ایل این جی سے بجلی نہ بنائی جائے آئی پی آر

درآمدی مائع قدرتی گیس کی بجلی فرنس آئل پاور سے کہیں زیادہ مہنگی ہوگی، آئی پی آر


Numainda Express April 14, 2015
درآمدی مائع قدرتی گیس کی بجلی فرنس آئل پاور سے کہیں زیادہ مہنگی ہوگی، آئی پی آر۔ فوٹو: فائل

تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز (آئی پی آر) نے حکومت کی طرف سے درآمدی ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کے فیصلے پر نہ صرف حیرانگی کا اظہار کیا ہے بلکہ اس کو پاور سیکٹر کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے کیونکہ ایل این جی سے پیدا ہونے والا بجلی کا ہر یونٹ فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی سے بھی کہیں مہنگا ہوگا، نیپرا نے بھی حال ہی میں اس چیز کی نشاندہی کی ہے۔

اس ضمن میں آئی پی آر کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ حقائق نامے میں حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے۔ حقائق نامے کے مطابق بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کسی طرح بھی 1994کی پاور پالیسی سے مختلف نہیں ہے کیونکہ اس پالیسی کے مطابق بجلی کی پیداوار بذریعہ ہائیڈرو اور تھرمل میں تبدیلی لائی گئی تھی اور ہائیڈرو اور تھرمل کے بجائے دیگر ایندھن پر انحصار کیا گیا تھا جس کا فائدہ سرمایہ کار کو جاتا تھا، موجودہ حالات میں بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگے نرخ پر بجلی پیدا کرنا ہے کیونکہ زیادہ تر بجلی فرنس آئل سے پیدا کی جار ہی ہے اور فرنس آئل کی قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں لہٰذا اس چیز پر قابو پانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ دیگر سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرے نہ کہ درآمدی مہنگی ایل این جی سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرے جو فرنس آئل سے بھی کہیں مہنگی ہے لہٰذا درآمدی ایل این جی سے بجلی پیدا کرنا پاور سیکٹر سے دشمنی کے مترادف ہے۔

آئی پی آر کے حقائق نامے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ حکومت کو چاہیے وہ پاور سیکٹر میں سپلائی کے سلسلے میں گورننس کے دوسرے مسائل پر بھی توجہ دے کیونکہ آئی پی آر کے تخمینے کے مطابق تقریباً 30فیصد تک عدم وصولیوں کی وجہ سے پاور سیکٹر کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے، اس کے علاوہ بجلی کے ہر یونٹ پر سبسڈی بھی دی جار ہی ہے جس سے پاور سیکٹر کے لیے مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں لہٰذا حکومت کوتجویز دی گئی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے ذرائع استعمال کرنے کے بجائے گیس کے کوٹے میں بھی اضافہ کرے نیز ایل این جی کے بجائے دیگر ذرائع سے سستی بجلی پیدا کرنے پر توجہ دے۔

مقبول خبریں