سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) کی جانب سے شہر کے تمام اضلاع میں تجارتی عمارتوں کا سروے شروع کر دیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم چیک کیا جا رہا ہے جہاں بیشتر عمارتوں میں آگ بچھانے کا نظام ہی موجود نہیں ہے۔
ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق کراچی کے تمام ہی اضلاع کا سروے جا ری ہے اور اب تک 450 سے زائد نوٹسز جاری کیے جاچکے ہے جہاں فائر سیفٹی سسٹم موجود نہیں یا پھر ان میں خامیاں تھیں۔
ذرائع ایس بی سی اے نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں کمرشل عمارتوں کا سروے کیا جارہا ہے سروے میں بیشتر عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات ہی نہیں ہیں، اسی لیے 450 سے زائد کمرشل عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے پر نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔
ایس بی سی اے کے نوٹسز میں عمارتوں میں تین روز کے دوران فائر سیفٹی انتظامات مکمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے اور چند عمارتوں میں فائر سیفٹی کے آلات ناکارہ حالت میں پائے گئے۔
ایس بی سی اے سروے کے دوران بیشتر بلند عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا جبکہ چند عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے پائے گئے لیکن وہ بھی بند حالت میں ہیں اور سروے میں ایس بی سی اے کی خصوصی ٹیم کے ہمراہ فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موجود رہا۔
ایس بی سی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، فائر سیفٹی اقدامات نہ کرنے پر عمارتیں سیل کردی جائیں گی۔
اسی طرح عمارتوں کے مالکان اور یونینز کو فائر سیفٹی اقدامات کے ساتھ فائر بریگیڈ کے این او سیز حاصل کرنا بھی لازم ہوگا اور عمارتیں سیل کرنے کا کام ضلعی انتظامیہ کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔
ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق فائر سیفٹی کے لیے بلڈرز کو وقت دیا جائے گا تاہم شہر میں کسی بلڈر کو پریشان نہیں کیا جائے گا۔