ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپیشل ایجوکیشن کی عمارتیں سرکاری اداروں کا زیر استعمال ہونے کا انکشاف ہے جب کہ قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم نے قابض اداروں کو فوری عمارتیں خالی کرنے کی ہدایت کردی۔
ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن نے کہا کہ بغیر قانونی قبضہ کہ وجہ سے معذور بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، حکام نے کہا کہ وزارت تعلیم کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا۔
2016 سے اسکول، کھیل کے میدان اور پارکنگ پر قبضہ برقرار ہے، پاکستان بیل المال کا آر سی سی ڈی ڈی ہاسٹل بلاک 2001 سے زیر قبضہ ہے، انسانی حقوق کی وزارت کے ماتحت ادارے کا اسپیشل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ پر قبضہ ہے۔