راحت فتح علی خاں نے 2016 کو قوالی کا سال قرار دیدیا

 قوال کہلوانا پسندہے، قوالی میری روح سے جدا نہیں ہوسکتی : ’ ایکسپریس‘ کوانٹرویو


Qaiser Iftikhar April 05, 2016
 قوال کہلوانا پسندہے، قوالی میری روح سے جدا نہیں ہوسکتی : ’ ایکسپریس‘ کوانٹرویو فوٹو : فائل

ISLAMABAD: فن قوالی کا تذکرہ ہوتواس شعبے میں ایک ہی نام ایسا ہے جس نے دنیا بھرمیں اپنی شاندارپرفارمنس سے پاکستان کا نا صرف نام روشن کیا، بلکہ بزرگان دین کے کلام سے امن، دوستی، محبت اوربھائی چارے کا پیغام مغرب میں بسنے والے غیرمسلموں تک کچھ اس انداز سے پہنچایا کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے دین اسلام قبول کرلیا۔

وہ کوئی اورنہیں بلکہ پاکستان کا مان اورشان استاد نصرت فتح علی خاں مرحوم تھے، جنہوں نے درگاہوں پرسجنے والی محافل سماع کوملک کے گلی کوچوں اورپھردنیاکے بڑے بڑے میوزک کنسرٹس تک لیجانے میں اہم کردارادا کیا۔ پہلے توقوالی کوسننے والے اورپسند کرنے والوں کی تعداد بڑی مختصرتھی اور درگاہوں تک ہی محدود تھی لیکن استاد نصرت فتح علی خاں کی جاندارپرفارمنس نے قوالی کونا صرف ملک بھرمیں بلکہ پڑوسی ملک بھارت سمیت دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اوربہت نام کمایا۔

یہ فن قوالی ہی تھا جس نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک قوال کو دنیا کا سب سے پسندیدہ فنکاربنا دیا۔ جس طرح استاد نصرت فتح علی خاں نے اپنی خاندانی روایت کوآگے بڑھایا اورفن قوالی کوبام عروج تک پہنچایا، اسی طرح ان کی وفات کے بعد اس سلسلے کوان کے جانشین راحت فتح علی خاں نے بھی آگے بڑھایا لیکن پھربولی وڈ فلموںکے گیتوں کا ایسا دورچلا کہ راحت بھی بظاہر اپنی خاندانی روایت سے کچھ دورہوگئے۔

مگراب ایک مرتبہ پھر وہ بڑے زوروشور سے اپنی خاندانی روایت کوآگے بڑھاتے ہوئے فن قوالی پرکام کرنے لگے ہیں۔ ویسے تووہ نوبل پرائز کی تقریب ہویا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال، دنیا کے تمام اہم مقامات پرپاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اوراپنی عمدہ پرفارمنس سے ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔

اب توصورتحال کچھ یوں ہے کہ ان کی آوازجس فلم اورڈرامہ کے ٹائٹل سانگ میں شامل ہوجائے ، پھروہ اس کی کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں راحت فتح علی خاں کی بے پناہ مصروفیت کے باوجود ان کی رہائشگاہ پرایک نشست ہوئی ، جس میں انہوں نے فن قوالی کی اہمیت اوراس پرزیادہ سے زیادہ کام کرنے کے حوالے سے دلچسپ گفتگوکی، جوقارئین کی نذرہے۔

راحت فتح علی خاں نے کہا کہ یہ بات توکسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ میرا تعلق قوالی کے کس گھرانے سے ہے۔ ہمارا خاندان گزشتہ کئی صدیوں سے اس شعبے سے وابستہ ہے اورخاص طورپرفن قوالی کیلئے ہمارے خاندان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ میں بھی اپنی خاندانی روایت کوآگے بڑھانے کیلئے بچپن سے ہی قوالی کے پیشے سے وابستہ ہوں۔

چھوٹی سی عمرمیں استاد نصرت فتح علی خاں سے سیکھنے اوران کے ساتھ پرفارم کرنے کا موقع ملا۔ اس لئے تومیں یہ کہتا ہوں کہ میں بنیادی طورپر ایک قوال ہوں، مجھے گلوکارسے زیادہ خود کو قوال کہلوانا پسند ہے۔ صوفیانہ کلام میری روح میں بسا ہوا ہے۔ قوالی ہمارا خاندانی کام ہے، ہمارے آباؤاجداد نے فن قوالی کو فروغ دیا اوردنیا بھرمیں متعارف کروایا۔

استاد نصرت فتح علی خان جیسا دوسرا قوال مجھے آج تک نظر نہیں آیا۔ ان کی وجہ سے فنِ قوالی کوبہت عروج ملا۔ ان کو عالمی سطح پر بھی بہت سراہا گیا اورایوارڈزاورخطابات سے نوازا گیا۔ میری موسیقی اورمیری روح سے قوالی کبھی جدا نہیں ہوئی۔ اسی لئے اب میرا تمام ترفوکس قوالی پرہے۔ قوالی عوام کا پسندیدہ میوزک ہے اوراس کی بہترین مثال ہمیں درگاہوں اور درباروں میں سجنے والی محفلوں کودیکھ کرمل جاتی ہے۔

یہ صدیوں پْرانا فن ہے اور آئندہ چند برسوں میں فنِ قوالی کو مزید عروج ملے گا۔ آج کے دور کے گانوں میں جو صْوفیانہ رنگ نظر آتا ہے، وہ قوالی کی مرہون منت ہے، جس فلم میں بھی قوالی شامل کی جاتی ہے، وہ فلم سپرہٹ ہوجاتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کی بے شمارمثالیں موجود ہیں۔ یہاں میں ایک بات کاذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مغربی ممالک میں بسنے والے انگریزبھی قوالی کوبہت پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری مینجمنٹ نے2016ء کوقوالی کا سال قراردیا ہے اوراس سلسلے میں قوالیوں پرمبنی ایک البم بھی ریلیز کیا جا رہا ہے۔ ہمارے بزنس ڈائریکٹرسلمان احمد اس سلسلے میں زبردست تیاریاں کررہے ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں قوالی کے بڑے کنسرٹس کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں بولی وڈ کے گانے نہیں صرف قوالی ہوگی۔ ان کنسرٹ کا نام ہم نے ''جسٹ قوالی'' (JUST QAWALI) رکھا ہے۔

بہت عرصے سے ہم اور ہمارے سْننے والے قوالی کے حوالے سے تشنگی محسوس کر رہے تھے۔ ہم نے اپنے گروپ میں بھی کچھ پرانے ساتھیوں کو واپس بلا لیا ہے ، جو ابتدا میں سماع کی محفلوں میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ ان لوگوں نے استاد نصرت فتح علی خاں کے ساتھ بھی پرفارم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فن قوالی کے فروغ کیلئے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر اور حضرت داتا علی ہجویری کے مزاروں پرسال میں اپنی پارٹی کے ہمراہ حاضری دیں۔ 2016ء میں ان درگاہوں پر صوفیانہ کلام پیش کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں راحت فتح علی خاں نے کہا کہ میں نے اپنی پرفارمنس کے دوران محسوس کیا ہے کہ بولی وڈ فلموں کے گانوں سے زیادہ اثر قوالی کا ہے اور جس چیز کا اثر زیادہ ہو اسے ترجیح دینا چاہیے۔ ہم نے قوالی کے کنسرٹ اور بولی وڈ فلموں کے گانوں کے شوز کو الگ کر دیا ہے۔

ابتدا میں قوالی کے کنسرٹ ہماری مینجمنٹ خود کرے گی۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ بہت ساری نئی چیزیں متعارف کروائیں گے۔ مختلف اختراع لے کر آئیں گے، لیکن اس میں خالصتاً قوالی شامل ہوگی۔ حضرت امیر خسرو، شیخ سعدی، بوعلی سینا قلندر، حافظ شیرازی و دیگر شعراء کا کلام پیش کریں گے۔

اس سلسلہ میں ، میں نے اپنی پارٹی کے ہمراہ باقاعدہ ریہرسلز شروع کردی ہیں۔ جہاں تک بات بولی وڈ کی ہے توبولی وڈ والے تو خود صوفیانہ گائیکی کے دیوانے ہیں۔ وہ اپنے ڈرائنگ روم اور نجی محافل میں قوالی شوق سے سنتے ہیں۔ ایشوریا رائے اور ابھیشک بچن کی شادی ہوئی توبولی وڈ کے بگ بی امیتابھ بچن نے مجھے قوالی کے لیے مدعوکیا۔ میں ابتدا ہی سے خود کو قوال کہلوانا پسند کرتا ہوں۔ میری آواز کو بولی وڈ نے استعمال کیا ہے، جبکہ میری روح میں قوال چھپا ہوا ہے۔

میری جوبھی گائیکی ہے، وہ قوالی کے راستے ہی سے نکلتی ہے، اسی وجہ سے وہ منفرد اور الگ نظر آتی ہے۔ یہاں ایک بات اور بتانا چاہوں گا کہ 1992ء کے ورلڈ کپ کے دوران ہمارے کرکٹراستاد نصرت فتح علی خاں کی قوالیاں بہت شوق سے سنتے رہے۔ آج کی نئی نسل بھی قوالی بہت شوق سے سنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں دورہ بھارت کے موقع پر یہ بات پتہ چلی کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ایم ایس دھونی جب بھی اْداس ہوتے ہیں، تو وہ میری گائی ہوئی قوالیاں شوق سے سنتے ہیں۔

قوالی کے فروغ کے حوالے سے راحت نے بتایاکہ ہم اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر اکیڈمی بنا رہے ہیں۔ قوالی اور موسیقی کا شوق رکھنے والا دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہو، وہ ہم سے انٹرنیٹ کے ذریعے تربیت حاصل کر سکتا ہے۔

انٹرنیشل شوز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راحت فتح علی خاں نے کہا کہ بطور پاکستانی مجھے بہت فخرہے کہ میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں آواز کا جادو جگایا۔ ہال میں موجود مختلف ممالک کے سفارتکار، اقوام متحدہ کے اعلیٰ افسران، یورپ، امریکہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اوردیگرممالک کے افسران بھی موجود تھے۔ خاص طورپرڈاکٹر ملیحہ لودھی بھی اس تقریب میں شریک ہوئیں۔

اس موقع پرہم نے اپنی پرفارمنس کا آغاز '' اللہ ہو اللہ ہو'' سے کیا اورقلندری دھمال ''مست قلندر'' پر اختتام کیا، بعدازاں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ہمارے گروپ کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ اقوام متحدہ میں میری پرفارمنس اب تک کی فنی زندگی کے یادگار تاریخی لمحات ہیں، جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکوں گا۔ اس سے پہلے جب عالمی امن کے لیے شاندارخدمات انجام دینے پر ملالہ یوسف زئی کو نوبل پیس پرائز سے نوازا گیا توانہوں نے ہی فرمائش کر کے مجھے اور میرے گروپ کو اوسلو میں پرفارمنس کے لیے مدعو کیا تھا۔ وہ شوبہت غیرمعمولی تھا۔ دنیا کے120ممالک نے ہماری پرفارمنس کو براہ راست دیکھا۔ ایسے تاریخی شوزمیں پرفارم کرکے یقینافخر محسوس ہوتا ہے۔

مقبول خبریں