سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سندھ حکومت کی مختلف روٹس پر چنگچی رکشوں کے آنے پر پابندی کیخلاف چنگچی رکشہ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سندھ حکومت، ٹریفک پولیس اور چنگچی رکشہ بنانے والی کمپنی کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو سندھ حکومت کی جانب سے مختلف روٹس پر چنگچی رکشوں کے آنے پر پابندی کیخلاف پر چنگچی رکشہ ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواستگزار کے وکیل قاضی عبد الحمید ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ سندھ حکومت کے فیصلے سے 60 ہزار چنگچی رکشہ متاثر ہوئے ہیں۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کا تحریری جواب آنے دیں سارے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سندھ حکومت نے شہر کے 26 اہم روٹس پر چنگچی رکشوں کے آنے پر پابندی لگا دی ہے۔ تمام چنگچی رکشوں کے پاس تاحال قابل استعمال روٹ پرمٹس موجود ہیں۔ پابندی روٹ پرمٹ کینسل کیے بغیر لگائی گئی ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے چنگچی رکشہ چلانے والوں پر روزانہ مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔
پابندی سے رکشہ بنانے والی کمپنی میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوگا۔ کمپنی چنگچی رکشہ نہیں بلکہ موٹر کیب رکشہ مضبوط باڈی کے ساتھ بناتی ہے۔
رکشہ چلانے والوں پر پابندی کے بجائے ایس او پیز بناکر پابند کرنے کا حکم دیا جائے۔ حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے سندھ حکومت، ٹریفک پولیس اور چنگچی رکشہ بنانے والی کمپنی کو نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت نے فریقین سے 3 فروری کو جواب طلب کرلیا۔