا بہہ گئے۔ چند سو سرپھروں کی یہ بغاوت جب کچلی نہ جا سکی تو جنرل رشید دوستم نے ''مائی باپ'' کو دہائی دی۔ وہ آئے اور انھوں نے بلندیوں سے چند ڈیزی کٹر گرائے اور چلے گئے۔ یہ مائی باپ بھی عجب سفاکانہ حسِ مزاح رکھتے ہیں۔ تجرباتی طور پر جاپان کے نہتے شہریوں پر ایٹم بم گرائیں تو اسے ''لٹل بوائے'' کا نام دیتے ہیں اور اگر ڈیزی کٹر، کا نام پڑھئے تو غالبؔ کا مصرعہ یاد آ جاتا ہے کہ ''موجِ خرامِ یار بھی کیا گُل کتر گئی'' یوں محسوس ہوتا ہے کہ پھولوں کے انبار ہیں اور محبوب کی دلبرانہ چہل قدمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ بم پھٹتا ہے تو ہر مربع انچ پر ایک ہزار پونڈ کا وزن ڈالتا ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ گرایا جاتا ہو گا اور پھٹتا ہو گا تو آبادیوں اور انسانوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ نیست و نابود ہو جانے کے ایسے مناظر جو انسانوں نے نہ پہلے دیکھے نہ سنے۔ اسی لیے اسے ''منی ایٹم بم'' کہتے ہیں۔
بات مستنصر صاحب کے ناول ''قلعہ جنگی'' کی ہو رہی تھی۔ اس میں انھوں نے ان سات دوستوں کا قصۂ درد لکھا ہے جن میں کوئی پاکستانی تھا، کوئی نو مسلم امریکی، عرب، افغان، چیچن، برطانوی۔ انھوں نے شہرت یافتہ وار لارڈ رشید دوستم کے سپاہیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے، پھر وہ قلعہ جنگی لائے گئے اور یہاں وہ بغاوت ہوئی جس نے سیکڑوں کو خاک میں ملا دیا۔ قلعہ جنگی کی وسعت میں سربریدہ لاشیں رہ گئیں۔ کٹے ہوئے بازو اور ٹکڑے ہوجانے والی ٹانگیں رہ گئیں۔ بس وہ سات ساتھی بچے تھے جو قلعہ کے تہ خانے میں جا چھپے تھے۔ ڈیزی کٹر اور کلسٹر بموں کے فولادی ٹکڑوں کو اپنے بدن میں سمیٹے ہوئے، اذیت کے جھولوں میں جھولتے ہوئے، بھوک اور پیاس کو اپنے معدوں اور حلق میں سمیٹے ہوئے، ہر خستہ تن دوسرے ستم رسیدہ کو تسلی دیتا ہوا۔ یہ ان لوگوں کی داستان درد ہے جن سے اکثریت نفرت کرتی ہے۔ دہشت گرد کہتی ہے لیکن معاملے کو ان کی نگاہوں سے بھی دیکھنا چاہیے اور یہ کام مستنصر صاحب نے بہت درد مندی سے کیا ہے۔ ان میں سے کوئی دولت و ثروت چھوڑ کر آیا ہے، کسی نے اپنی اعلیٰ تعلیم کو تہہ کر کے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا ہے، کوئی جہاد افغانستان کی کھیتی کاٹنے والے جرنیل کا بیٹا ہے اور کسی کی دادی کو چیچنا کے امام شامل نے بشارت دی تھی کہ وہ جائے اور راہ خدا میں اپنی جان دیدے۔ گھوڑا جو حلال نہیں، بھوک اس سے ان کا رشتہ قائم کرتی ہے اور وہ نو مسلم امریکی جو ایک خواب کی ڈور سے بندھا ہوا قندوز اور قلعہ جنگی چلا آیا تھا، بھوک جس کی انتڑیاں چباتی تھی لیکن وہ مرتے مرتے بھی گھوڑے کے پارچے سے توانائی کشید کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ گھوڑا میری ماں ہے میں اسے کیسے کھا سکتا ہوں۔ اور جب لحظہ لحظہ جان سے گزرتے ہوئے اس کے دوست اسے گھوڑے کا گوشت کھلانے پر مصر رہتے ہیں تو وہ چیخ پڑتا ہے۔ یہ ان کا صحیفہ الم ہے جو اپنی اپنی پُر آسائش دنیائیں ترک کر کے ایک عظیم برادری کے تصور سے بندھے ہوئے درد، اذیت، بھوک پیاس اور اپنی ہی غلاظت کی دلدل میں اتر گئے تھے اور پھر بھی انھیں پچھتاوا نہ تھا لیکن ان میں سے چند کے ذہنوں میں سوال اٹھتے تھے۔ آخر میں یہ سوال نو مسلم امریکی جانی کے ذہن میں اس کا ذاتی پونی اٹھاتا ہے۔
''میں اس پر سوار ایک ہرے بھرے وسیع میدان کے بیچ سے گزر رہا ہوں۔ اس کی پیٹھ تھپک رہا ہوں اور وہ مجھ سے کہتا ہے۔ جانی اپنے آئیڈیل کے حصول کے لیے تمہاری نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن تم نے ابھی تک ٹھنڈے دل سے سوچا نہیں... جذبات میں بھڑکتے ادھر آ نکلے ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم ان کا ساتھ دے کر جہالت اور پس ماندگی کو فروغ دے رہے ہو۔ بے شک وہ نیت کے کھرے اور شفاف لوگ ہیں لیکن تم جانتے ہو کہ وہ پتھر کے زمانے کا ایک سماج قائم کر رہے ہیں جس میں تعلیم یافتہ عورتیں کابل میں بھیک مانگ رہی ہیں۔ بیوائیں گھر بیٹھی بھوکی مر رہی ہیں۔ کھلاڑی نیکریں نہ پہنیں کہ ان کی ٹانگوں کو دیکھ کر ان کا ایمان ڈگمگانے لگتا ہے۔ ریڈیو، ٹیلیویژن سب سے بڑے شیطان ہیں۔ ایک افراتفری اور بربادی ہے۔ کیا یہی تمہارا تصور کامل ہے؟ یہ کیسا جہاد ہے جس میں تمہارے مقابلے پر بھی تمہارے ہی عقیدے کے لوگ ہیں۔ یہ تم کیا کر رہے ہو؟''
نزع کے عالم میں ایک کیفیت غربت کے مارے اس پاکستانی نوجوان پر گزرتی ہے جو کہتا ہے۔:
'' جناب عالی میں کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکلا اور مدرسے میں بھرتی ہو گیا۔ بڑی موج تھی۔ حیاتی میں پہلی بار تین وقت کی روٹی ملی۔ تین کپڑے اور چپل ملی۔ سونے کو چار پائی ملی اور ساتھ مفت میں دینی تعلیم بھی۔ میرے ساتھ جتنے تھے ان میں سے بیشتر مجھ ایسے ہی تھے۔ شہروں کے لڑکے بھی تھے جو اتنے غریب غربا تھے کہ اسکولوں کی فیسیں نہیں دے سکتے تھے۔ پر پڑھنے کا شوق تھا۔ یہاں تعلیم بھی ملتی تھی۔ کتابیں بھی ملتی تھیں اور سب سے بڑھ کر عزت ملتی تھی ورنہ شہر میں تو وہ بے عزت ہی رہتے تھے۔''
اس اللہ بخش جیسے ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان ہماری حکومتوں نے اس طرف دھکیل دیے جہاں انھیں تین وقت پیٹ بھر کر کھانا ملتا تھا۔ پہننے کو دُھلے ہوئے کپڑے، پیر میں چپل اور آرام کے لیے چار پائی ملتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انھیں تعلیم اور کتابیں ملتی تھیں۔ آج مدرسوں کو دہشت گردوں کا ٹھکانہ کہنے والوں سے کوئی پوچھے کہ صاف کپڑے، پیٹ بھر کھانا، تعلیم اور کتابیں کیا صرف ہمارے بچوں کا حق ہے؟ ماشکی، مالشیے اور مزارعے کے بچوں کو اگر وہ اپنے ساتھ لے گئے تو ان بچوں سے اور ان کے ماں باپ سے شکایت کا ہمیں کیا حق ہے؟ ہم نے اس ملک کے وسائل کی شہ رگ میں خوں آشام قبیلے کی طرح اپنے دانت اتار دیے اور ان کے لیے لہو کی بوند نہیں چھوڑی، جن کی مشقت نے ہمیں دولت میں قارون اور بے مہار طاقت میں فرعون بنا دیا۔ آج جب وار تھیٹر میں آخری کھیل کھیلا جا رہا ہے، سب سے بلند آہنگ سوال اللہ بخش کا ہے، ہزاروں لاکھوں، اللہ بخش گلوگیر آواز میں یہ سوال ہم سب سے کر رہے ہیں جو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں اور صبح و شام امن کی تسبیح گھماتے ہیں۔
مستنصر حسین خوش رہیں کہ انھوں نے ان کے درد کو بھی مصور کیا ہے جنھیں رد کر دیا گیا اور تمام ذمے داری ان کے شانوں پر دھر دی گئی۔ لیکن مستنصر صاحب آپ نے عبدالحمید خان واکر کو بھی قلعہ جنگی کے تہہ خانہ میں موت کے پروں پر بٹھا کر رخصت کیا ہے۔ وہ تو بچ گیا تھا، اسے سی این این کے ایک کیمرہ مین نے پہچان لیا تھا۔ وہ میڈیکل یونٹ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اس نیم مردہ کو رفو کیا، اسے توانائی دی اور جب وہ پھر سے زندگی کی طرف آیا تو اس پر ''غداری'' کا مقدمہ چلا اور اسے 20 برس کی قید ہوئی۔ وہ گوانتاناموبے بھیج دیا گیا جہاں اس وقت بھی وہ یہ قید کاٹتا ہے۔ شاید رہائی کے دن گنتا ہو اور شاید اس سے پہلے موت اسے رہائی دلانے آ پہنچے... آپ نے اسے ناول میں شاید اسی لیے مار دیا کہ موت اس عذاب اور اذیت سے بہتر ہے جس سے وہ گزر رہا ہے۔