کچھ لو کچھ دو ہی اصل آئین ہے
دینی و سیاسی حلقوں کی اس بات میں خاصا وزن معلوم ہوتا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے ہمارا خانگی نظام بکھرنے کا خطرہ ہے
شائد کور چشمی ہے یا امور دینِ سے عدم واقفیت کہ مجھے پنجاب اسمبلی کا تحفظِ خواتین بل بار بار الٹنے پلٹنے کے باوجود وہ کچھ ٹپائی نہیں دیا جو تیس سے زائد مذہبی سیاسی دینی جماعتوں، تنظیموں، گروہوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے معزز چیئرمین کو صاف صاف نظر آ رہا ہے۔
مثلاً میں یہی ڈھونڈتا رہ گیا کہ کیا تشدد کی شکار خواتین کے لیے ٹول فری نمبر کا قیام نظریہِ پاکستان سے متصادم ہے؟
اس بل کے تحت خواتین کے لیے پناہ مرکزوں کا قیام اور ان مراکز میں طبی، نفسیاتی، قانونی معاونت کی سہولتیں آئینِ پاکستان کی کسی شق سے تو کہیں متصادم نہیں؟
کہیں ضلعی سطح پر ویمن پروٹیکشن کمیٹیوں کا قیام یا ایسی ہر کمیٹی میں پانچ اعلی سرکاری اہلکاروں اور چار مقامی سرکردہ سماجی کارکنوں کی شمولیت یا پھر ان کمیٹیوں کی جانب سے متاثرہ خواتین اور انھیں متاثر کرنے والے مردوں کے مابین مصالحتی کوششیں یا مضروب خواتین کے مراکز کی نگرانی کا فریضہ کہیں کسی فقہی تعلیم سے تو نہیں ٹکرا رہا؟
یہ بھی تو ممکن ہے کہ پروٹیکشن افسر کو کام سے روکنے یا اس کی مزاحمت پر چھ ماہ قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا پھر تشدد و زیادتی کی جھوٹی اطلاع یا شکایت پر تین ماہ تک سزا اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی شق ہماری مشرقی تہذیبی اقدار سے متصادم ہو؟
ہو سکتا ہے اس قانون کے تحت تشدد کی شکار خاتون کو گھر سے بے دخل کرنا اور بے دخلی کی صورت میں عورت اور بچے کی متبادل رہائش اور نان نفقے کی ذمے داری اور عدم تعمیل کی صورت میں مرد کی تنخواہ سے اخراجات کی منہائی کا فارمولا شریعت سے متصادم ہو؟
یہ بھی تو ممکن ہے کہ آپے سے باہر ہونے والے متشدد مردوں کو متعلقہ خاتون سے دور رکھنے کے لیے عدالتی حکم کے تحت بازو پر جی پی ایس ٹریکر باندھنا اور اس ٹریکر کو عدالتی مرضی کے خلاف اتارنے کی صورت میں ایک سال تک قید اور دو لاکھ روپے تک جرمانہ بانیانِ پاکستان و شہدا کی ارواح سے بے وفائی کے برابر ہو؟
ہاں مرد چاہے تو جتنے دن بھی گھر والوں کو بتائے بغیر غائب رہ سکتا ہے مگر عورت پر تشدد کی صورت میں اگر عدالت مرد کو دو دن بھی گھر سے باہر رہنے کا حکم دے تو ممکن ہے کہ یہ حکم پاکستان کو لبرل و سیکولر بنانے کی سازش کے دائرے میں آتا ہو۔
دینی و سیاسی حلقوں کی اس بات میں خاصا وزن معلوم ہوتا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے ہمارا خانگی نظام بکھرنے کا خطرہ ہے۔ ظاہر ہے جو خانگی نظام پیار محبت کی بنیاد پر قائم نہ رہ سکے اسے مارپیٹ کی بنیاد پر قائم تو رکھا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی فرد نہیں مقصد بڑا ہوتا ہے۔ عورت رہے نہ رہے خاندانی نظام بہرحال قائم رہنا چاہیے۔
ہمیں تو کئی دینی رہنماؤں کی یہ دلیل بھی خاصی بھلی لگتی ہے کہ ایسے قانون کے نفاذ سے طلاق کی شرح بڑھ جائے گی۔ مجھ جیسے لاعلموں کو یہ تو معلوم نہیں کہ اس قانون کی عدم موجودگی میں اس وقت طلاق کی شرح کیا ہے البتہ اس بل کے صدقے کم از کم یہ تو معلوم ہو ہی گیا کہ نفاذ کے بعد یقیناً طلاق کی شرح بڑھ جائے گی۔ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ جن جن علما کے پاس طلاق شماری کی حالیہ تفصیلات ہیں وہ مفادِ عامہ میں عام کر دی جائیں تا کہ یہ اظہر من الشمس ہو جائے کہ قانون نہ ہونے کے اس وقت کیا کیا عائلی فوائد ہیں۔
یہ دلیل بھی نہائت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے پہلے سے موجود قوانین پر اگر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تو نئے قوانین کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ مجھے یاد ہے کہ جب خیبر پختون خوا میں متحدہ مجلسِ عمل کی حکومت تھی تو پانچ برس کے دوران خواتین کے تحفظ کے لیے پہلے سے موجود قوانین پر اتنی سختی سے عمل ہوا کہ مار پیٹ کی شرح کم ہو کر صفر اعشاریہ پانچ فیصد تک رہ گئی، غیرت کے نام پر قتل تقریباً مٹ سے گئے، خواتین کی تعلیم پر ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے سب سے زیادہ پیسہ صرف کیا۔
عورت کے تحفظ کے قوانین کے سختی سے نفاذ کے خوف میں وہاں کے مردوں نے طلاق دینا تقریباً ترک ہی کر دیا۔ دیگر صوبوں کی خواتین نے خیبر پختون خوا میں خواتین کے تحفظ کے قوانین پر مثالی عمل درآمد کی مثالیں دے کر باقی تین صوبوں کی حکومتوں کو شرمندہ کرنے کے لیے کوئٹہ، کراچی، لاہور اور اسلام آباد وغیرہ میں ریلیاں نکالیں۔ ان ریلیوں میں سب سے مقبول نعرہ یہ ہوتا تھا کہ ''اگلی بار ہمارے صوبے میں ایم ایم اے سرکار۔''
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیار ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لیے مناسب قانون سازی کریں۔ اس اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر پنجاب نے ایک غیر شرعی حرکت کر ہی لی ہے تو باقی صوبے نہ کریں۔ نظریہ عمرانی پر قائم خیبر پختون خوا کی موجودہ سعادت مند حکومت نے پنجاب کی شریعت سے نابلد خودسر اسمبلی کے برعکس اسلامی نظریاتی کونسل کے روبرو خواتین پر تشدد کی روک تھام کا بل رکھ دیا جس پر کونسل مسلسل غور و خوض کیے چلی جا رہی ہے۔ چونکہ عورت ناقص العقل ہے لہذا کونسل نے اس غور و خوض میں خواتین کی رائے لینا شائد اسی لیے مناسب نہیں سمجھا۔
یہ کہنا غلط ہے کہ علما لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان بننے کے بعد بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تنظیم اپوا کی تمام تر مغرب زدگی کے باوجود علما اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے جب تک اپوا کا وجود مٹ نہ جاتا۔ کیا دینی جماعتوں نے عورت کی حکمرانی کے بارے میں تمام تر تحفظات کے باوجود محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ نہیں دیا؟ کیا انیس سو اٹھاسی کی انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کی مغرب و سیکولر و لبرل پرستی کا پول کھولنے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد نے چارٹر طیارے سے بیگم نصرت بھٹو اور صدر فورڈ کے رقص کی تصاویر لاہور پر نہیں گرائیں؟ تا کہ اہلیان ِ اسلامی جمہوریہ پاکستان بند آنکھوں سے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی مکھی نہ نگلیں۔
کیا مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر بھٹو کی زنانہ وزارتِ عظمی کے نقصانات کے خلاف ویسے ہی آواز بلند نہیں کی جیسی اس وقت پنجاب کے زنانہ تشدد ایکٹ کے خلاف بلند کر رہے ہیں۔ مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ مولانا نے وسیع تر قومی مفاد میں عورت کی بینظیر حکمرانی کو نہ صرف کڑوی گولی کی طرح قبول کیا بلکہ اپنا اصولی موقف برقرار رکھتے ہوئے کشمیر کمیٹی کی رہنمائی بھی فراخ دلی سے فرمانا منظور فرمایا۔
چنانچہ امید یہی کی جانی چاہیے کہ اگر حکومت اس بل کے مخالف علما کو ان کی شرائط پر ہر طرح سے مطمئن کر دے تو معاملہ فہم علما حالات کی نزاکت کا خیال کرتے ہوئے یہ کڑوی گولی بھی نگل لیں گے۔ علما یا ان کی رائے کو یکسر نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں ''کچھ لو کچھ دو'' ہی اصل آئین ہے جس کے آگے تہتر کے آئین کا لچک دار تنبو بڑی محنت سے تانا گیا ہے۔ آخر ڈیکوریشن بھی تو کوئی چیز ہے۔