کراچی:
گل پلازہ کے الم ناک سانحے میں جھلس کر جاں بحق تقریباً 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہوگئے، عمارت سے ملی باقیات میں سے ڈی این اے کے صرف 4 سے 5 افراد کے نموںوں کے نتائج آنے کی توقع ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ کے الم ناک سانحے کو 12 روز گزر چکے ہیں اور عمارت میں لگنے والی شدید آگ میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کی لاشیں مکمل اور ایک کی شناخت شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی تھی۔
گل پلازہ کی آگ پر 33 گھنٹوں سے زائد کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا گیا جس کے بعد سرچنگ کا آپریشن شروع کیا گیا جس میں گل پلازہ میں پھنس کر زندگی کی بازی ہارنے والوں کی ٹکڑوں میں سوختہ لاشیں اور ان کی ملنے والی باقیات ریسکیو کے عملے نے نکال کر اسپتال پہنچائی تھیں۔
سانحے میں جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جہاں چیلنج بن گیا وہیں لواحقین کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا، سانحہ گل پلازہ کے بعد سے لاپتا ہونے والوں کے لواحقین کی آمد کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے۔
گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق بشارت کے لواحقین کے اہل خانہ نے پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا ہے تاکہ ڈی این اے کے ذریعے ان کے پیارے کی شناخت کا عمل مکمل ہوسکے، اب تک سانحے میں جاں بحق ہونے والے 72 افراد میں سے 27 افراد کی شناخت کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس میں سے 20 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی جبکہ 6 افراد کی شناخت چہرہ شناسی اور ایک شہری کی شناخت اس کے پاس سے ملنے والی قومی شناخت کارڈ کے ذریعے ممکن ہوسکی ہے۔
ایکسپریس سے خصوصی گفگتو کرتے ہوئے سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے بتایا کہ گل پلازہ میں کئی گھنٹوں تک آگ کے شعلے دہکتے رہے اور وہاں موجود افراد کے جسم حتیٰ کہ ہڈیاں تک جل کر راکھ میں بدل گئیں جس کے باعث جاں بحق ہوئے تقریباً 40 افراد کی شناخت کے امکانات مکمل ختم ہوگئے کیونکہ گل پلازہ کی عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے لیے نمونہ ملنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے لیے جانے والے نمونوں میں سے صرف 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نتائج آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گل پلازہ میں آگ بچوں کے ہاتھوں فلاور شاپ میں لگی اور اے سی ڈکٹس کے ذریعے پھیلی، تحقیقاتی رپورٹ تیار
عامرحسن نے مزید بتایا کہ پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ اور سی پی ایل سی کی جانب سے جاں بحق افراد کے اینٹی موٹم ڈیٹا (موت سے پہلے) کی معلومات اور گل پلازہ میں موجودگی کے شواہد ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کو فراہم کر دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ فراہم کردہ ڈیٹا میں جاں بحق ہونے والے افراد کے نام، گل پلازہ میں آگ لگنے سے پہلے ان کی موجودگی کے شواہد، ویڈیوز، موبائل فون ڈیٹا، لوکیشن، کپڑوں اور ذاتی اشیا کی معلومات شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ اور سی پی ایل کی جانب سے ناقابل شناخت باقیات کو لواحقین کے سپرد کس طرح کیا جائے اس حوالے سے سفارشات بھی ارسال کی گئی ہیں، جن سے پہلی اور بنیادی سفارش جاں بحق افراد کی پروف آف پریزن شامل ہے ۔
سربراہ شناخت پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ اگر جاں بحق افراد کی ویڈیوز، لوکیشن، فون کالز، موبائل فون ڈیٹا سے ان کی موجودگی گل پلازہ میں ظاہر ہوتی ہے تو لواحقین کے گواہان کے بیانات لے کر باقیات اہل خانہ کے حوالے کی جاسکتی ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ضلعی اتنظامیہ اور حکومت کرے گی۔
گل پلازہ کے سامنے لاپتا افراد کے لواحقین کا احتجاج
گل پلازہ میں لگنے والی خوف ناک آگ کے بعد لاپتا ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی جانب سے تباہ حال پلازہ کی مخدوش عمارت کے سامنے احتجاج کیا اور مظاہرین میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
لاپتا افراد کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ پہلے روز سے سانحہ گل پلازہ میں لاپتا ہونے والے اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے پیاروں کی میتیں کب حوالے کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے پیاروں کی میتیں دے دو ہم چلے جائیں گے، سانحے کو 12 روز گزر چکے ہیں، اس کے باوجود ہمارے پیارے لاپتا ہیں، کس کے در پر جا کر فریاد کریں، احتجاج کرتے ہیں تو پولیس آجاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم 12 روز سے اعصاب شکن صورت حال سے دوچار ہیں، گھروں میں صف ماتم ہے۔
لاپتا افراد کے اہل خانہ کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی اطلاع پر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سٹی عارف عزیز اور ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ ساؤتھ جاوید نبی کھوسو موقع پر پہنچ گئے اور لاپتا افراد کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور لواحقین کو تسلیاں دیتے ہوئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لاپتا افراد کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جیسے جیسے شناخت کا عمل ہو رہا ہے ورثا کو میتیں بھی حوالے کی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا گل پلازہ میں کام کرنے والے متاثرہ ملازمین کی جانب سے بھی ڈی سی ساؤتھ آفس کے باہر احتجاج کیا گیا۔
مظاہرین نے کہا کہ ہم روزانہ کی مزدوری کرنے والے لوگ ہیں، ہمارا کوئی پرسان حال نہیں، متاثرین نے سوال اٹھایا کہ ہم کس کے پاس جا کر فریاد کریں، ہماری بات سننے والا کوئی نہیں، روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرنے والے مزدور تھے اب ہمارا کیا ہوگا۔
مظاہرین نے حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ سانحہ گل پلازہ میں روزانہ کی مزدوری کرنے والے متاثرہ افراد کی مدد کریں۔