چینی ہیکرز نے جارج بش کے دور میں اہم امریکی راز چوری کیے سابق سربراہ قومی سلامتی ایجنسی

ہیکرز نے کانگریس، محکمہ دفاع وخارجہ سمیت دیگر بڑے اداروں کے کمپیوٹروں تک رسائی حاصل کرکے اہم معلومات حاصل کیں


ویب ڈیسک March 16, 2015
ہیکرز کو چینی حکومت کی بھی مکمل تائید حاصل تھی، سابق سربراہ مک کونیل، فوٹو:فائل

امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے سابق سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ جارج بش کے دور حکومت میں چینی ہیکرز کاروباری راز حاصل کرنے کے لیے امریکا کی بڑی کارپوریشنز کی ویب سائٹس کو ہیک کیا جس کے ذریعے انہوں نے اہم امریکی اداروں کے کئی راز چوری کیے۔

سابق امریکی صدر جارج بش کے دور حکومت میں قومی سلامتی کونسل کے سربراہ مِک کونیل نے میسوری یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ ہمارے دور میں چینی ہیکرز نے امریکا کے ہر بڑے کارپوریشن میں نقب لگائی اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جو آج تک جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیکرز نے کانگریس، محکمہ دفاع وخارجہ سمیت دیگر بڑے اداروں کے کمپیوٹروں تک رسائی حاصل کرکے اہم معلومات بھی حاصل کیں جب کہ اس وقت کی حکومت نے امریکی تجارتی منصوبے اور تفصیلات چرانے پر کئی چینی ہیکرزکو گرفتار بھی کیا تھا۔

مِک کونیل کے مطابق چینی ہیکرز کی جانب سے زیادہ تر کاروباری راز اور منصوبوں کو چرانے کی کوشش کی گئی جن میں جدید ٹیکنالوجی، ونڈ ملز ڈیزائن، گاڑیوں ، طیاروں ، خلائی جہازوں اور سافٹ ویئر وغیرہ شامل ہیں جب کہ ان ہیکرز کو چینی حکومت کی بھی مکمل تائید حاصل تھی جس کے لیے حکومت نے تقریباً ایک لاکھ ہیکرز کو بھی بھرتی کیا۔

مِک کونیل کے مطابق گزشتہ برس ایسے پانچ چینی باشندوں کے خلاف عدالت نے باضابطہ فردِ جرم عائد کی جو ویسٹنگ ہاؤس، یو ایس اسٹیل اور ایلکووا کمپنی کی معلومات چرانے میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ مِک کونیل امریکی سیکیورٹی فرم بُوزایلن ہیملٹن کے مشیر بھی رہے ہیں۔

مقبول خبریں