مردہ سیاست دان زندگی کی تلاش میں
جناب قادری صاحب کسی انقلاب کا ذکر کرتے ہیں جس کے لیے وہ جدوجہد کر رہے ہیں لیکن اس انقلاب کی شکل
اپنے دوسرے وطن مالوف سے یعنی کینیڈا کے پاسپورٹ پر ملک کینیڈا سے اپنے پہلے وطن پاکستان کے لیے روانگی کا عزم کیا۔ یہ طاہر القادری ہیں جو 23 جون کی رات کو اسلام آباد پہنچے۔ برطانیہ دبئی اور مشرق وسطی کی ہواؤں سے گزر کر وہ ایک دھماکا بن کر پاکستان پر گرے اور دوسرے دن جب لاہور کے ایئرپورٹ پر مسلسل کھڑے جہاز سے نو گھنٹے کے بعد نیچے اترے تو وہ تازہ دم اور تازہ تقریر کے موڈ میں تھے۔
اس دوران انھوں نے قدم بہ قدم اور لفظ لفظ پر جو نئے نئے مطالبات پیش کیے اور پھر جس طرح ان مطالبات کی سیڑھی سے نیچے اترتے رہے یہ سب تعجب کا مقام تھا بلکہ پنجاب کی تہذیب و ثقافت کے لیے تعجب خیز اور اجنبی بھی تھا جب کہ قادری صاحب خود جھنگ کی گلی قصائیاں سے تعلق رکھتے ہیں اور پنجاب سے خوب واقف ہیں لیکن وہ اپنی مسلسل محنت اور مہارت اور خداداد ذہانت کی وجہ سے اب کسی دوسری دنیا کی مخلوق لگتے ہیں۔ مثلاً کینیڈا کی ایک ایسی شخصیت جو ہزاروں پاکستانیوں کو اپنی دعوت پر جمع کر سکتی ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں مثلاً وہ اسلام آباد اور لاہور میں رہے اور پبلک کے ایک ہجوم میں گھرے رہے۔ مرد' جوان اور بوڑھے' خواتین اور نوجوان اور پھر بچے یہ سب قادری صاحب کے دیدار کے لیے ان کے آس پاس پھرتے رہے۔
جناب قادری صاحب کسی انقلاب کا ذکر کرتے ہیں جس کے لیے وہ جدوجہد کر رہے ہیں لیکن اس انقلاب کی شکل و صورت شاید ان پر بھی واضح نہیں ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پورے ہندوستان کی ایک جماعت مجلس احرار اسلام والے کسی حکومت الٰہیہ کا ذکر کرتے تھے لیکن اس کی وضاحت پر وہ ایک سطر بھی لکھ نہ سکے۔ مجلس احرار کے لیڈر تقریر کے ہنر اور ملکہ میں بے مثل تھے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری عشاء کی نماز کے بعد تقریر کا آغاز کرتے وہ بے حد خوش الحان تھے پہلے تو کلام پاک کی کچھ تلاوت کرتے اور حاضرین کو اپنی آواز کے جادو سے مسحور کر لیتے تھے ایک ایسا سحر جس سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔ پھر ان کی تقریر شروع ہوتی وہ رات بھر اپنی تقریر جاری رکھتے۔
تقریر کا لہجہ اور جوش و جذبہ ایک سا رہتا یہ شاہ صاحب کا کمال تھا کہ وہ سامعین کو جکڑ لیتے تھے اور ان کو ساتھ لے کر چلتے لیکن شاہ صاحب کو یہ شکایت بھی رہتی کہ تم لوگ رات رات بھر تقریر تو سنتے ہو مگر صبح ووٹ مسلم لیگ کو دیتے ہو۔ غالباً بات یہ تھی کہ شاہ صاحب کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا خوبصورت تقریر تھی جب کہ مسلم لیگ کے پاس تقریر وغیرہ نہیں تھی مگر ایک واضح پروگرام تھا پاکستان کا قیام اور پھر پاکستان کے متوقع خدوخال اس لیے لوگ تقریر تو شاہ صاحب کی سنتے جو عموماً گرمیوں کی راتوں کو ہوا کرتی تھی اور لوگ سرشار ہو جاتے تھے۔ مجلس احرار کے پاس صرف شاہ صاحب ہی نہیں کئی دوسرے مقررین بھی تھے۔
مجلس کے ایک لیڈر خواجہ حسام الدین مجلس احرار کے ایک مرکزی شہر سیالکوٹ میں تقریر کر رہے تھے کہ جلسے میں سے کسی نے آواز لگائی کہ آپ اس وقت بھی چندے کی اپیل کر رہے ہیں ہمارا پہلا چندہ کہاں گیا اس پر خواجہ صاحب نے فی الفور جواب دیا جسے حساب لینا ہو وہ چندہ ہی نہ دے۔ عرض یہ ہے کہ مجلس احرار اور بعض دوسری جماعتیں بھی تقریریں خوب کرتی تھیں لیکن محض تقریریں' ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہجوم تو جمع ہو جاتا ہے مگر وہ اپنے ذہنوں میں گھر لے کر کیا جاتا ہے یہ کسی سے پوچھیں تو وہ شاید واضح جواب نہ دے سکے لیکن ملک کے اندر جو ایک خلا موجود ہے وہ ہر کسی کو حوصلہ دیتا ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لے۔ اس سناٹے میں آواز لگائے۔
پاکستان میں نظریاتی خلا کبھی نہیں رہا یہ ملک ایک نظریے کے تحت بنا تھا اس لیے کوئی نہ کوئی نظریہ ضرور کار فرما رہا اور پاکستانی کم و بیش ایک نظریاتی زندگی بسر کرتے رہے اور اب بھی وہ نظریات کو پسند کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ادھر کچھ عرصے سے ہماری سیاسی قیادت زیادہ تر غیر نظریاتی بن گئی۔ وجہ یہ ہے کہ علم و مطالعہ کی کمی لیکن دولت اور اسباب زندگی کی فراوانی نے ملک میں ایک غیر نظریاتی اور مفاداتی ماحول پیدا کر دیا ہے۔
ہر کوئی اس تلاش میں ہے کہ وہ معاشی مفاد کس طرح حاصل کر سکتا ہے اور جب معاشی مفاد زندگی کا مقصد ہو تو پھر اس قوم میں نظریات کہاں سے آ سکتے ہیں۔ ان د نوں ڈاکٹر قادری پاکستان میں ہیں۔ ان کی خوب پذیرائی ہو رہی ہے اور حکومت پنجاب اپنے اس معزز مہمان کی خدمت میں حاضر ہے۔ جناب قادری اگر کسی ایسے انقلاب کی بات کریں جس میں کچھ عملی نظریات بھی ہوں تو یہ قوم کے لیے ایک نعمت ہو گا ورنہ دو چار دن قادری صاحب اپنے بھاری بھرکم استقبال اور استقبالیوں سے کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے اور نہ ہی انھیں کچھ دے سکیں گے۔
ویسے وہ بہت سارا سامان بلکہ گھر کا سارا سامان ساتھ لائے ہیں مگر کینیڈین پاسپورٹ کا انھوں نے ذکر نہیں کیا وہ کئی ویزوں کے ساتھ ان کی کسی جیب میں ہو گا اور پاکستانی اپنے اس نصف پاکستانی لیڈر کے نعرے لگاتے رہیں گے۔ جناب قادری کو قدرت نے جو موقع دیا ہے اگر وہ اسے پاکستانیوں کی صحیح خدمت اور نظریاتی آبیاری میں استعمال کر لیں تو بہت بڑی بات ہو گی' عوام تو پہلے بھی بڑی تعداد میں قادری صاحب کے ساتھ تھے لیکن اس بار دیکھا گیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں نے قادری صاحب کی قربت کی کوشش کی ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے اور وہ شاید اس لیے کہ بعض سیاسی جماعتیں اور سیاسی کارکن اپنے لیے جائے پناہ تلاش نہیں کر سکے تھے۔
سیاسی پارٹیاں جو کمزور جا رہی تھیں ان کے لیے بہت موزوں تھا کہ وہ کسی ابھرتی ہوئی سیاسی یا غیر سیاسی طاقت میں پناہ لینے کی کوشش کریں اور اپنے لیے نئی زندگی تلاش کریں ورنہ ان کے اپنے وسائل اور ذرایع تو ناکام ہو چکے تھے۔ ان کو زندہ کرنے کی جدوجہد سے بہتر ہے کہ وہ کسی زندہ سیاسی گروہ کے ا ندر اپنی جگہ بنا لیں۔ اس سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھیوں کی سوئی ہوئی صلاحیتیں نئے ماحول میں جاگ اٹھیں' زندہ ہو جائیں۔ سیاست کبھی مرتی نہیں ہے البتہ بعض اوقات حالات سیاست دانوں کو بددل کر دیتے ہیں ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بیرونی مدد ضرور ہوتی ہے اور یہ بیرونی مدد جانب قادری جیسی شخصیت سے آسانی کے ساتھ دستیاب ہے۔