امریکا نے غزہ میں امن، نظم و نسق اور تعمیرِ نو سے متعلق امور کے لیے قائم کیے جانے والے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے لیے روس، اسرائیل اور پولینڈ کو باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس بورڈ کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے اور اس کا مقصد عالمی تنازعات بالخصوص غزہ کے بحران سے نمٹنا ہے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو اس پیشکش کے تمام پہلوؤں اور تفصیلات پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی شمولیت سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
وسطی ایشیا کے ممالک نے اس منصوبے میں فوری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ قازقستان اور ازبکستان کے صدور نے بورڈ میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے صدارتی ترجمانوں کے مطابق ان کے رہنما اس عالمی اقدام کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیل اور پولینڈ کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ پولینڈ کے صدر کے مشیرِ خارجہ امور نے بھی دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ادھر برطانیہ نے بھی اس امریکی منصوبے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور تعمیرِ نو کے عمل میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم اسرائیل کے اندر اس منصوبے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے وزیراعظم نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ اب “ہم یا وہ” کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کا تصور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے کے تحت دیا تھا۔ جنگ بندی کے بعد منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس میں غیر فوجی اقدامات اور غزہ کی تعمیرِ نو پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مسودۂ چارٹر کے مطابق امریکا 60 ممالک کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دے چکا ہے جبکہ مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شراکت شرط رکھی گئی ہے۔