حکومتی پالیسیوں اور نیب کی کوششوں سے کرپشن کم ہو گئی صدر ممنون حسین

ہم ہدف حکومت پاکستان کی پالیسیوں اورنیب کی کوششوں کی بدولت حاصل کررہے ہیں، صدر ممنون حسین


ہم ہدف حکومت پاکستان کی پالیسیوں اورنیب کی کوششوں کی بدولت حاصل کررہے ہیں، صدر ممنون حسین فوٹو : اے پی پی

صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ تازہ جائزوں کے مطابق ملک میں بدعنوانی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ہم یہ ہدف حکومت پاکستان کی پالیسیوں اور نیب کی کوششوں کی بدولت حاصل کررہے ہیں جس پران کی تعریف کی جانی چاہیے۔ اسلام آباد میں 'بہتر طرز حکمرانی اور ترقی' کے موضوع پر سیمینار سے خطاب میں انھوں نے نیب کو ہدایت کی وہ بغیر کسی دباؤ کے کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

انھوں نے چیئرمین نیب کومخاطب کرکے کہا کہ قمر زمان صاحب آپ ایک خود مختار ادارے کے سربراہ ہیں، کسی کے دباؤ میں نہ آئیں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ کچھ ایسی مثالیں قائم کریں، ایسی بڑی مچھلیاں جن کے خلاف آپ کے پاس ثبوت ہیں آپ ان پر ہاتھ ڈالیں تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ کرپشن سے ناامیدی کی فضا بڑھتی ہے اور صدیوں سے قائم اچھی اقدار کو دھچکا پہنچتا ہے۔ صدر ممنون نے کہا کہ قوم کو حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ پیسے کہاں خرچ ہوتے ہیں۔

سالانہ 800 سے 1000 ارب روپے کرپشن کی نذر نہ ہوں تو ملک کتنی ترقی کریگا۔ کرپشن سے ناانصافی، بداعتمادی، شبہات، دہشتگردی اور انتہاپسندی پھیلتی ہے۔ اگر کرپشن اور بدعنوانی رہی تو ملک کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔ آج کرپٹ لوگ سینہ تان کر معاشرے میں پھرتے ہیں اوراپنے آپ کو معاشرے کا باعزت شہری سمجھتے ہیں۔ عوام کرپٹ افراد کو بدعنوانی چھوڑنے پر قائل کریں اور اگر وہ نہ مانیں تو کرپٹ عناصر کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔

بہتر طرز حکمرانی قائم کرنے کی براہ راست ذمہ داری سول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ علاوہ ازیںسلطنت اومان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حماد الخلیلی سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات میں ممنون حسین نے کہا کہ دنیا میں اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کرنے والوں کا امت مسلمہ کو مل کر خاتمہ کرنا ہوگا۔

دنیا میں اسلام کے نام پر قتل و غارت کرنے والوں کو راہ راست پر لانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے لیکن اگر وہ نہ مانیں تو تمام مسلم ملکوں کو ان کے خاتمے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔ شیخ احمد بن حماد الخلیلی نے کہا کہ پاکستان اسلام کے خلاف فتنہ پھیلانے والوں کی سرکوبی کرے۔ تمام امت مسلمہ پاکستان شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ذرائع ابلاغ نے دہشتگرد تنظیم داعش کو مملکت اسلامی کا نام دیا ہے جو درست نہیں۔

مقبول خبریں