شکر ہے اس مالک کا جس نے…
کیا آپ کو دنیا میں کہیں بھی بیس کروڑ بے قصور لوگ ایک ہی ملک میں ملیں گے؟
KARACHI:
میں جس قصائی سے گوشت لیتا ہوں اس نے اپنی دکان پر کسی افسر کا دستخط شدہ سرکاری نرخ نامہ لٹکا رکھا ہے۔ اس پر موٹا موٹا لکھا ہے مٹن ساڑھے چھ سو روپے فی کلو۔ بیف تین سو اسی روپے فی کلو۔ مگر یہ قصائی مجھے مٹن ساڑھے سات سو روپے فی کلو اور بیف ساڑھے چار سو روپے فی کلو فروخت کرتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے لٹکے ہوئے سرکاری نرخ نامے کی جانب توجہ دلائی تو ہنس پڑا ''بابو جی ایسے نرخ نامے تو ہمیشہ حکومت بناتی رہتی ہے۔
نرخ نامے بنانے والوں نے کبھی خود دکان سے گوشت خریدا ہو تو وہ جانیں۔ ہم نے تو ہمیشہ ان کے ڈرائیوروں اور خانساماؤں کی ہی صورت دیکھی ہے۔ کبھی کبھی سرکار کو جوش آتا ہے تو وہ کسی ایک آدھ دکان پر ٹی وی کیمروں کے قافلے کے ساتھ چھاپہ مار کر کارروائی دکھا دیتی ہے۔ تھوڑا بہت جرمانہ ہوتا ہے تو ہم آپ لوگوں سے پورا کر لیتے ہیں۔ یہ جو میں ساڑھے سات سو روپے کلو مٹن اور ساڑھے چار سو روپے بیف بیچ رہا ہوں اس میں سرکاری فوڈ انسپکٹر کے منتھلی سروس چارجز اور مقامی بھتہ خور ٹیکس بھی شامل ہے۔ کیا کریں بابوجی جنگل میں جینے کے لیے کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے ورنہ تو زندگی ہمیں بھی بکرے کی تریوں الٹا ٹانگ دے...
کچھ ایسی ہی درد بھری داستان دودھ والا، پھل فروش، کُنجڑہ اور محلے کا پرچونیہ بھی سناتا ہے اور یوں سناتا ہے کہ آپ الٹا ان پر منافع خوری اور چور بازاری کا شبہہ کرنے کے بجائے رقت آمیز ہمدردی جتانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
متعلقہ سرکاری اہلکار سے شکایت کریں تو وہ اپنی رام کتھا لے کر بیٹھ جاتا ہے کہ صاحب آپ خود ہی انصاف کریں آپ تو پڑھے لکھے سیانے بیانے اور دنیا داری کو سمجھنے والے لوگ ہیں۔ چار میرے بچے ہیں۔ گریڈ میرا چودہ ہے۔ اوپر والے حرامیوں نے چار سال سے میرا پرموشن روکا ہوا ہے۔ میں دکانداروں سے جو منتھلی جمع کرتا ہوں آپ کا کیا خیال ہے کہ صرف میری جیب میں جاتی ہے۔
جو جتنا بانٹتا ہے محکمے میں اس کی اتنی ہی واہ واہ اور ترقی ہوتی ہے۔ کیا مہنگائی ہم لوگوں کو نہیں کاٹتی؟ کیا ہمیں اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں اور بیماری آزاری میں اچھے اسپتالوں میں بھیجنے کا ارمان نہیں۔ اور یہ اسکول اور اسپتال جتنی کھال ہماری آپ کی اتارتے ہیں ہم آپ تو ان کے سامنے فرشتے ہیں۔ اور پھر یہ دکھ بھری داستان سن کے میں اس کرپٹ سرکاری اہلکار کو گھورنے کے بجائے اس سے گلے لگ کے رونے لگ جاتا ہوں۔
بھتہ خور سے پوچھیں کہ بھئی تجھے کیا مسئلہ ہے کہ تو اپنے ہی جیسے لوگوں کی کھال اتار رہا ہے۔ وہ یہاں سے شروع ہو گا کہ وسعت صاحب اور کوئی یہ پوچھنے کی جرات کرتا تو اسے ایک چماٹ دیتا مگر آپ ماشاللہ صحافی ہیں آپ کے سامنے تو میں اف بھی نہیں کر سکتا۔ آپ لوگ تو پولیس والوں سے بھی پیسے لے لیتے ہیں تو پھر میں کس کھیت کا بتھوا ہوں۔
اب آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو سنئے۔ میں بھتہ نہیں لوں گا تو کوئی اور لینا شروع کر دے گا اور پھر علاقے میں میری بات خراب ہو جائے گی۔ اور آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم صرف لیتے ہیں دیتے نہیں؟ بھائی صاحب ہم جتنے پیسے لیتے ہیں اس سے زیادہ تو دینے والوں کی خدمت کرتے ہیں۔ انھیں دوسرے بدمعاشوں سے پروٹیکشن دیتے ہیں۔ پولیس کو کچھ حصہ دے کر غریب دکاندار بھائیوں کو ان قزاقوں سے بچاتے ہیں جن کے بارے میں آپ ہی لوگوں سے سن سن کر بڑے ہوئے ہیں کہ ان کی نہ دوستی اچھی نا دشمنی۔
آپ کو صرف بھتہ نظر آتا ہے۔ اس کے بدلے ہم جو سماجی کام کرتے ہیں وہ کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ سامنے کی زمین دیکھ رہے ہو۔ ریلوے کی زمین تھی برسوں سے خالی پڑی ہوئی تھی۔ اگر ہم نے اللہ کی اس خالی زمین پر اللہ کے بے گھر بندوں کو بسا دیا، کنڈے سے بجلی دے دی اور پانی کا نل لگوا دیا تو کون سی زیادتی کی۔ گورنمنٹ آپ سے بیسیوں ٹیکس لیتی ہے۔ کبھی کسی نے پوچھا کہ وہ ٹیکس کہاں جاتا ہے۔ پھر آپ پانامہ لیکس کو روتے پھرتے ہیں۔
بھائی میاں یہ سڑک پچھلے پانچ سالوں سے آپ کے سامنے ہے۔ دیکھ رہے ہیں نا کہ اس میں گڑھے نہیں غار بن گئے ہیں۔ میں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ دھمکیاں دیں، منت کی، پارٹی کے اوپر کے لوگوں سے کہلوا کے دیکھ لیا مگر مجال ہے سالے ٹس سے مس ہو جائیں۔ وسعت صاحب یہ درندے منہ پھاڑ کے منہ مانگی رشوت مانگتے ہیں۔ اب کہاں سے لا کے دیں ان ظالموں کو۔ ہمارا تو اپنا گزر بسر بڑی مشکل سے ہو رہا ہے۔
یہ ڈیرہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہاں جو بھی غریب غربا آتا ہے کھانا کھائے بغیر نہیں جاتا۔ پھر رینجر، پولیس والوں اور سیاست دانوں کی مہمانی اور ان کے کام الگ۔ بندہ گرانے سے لے کر کچن چلوانے تک سب ہم سے کروا لیں گے لیکن مجال ہے جو یہ سالی سڑک بنوا دیں۔ اور بدنام ہم ہیں کہ بھتہ خور ہیں۔ وسعت صاحب میں اللہ کو حاظر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ۔ اور پھر میں نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اسے کہا کہ بھائی آنسو پونچھ لے۔ مجھے بھی رلائے گا کیا ؟؟؟؟
آپ چیف منسٹر سے لے کر وزیرِ اعظم تک کسی سے پوچھ لیں کہ جناب آپ کے ہوتے ہوئے یہ کیا ہو رہا ہے۔ فوراً جواب آئے گا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا پورا پورا اندازہ ہے۔ مگر ہمارے پاس الہ دین کا چراغ تو نہیں کہ راتوں رات سارا نظام ٹھیک ہو جائے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم دن رات لگے پڑے ہیں۔ بمشکل چار سے پانچ گھنٹے کی نیند میسر آتی ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔ اچھا ہوا آپ آ گئے۔ یہ رپورٹ آج ہی میرے سامنے آئی ہے۔ اس کی ایک کاپی آپ بھی لے جائیں تو اندازہ ہو گا کہ حالات کتنی تیزی سے سدھر رہے ہیں۔
مثلاً پچھلے سال آپ کے صوبے میں قتل کی دو ہزار چار سو انیس وارداتیں ہوئیں لیکن اس سال الحمدللہ صرف دو ہزار تین سو اکہتر قتل ہوئے ہیں۔ اسی طرح ڈکیتیوں میں بھی خاصی کمی آئی ہے۔ پچھلے سال ہم نے صرف تین سو پندرہ بھتہ خور پکڑے تھے۔ اس سال آپ کو جان کر خوشی ہو گی کہ ہم نے تین سو اٹھارہ بھتہ خور پکڑے ہیں یعنی پچھلے سال کے مقابلے میں تین زیادہ۔ مگر یہ صرف حکومت کی ہی تو ذمے داری نہیں۔ عدالتی نظام کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت تو لگے گا لیکن انشااللہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
آپ تو خیر شریف آدمی ہیں۔ میڈیا کو سوائے طعنوں کے کچھ کام نہیں۔ ہم جو عوام کی خدمت میں دن رات جٹے پڑے ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ بس ہماری نسل در نسل محنت سے حاصل کمائی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سب غریب ایماندار اور سب کروڑ پتی ارب پتی چور ہیں۔ بھائی پانچوں انگلیاں ایک سی نہیں ہوتیں۔ مگر صاحب ریٹنگ کا لالچ اچھے اچھوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر شریفوں کی عزت خِاک میں ملانے پر ذرا بھی پشیمانی نہیں ہوتی۔
ان سب ''بے چارے'' لوگوں سے مل کر میری آنکھیں کھل گئیں ہیں۔ اب میں تھک ہار کے گھر میں پڑا سوچ رہا ہوں کہ ہم کتنی خوش قسمت قوم ہیں۔ کیا آپ کو دنیا میں کہیں بھی بیس کروڑ بے قصور لوگ ایک ہی ملک میں ملیں گے؟ شکر اس مالک کا جس نے اتنا اچھا ملک دیا۔