یہ مہنگائی تو کوئی بات نہیں

وزیر اعلیٰ پنجاب جناب میاں شہباز شریف نے وہ تمام دھمکی آمیز الفاظ جو ان کو یاد تھے


Abdul Qadir Hassan July 02, 2014
[email protected]

وزیر اعلیٰ پنجاب جناب میاں شہباز شریف نے وہ تمام دھمکی آمیز الفاظ جو ان کو یاد تھے دکانداروں کو ڈرانے دھمکانے میں صرف کر دیے ہیں۔ گویا سب کچھ صَرف دربان کر دیا وہ خود بازاروں میں پہنچے بلکہ لاہور سے باہر بھی دکانداروں پر حملہ آور ہوئے لیکن کیا فائدہ ایک تو سرکاری خزانے سے ان کے اس شوقیہ بازاری دورے پر بہت کچھ خرچ ہو گیا جس سے زیادہ نہیں تو کسی ایک بازار کی گرانی ختم ہو سکتی تھی۔

ان کے اس دورے کی خبریں اخباروں میں بھی چھپیں اور خوب پروپیگنڈا ہوا جس پر ان کی میڈیا ٹیم بہت خوش اور مطمئن ہوئی ہو سکتا ہے میاں صاحب نے ان کی تعریف میں شور مچانے والوں کو شاباش بھی دی ہو۔ ان دنوں باہر سے تو شاباش ملنی خواب و خیال ہو گئی گھر میں ہی یہ کام کر کے وقت گزارا جا سکتا ہے۔ دوسرے دن کی اطلاعات یہ ہیں کہ بازار میں حاجی صاحبان کا عمل وہی ہے جو میاں صاحب کی دھمکیوں سے پہلے تھا۔

دھمکی تو آئی اور گزر گئی لیکن گرانی کا مزا تو دائمی ہوتا ہے الا یہ کہ گرانی کی دھمکی دینے والا بھی اس دھمکی کے لائق ہو۔ جیسی ان دنوں گرانی ہے ایسی ہی کسی گرانی کا فوری خطرہ تھا۔ غالباً مارشل لاء آ گیا تھا یا کوئی اور ایسا خطرناک عمل ہونے والا تھا۔ پنجاب کے گورنر نواب کالا باغ تھے۔ وہ راولپنڈی میں تھے کہ انھیں اس کی اطلاع ملی وہ بھاگم بھاگ لاہور پہنچے اور اس سفر میں جو پروگرام طے کر کے آئے تھے اس کے مطابق فی الفور عمل شروع کر دیا۔ ملٹری سیکریٹری کرنل شریف کو یہ فہرست تھما دی گئی اور نواب صاحب متعلقہ اصحاب سے ملاقاتوں میں مصروف ہوگئے اس دوران اطلاع ملی کہ دکانداروں کا وفد بھی حاضر ہو چکا ہے۔

نواب صاحب نے جاری اجلاس ذرا بھر کے لیے روکا اور دکانداروں کو بلا کر صرف اتنا کہا کہ ایسے نازک قومی موقعوں پر بازار کی گرانی شاید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ خدا حافظ۔ لاہور کے دکانداروں سے اجلاس ختم چند منٹ میں انھوں نے پیغام دے دیا۔ اس مختصر ترین پیغام کے پیچھے ان کی شخصیت موجود تھی جس سے ہر افسر اور ہر شہری واقف تھا اور کاروباری طبقہ سب سے زیادہ باخبر۔ اس کے بعد بازار میں قیمتیں نہ صرف وہیں رک گئیں جہاں کھڑی تھیں بلکہ نواب صاحب کو خوش کرنے کے لیے کچھ مزید کم ہو گئیں۔

گوشت والوں نے دکانوں کے سامنے جالیاں لگا لیں اور بڑے اسٹوروں کے مالکوں نے اپنے مستقل گاہکوں کو بلایا اور ان کو سستے مال کی پیش کش کی۔ بہر کیف مہنگائی کا خطرہ اس چند منٹ کی ملاقات سے ختم ہو گیا جو گورنر ہائوس میں ذرا بھر کے لیے دوسرے کام روک کر کی گئی بلکہ اس مختصر ترین ملاقات کے پیچھے جو کچھ تھا ملاقات کرنے والوں کو سب معلوم تھا اور گورنر کو بھی معلوم تھا کہ وہ کون ہے اور کیا ہے۔

گورنر نواب امیر محمد خان کالا باغ ہر افسر کو جانتا تھا اور انھیں معلوم تھا کہ ان سے کام لینے کا طریق کار کیا ہے اور کسی کو کس طرح قابو کیا جا سکتا ہے۔ ایک افسر پکڑا گیا نواب صاحب نے کٹہرے میں کھڑا کر دیا اتنے میں ایک صاحب نے عرض کیا کہ یہ آپ کے فلاں دوست کا بیٹا ہے۔ نواب صاحب نے اسے گلے سے لگا کر کہا کہ تو میرا بھتیجا ہے جائو اور اتنا کام کرو کہ تمہارا چچا شرمندہ نہ ہو۔ یہ افسر ڈی سی تھا اس نے اپنے ضلع کو جنت بنا دیا۔

ایک چیف سیکریٹری نے افسری کے زعم میں کچھ خود سری کی کوشش کی۔ نواب صاحب نے احترام کے ساتھ اسے چائے پر بلایا اور بلوچستان کے چند مقامات کا ذکر کیا کہ قیام کے لیے یہ کیسے رہیں گے۔ چیف سیکریٹری جل بھن کر چلے گئے اور وفا شعاری سے نوکری شروع کر دی۔ کرنل شریف ان کے بہت قابل اعتماد افسر اور ساتھی تھے بعض فیصلوں پر انھوں نے مشورہ دیا تو کہا کہ کرنل یہ فوج نہیں ہے۔ ایسی لاتعداد مثالیں ہیں جب اس گورنر نے اپنا حکم ایک حکومتی فیصلہ اور عملے کے لیے نوکری کا معیار بنا دیا۔ حکم عدولی کا کوئی تصور نہ تھا۔ کسی بیٹے کو گورنر ہائوس میں قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی۔

یہ گورنر ہائوس کے قریب ایک ہوٹل میں قیام کرتے تھے اور کسی ذریعہ سے اپنی درخواست گورنر ہائوس پہنچا دیتے تھے۔ ایک بار ایک بیٹے نے جو لاڈلا تھا کہیں سے کوئی گاڑی خرید لی۔ نواب صاحب نے یہ گاڑی واپس کرا دی اور کہا کہ بتائو کون سی گاڑی چاہیے۔

منشی سے رقم لے لو۔ اب جب میں ان کی اولاد میں سے بعض خواتین کو سیاست میں روایتی خواتین سیاست کی شکل میں دیکھتا ہوں تو تعجب کرتا ہوں کہ وہ شخص جس کی عملداری میں جب گاڑی داخل ہوتی تھی تو بس ایک انجن کی آواز سنائی دیتی تھی سواریاں چپ ہو جاتی تھیں اور جب بس کالا باغ کے علاقے سے باہر نکلتی تو باتیں یوں شروع ہوتیں جیسے بس کی سواریوں کے منہ پر سے کسی نے ٹیپ اتار دیا ہو۔ نواب صاحب جیسے لوگ جب تک رہے اپنے وجود کو محسوس کراتے رہے بلکہ بعض اوقات تو یوں لگتا تھا جیسے ان کے ساتھ ہی اس محکمے کا کوئی وجود ہے۔

ہمارے نئے حکمرانوں کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ موجودہ حالات میں کام نہیں چل سکتا۔ گزشتہ دنوں جب وزیر اعلیٰ صاحب کے خلاف باتیں شروع ہوئیں تو ایک لاہوری نے گھبرا کر کہا کہ یہ اب چلے گئے تو لاہور کے بدلے ہوئے حلیے کا کیا بنے گا۔ اب بھی اگرچہ لاہور ایک بدصورت شہر بن چکا ہے لیکن جو ہے اب اسی کو از سر نو آباد کرنا ہو گا۔ لاہور ایسے تاریخی شہر تاریخ سے پیدا ہوتے ہیں تاریخ کی نہ جانے کتنی کروٹیں اس کے اینٹ گارے کو تیار کرتی ہیں اور کتنے بادشاہ ان سے شہر تعمیر کرتے ہیں۔ لاہور محض ایک آبادی نہیں ایک تہذیب اور تاریخ کا صفحہ ہے۔ آگے آپ کی مرضی۔

مقبول خبریں