اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں پر 37 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر پابندی جمعرات سے نافذ کر دی جائے گی۔ یورپی یونین اور کئی عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے غزہ کے متاثرہ عوام تک اہم انسانی امداد کی رسائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزارتِ امورِ تارکینِ وطن کے ترجمان گیلاد زویک کے مطابق یہ تنظیمیں اپنے فلسطینی ملازمین کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہیں، جو نئے قوانین کے تحت لازمی قرار دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام این جی اوز کو مقررہ معیارات پر مکمل اور شفاف طور پر پورا اترنا ہوگا، کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
دوسری جانب حماس نے ان قوانین کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل انسانی امداد کو سیاست کا شکار بنا رہا ہے اور اسے فلسطینی عوام کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔
بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز (MSF) نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2026 میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام جاری رکھنے کے لیے تنظیم کی رجسٹریشن یقینی بنائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انسانی امداد کو روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی یونین کی انسانی امداد سے متعلق کمشنر حجہ لحبیب نے کہا ہے کہ این جی اوز سے متعلق اسرائیلی قانون اپنی موجودہ شکل میں قابلِ عمل نہیں اور امداد ہر صورت ضرورت مندوں تک پہنچنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امدادی تنظیموں پر پابندیاں غزہ کی پہلے سے تباہ حال انسانی صورتحال کو مزید خراب کر دیں گی۔
برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جاپان، ناروے، سویڈن اور دیگر ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی گزرگاہیں کھولے، غیر ضروری پابندیاں ختم کرے اور اقوام متحدہ و این جی اوز کو بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دے۔