اوباما کا کیا جاتا ہے

تعجب تو یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کیسے بھولے پن کی مسلسل اداکاری افورڈ کر سکتی ہے


Wasat Ullah Khan April 16, 2016

جیسے جیسے امریکی صدر کی دوسری اور آخری مدتِ صدارت کے اختتامی دن قریب آتے ہیں توں توں وہ اپنا من کھولتا جاتا ہے۔ آخری برس میں ویسے بھی کوئی خاص مصروفیت نہیں ہوتی۔ قوم کی آنکھیں اگلے صدر پر ٹکی ہوتی ہیں اور واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ تازہ صف بندی اور استرکاریوں میں مصروف ہوتی ہے لہٰذا رخصتی صدر کے پاس اپنے آٹھ برس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت ہی وقت ہوتا ہے۔

اس آخری برس میں صدر بارک اوباما نے کیوبا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا کارنامہ انجام دیا اور پھر فوکس نیوز نیٹ ورک کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں جو سنگین غلطیاں ہوئیں۔

ان میں سب سے بڑی یہ تھی کہ ہمیں لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کو ہٹانے کے دوران یہ خیال ہی نہ آیا کہ قذافی کے بعد کیا ہو گا؟ بقولِ اوباما اس معاملے میں پہلے تو برطانیہ اور فرانس نے امریکا کو گھسیٹا اور پھر اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے دونوں ممالک پیچھے ہٹ گئے اور سارا بوجھ امریکا پر آ گیا۔کسی مربوط حکمتِ عملی کے بغیر لیبیا میں مداخلت اور بعد از قذافی لیبیا کے معاملات سے عدم دلچسپی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج وہاں کوئی مرکزی حکومت نہیں۔ مسلح ملیشیائیں باہم برسرِپیکار ہیں۔ دولتِ اسلامیہ ( داعش ) کو اس جوتم پیزار کے سبب لیبیا میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا اور آج لیبیا عراق اور شام کے بعد تیسرا اور افریقہ میں داعش کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔ بد انتظامی کے سبب لیبیا کا ساحل یورپ جانے والے پناہ گزینوں کی پرکشش گزرگاہ بن چکا ہے۔ یوں یورپی یونین کے جنوبی رکن ممالک ( اٹلی، مالٹا، یونان وغیرہ) کو بے پناہ انسانی دباؤ کا سامنا ہے۔

یہ تو صدر اوباما کا بڑا پن ہے کہ انھوں نے اپنے دورِ صدارت میں ہونے والی ایک فاش غلطی کو تسلیم کر لیا اور اس کی روشنی میں شام میں امریکی فوجی دستے اتارنے سے باز رہے۔ یوں ایک بار پھر برطانیہ، فرانس اور خلیجی عرب ریاستوں کے ہاتھوں بال بال ماموں بننے سے بچ گئے۔ اگر وہ اپنے پیشرو صدور کی طرح ایک بھی غلطی تسلیم نہ کرتے تو کوئی بھی کیا بگاڑ لیتا؟

خود ساٹھ برس تک کاسترو کے کیوبا کو ہر طرح سے زچ کرنے میں ناکامی کے بعد کیوبا سے تعلقات کی بحالی بھی ایک طرح سے غلطی تسلیم کرنا ہے۔ بالکل ایسے جیسے کینیڈی، جانسن اور نکسن نے ویتنام کو جھکانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا اور جب ویتنام ٹس سے مس نہ ہوا تو پچاس ہزار امریکی فوجی مروانے کے بعد سمجھداری کا مظاہرہ کیا گیا اور غلطی تسلیم کیے بغیر شکست تسلیم کر لی گئی۔ البتہ چلی میں امریکا نے جس طرح دن دھاڑے سلواڈور آلندے کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ چلی کی فوج کے ذریعے الٹوایا۔ ارجنٹینا، برازیل اور وسطی امریکی ممالک میں جس طرح آمرانہ حکومتوں کو دامے، درمے، قدمے زندہ رکھا۔ انڈونیشیا میں سہارتو کی کرپٹ خونی آمریت کو تیس برس تک جس طرح اپنے پروں تلے رکھا۔

اس سے بھی کہیں پہلے ایران میں مصدق حکومت کا تختہ کرائے کے غنڈوں سے پلٹوا کر جس طرح رضا شاہ کو ایرانی عوام پر مسلط رکھا، پاکستان میں فوجی آمریتوں کو دوام دینے کے لیے جو جو حیلہ سازیاں کی گئیں، چین اور سوویت یونین میں انسانی حقوق کی پامالی پر ٹسوے بہاتے بہاتے جس طرح خلیجی بادشاہتوں سے انسانی حقوق کے باب میں صرفِ نظر کرتے ہوئے تیل میں بھیگا دوستی کا رومال پیش کیا جاتا رہا اور اب مصر میں جنرل سیسی کو جس طرح ''دل پے بھاری پتھر'' رکھ کے اوباما انتظامیہ نے جائز ہونے کا بپتسمہ دیا۔ وہ بھی اگر قابلِ افسوس نہیں تو پھر قابلِ داد ہے۔

ہو سکتا ہے پچاس برس بعد کوئی امریکی صدر ان واقعات کو بھی سنگین غلطیاں قرار دیتے ہوئے کفِ افسوس مل لے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ کہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ صدام حسین کے بعد کا عراق کیسا ہو گا۔ اگر ہوتا تو ہم عراقی ریاست توڑ کے یوں نہ نکل لیتے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ بھی کہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سوویت فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد یہ ملک ایک ایسی زہریلی دیگ میں بدل جائے گا جس میں سوائے دہشت گردی، انتہا پسندی اور مغرب سے نفرت کے کوئی سالن نہیں پک پائے گا۔

صدر اوباما کی جانب سے لیبیا توڑنے کی فاش غلطی کا اعتراف سر آنکھوں پر مگر اس اعتراف کا باقی دنیا کو کیا فائدہ؟ کیا کوئی امریکی قیادت ایسی بھی ابھرے گی جو بعد از واقعات تاسف کی آہیں بھرنے کے بجائے پسِ دیوار دیکھنے کی صلاحیت پیدا کر پائے۔

تعجب تو یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کیسے بھولے پن کی مسلسل اداکاری افورڈ کر سکتی ہے۔ ایک نابینا بھی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطی کے مسائل کی ماں فلسطین اسرائیل تنازعہ ہے۔ اس تنازعے کی پچھلی تاریخ تو گئی بھاڑ میں اگر صرف نوے کی دہائی سے ہی شروع کیا جائے تو ایتزاک رابین اور یاسر عرفات کے درمیان کھڑے مصافحہ بند بل کلنٹن کی ستمبر انیس سو ترانوے کی یادگار تصویر ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ جس سمجھوتے پر اگلے چھ برس کے اندر مکمل عمل درآمد ہونا تھا اسے ردی کی ٹوکری پر پڑے تئیس برس ہو گئے۔

انھی کلنٹن صاحب نے احساسِ خجالت ظاہر کیے بغیر یاسر عرفات اور وزیرِ اعظم اہود بارک کے مابین سن دو ہزار میں کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ کروایا اور اسے بھی نذرِ ردی ہوئے سولہ برس بیت گئے۔ اس دوران عراق ٹوٹ گیا، افغانستان کی ایسی تیسی ہو گئی، عرب بہار عرب خزاں میں بدل گئی، لیبیا ٹوٹ گیا، شام برباد ہو گیا مگر اسرائیل کے اس رویے میں ذرہ برابر فرق نہ آیا کہ وہ کسی بھی امریکی انتظامیہ کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔

بل کلنٹن بھی ڈیموکریٹ تھے، اوباما بھی ڈیموکریٹ ہیں جنہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں کچھ عرصے کے لیے اسرائیل فلسطین تنازعے کا حل نکالنے کے لیے پھرتیاں دکھانے کی کوشش کی لیکن پھر انھوں نے بھی یہ بھاری پتھر چوم کے چھوڑ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اوباما کو زک پہنچانے یا پھبتی کسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اوباما شائد یہ سوچ کے منہ پھیر لیتے ہیں کہ ''پاگلاں نوں کیہہ منہ دینا''۔

اور اگلی مضبوط ممکنہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن بھی ڈیمو کریٹ ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکن اسرائیل پبلک افیرز کمیٹی کے سامنے آپ نے فرمایا کہ اسرائیل کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں بھلے دونوں ملکوں میں کوئی بھی برسرِ اقتدار ہو۔ ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازعے میں غیر جانبدار ہیں۔ پھر کسی نے انھیں اس بیان کے مضمرات سمجھائے تو امریکن اسرائیل پبلک افئرز کمیٹی کے سامنے اپنے خطاب میں خود کو نیتن یاہو سے بھی زیادہ اسرائیل نواز ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

صدارتی امیدواری کی دوڑ میں شامل واحد ڈیموکریٹ برنی سینڈرز ہیں جنہوں نے امریکن اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی کے سامنے تقریرِ وفاداری کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ( ویسے برنی سینڈرز یہودی ہیں)۔

ایسے میں اوباما نے جاتے جاتے اگر ایک غلطی کا اعتراف کر بھی لیا تو ان کا کیا جاتا ہے۔ بلکہ کسی کا بھی کیا جاتا ہے۔ سوائے ان کروڑوں کے جو امریکی مہربانیاں بھگت چکے ہیں، بھگت رہے ہیں یا بھگتیں گے یا بھگتتے رہیں گے۔

مقبول خبریں