بھارتی موسیقی کے معروف گلوکار زوبین گرگ کی گزشتہ برس ستمبر میں سنگاپور میں ہونے والی موت سے متعلق سنگاپور پولیس نے چونکا دینے والی تفصیلات سامنے رکھ دی ہیں۔
پولیس کے مطابق 52 سالہ زوبین گرگ واقعے کے وقت شدید نشے کی حالت میں تھے اور انہوں نے سمندر میں اترتے ہوئے لائف جیکٹ پہننے سے انکار کردیا، جس کے بعد وہ ڈوب گئے۔
یہ انکشاف بدھ کوز سنگاپور کی کورونر کورٹ میں کیا گیا۔ چینل نیوز ایشیا کی رپورٹ کے مطابق زوبین گرگ 19 ستمبر 2025 کو لیزارس آئی لینڈ کے قریب ایک یاٹ پارٹی میں شریک تھے۔ ابتدا میں انہوں نے تیراکی کے دوران لائف جیکٹ پہن رکھی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے اسے اتار دیا۔ یاٹ کے کپتان اور دیگر افراد کی جانب سے بار بار یاد دہانی کے باوجود زوبین گرگ نے نہ صرف دوبارہ لائف جیکٹ پہننے سے انکار کیا بلکہ انہیں پیش کی گئی ایک چھوٹی لائف جیکٹ بھی قبول نہیں کی۔
تحقیقات کے دوران چیف انویسٹی گیشن آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ زوبین گرگ نے اس روز بھاری مقدار میں شراب نوشی کی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ شدید نشے میں تھے اور بغیر کسی حفاظتی سامان کے تنہا سمندر میں اترے۔ بتایا گیا کہ وہ یاٹ کی جانب واپس تیرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک ان کا جسم بے جان ہوگیا اور وہ پانی کی سطح پر الٹے منہ تیرتے دکھائی دیے۔
انہیں فوری طور پر یاٹ پر واپس لایا گیا جہاں سی پی آر دیا گیا۔ پولیس کوسٹ گارڈ نے ایمرجنسی کال موصول ہونے کے دو منٹ کے اندر پیٹرول بوٹ روانہ کی، جو نو منٹ میں موقع پر پہنچ گئی۔ بعد ازاں زوبین گرگ کو سنگاپور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں شام تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ ڈوبنا قرار دی گئی، جبکہ جسم پر موجود زخم ریسکیو اور سی پی آر کے دوران لگنے والے تھے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ زوبین گرگ نارتھ ایسٹ انڈیا فیسٹیول میں شرکت کے لیے سنگاپور آئے تھے اور انہوں نے کیپل بے مرینا سے تقریباً 20 دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ یاٹ میں سوار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ گواہوں کے مطابق یاٹ پر شراب نوشی کی گئی، جس میں زوبین گرگ نے مختلف اقسام کی الکحل جیسے جن، وہسکی اور دیگر مشروبات استعمال کیے۔
طبی رپورٹس کے مطابق زوبین گرگ کے خون میں ہائی بلڈ پریشر اور مرگی کی ادویات کے آثار پائے گئے، تاہم کسی اور نشہ آور دوا کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ فرانزک ماہر نے عدالت کو بتایا کہ اس بات کے کوئی حتمی شواہد نہیں ملے کہ ڈوبنے سے قبل انہیں مرگی کا دورہ پڑا ہو۔
پولیس نے واضح کیا کہ واقعے میں کسی قسم کے فاؤل پلے یا خودکشی کے شواہد نہیں ملے۔ ان کے مطابق زوبین گرگ نے اپنی مرضی سے سمندر میں چھلانگ لگائی تھی اور ان میں خودکشی کا کوئی رجحان نہیں پایا گیا۔
سماعت سے قبل زوبین گرگ کے چچا نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے خاندان کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور موت کے حالات کی مزید تفصیلی جانچ کی درخواست کی۔ ان کی اہلیہ، جو عدالت میں پیش نہ ہو سکیں، نے بھی ممکنہ کوتاہیوں یا غفلت سے متعلق سوالات اٹھائے۔
ریاستی کورونر ایڈم نخودا نے کہا کہ خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے بعض نکات فوری طور پر موت کی وجوہات کے تعین کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس انکوائری کے دوران مجموعی طور پر 35 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کی توقع ہے اور تحقیقات کا عمل تاحال جاری ہے۔