پاکستان میں کرکٹ میں جوا۔ ذمے دار کون
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جوا کے کاروبار سے منسلک ہیں
شرجیل خان پاکستان کرکٹ کا ابھرتا ہوا ستارہ تھا۔ ابھی تو اس ستارہ کی روشنیاں مکمل طور پر پھوٹنی بھی شروع نہیں ہوئی تھیں کہ گرہن لگ گیا۔ روشنی ختم ہوگئی۔ اور داغدار ہو گیا۔ پوری قوم کو دکھ ہے۔ شرجیل خان کو پی ایس ایل سے ہی عروج ملا اور وہ پی ایس ایل میں ہی بجھ گئے۔ لیکن شرجیل خان پہلے پاکستانی کرکٹر نہیں ہیں جو سٹے کے شبے میں پکڑے گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی پاکستان کرکٹ جوئے کی داغدار کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ان میں کچھ کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں اور کچھ سینوں میں دفن ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ جوا کسی کا نہ ہوا۔ لیکن پھر بھی دنیا بھر میں جوا ایک مقبول کھیل ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اس کھیل کی مقبولیت کے سامنے سرنگوں کرتے ہوئے اس کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں جوا خانوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جوا کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ اسی لیے شاید انھوں نے اپنی سیاست کو بھی جوئے کے کھیل کی مانند ہی لیا ہے۔ اور اب وہ اپنی صدارت کو بھی جوئے کی طرز پر ہی چلا رہے ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو بڑی فتح اور ہار گئے تو بڑی شکست۔ جوا بڑا رسک لینے کا ہی کھیل ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ٹرمپ نے اپنی تمام سیاست داؤ پر لگائی ہوئی ہے۔ اور ہارنے کی صورت میں ان کاکھیل ختم بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں جوئے کا رحجان کم ہے۔ یہاں محفوظ کھیل کا رحجان ہے۔ کوئی بھی اپنی سیاست پر داؤ لگانے کو تیار نہیں۔ ہر کوئی ایسا کھیل کھیلنا چاہتا ہے جہاں کم سے کم نقصان کا خطرہ ہو۔ اسی لیے کم فائدہ بھی قبول کیا جا تا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں اس وقت سب سے بڑا سیاسی جوا پانامہ پر ہی ہو رہا ہے۔ اس میں ایک طرف میاں نواز شریف کی سیاست داؤ پر لگی ہے تو دوسری طرف عمران خان کا سیاسی کلچر بھی خطرہ میں ہے۔ لیکن عمران خان اس جوا میں محفوظ پوزیشن میں ہیں۔ اگر وہ پانامہ ہارتے بھی ہیں تو ان کی سیاست ختم نہیں ہو گی جب کہ میاں نواز شریف کے پاس ہارنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ پانامہ کی سماعت بھی ایک ایسا ہی میچ ہے جس میں دونوں کھلاڑی سیاسی زندگی کا جوا ہی کھیل رہے ہیں۔
دنیا بھر میں جوئے کو قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن پھر بھی کھلاڑیوں کو جوا میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔ کھیل پر جوئے کی اجازت ہے لیکن کھیل کو فکس کرنے کی اجازت نہیں۔ اسی لیے عوام کو میچ پر جوا لگانے کی اجازت ہے لیکن کھلاڑیوں کو اس جوا میں شریک ہونے کی اجازت نہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ اور دنیا بھر میں کھلاڑی اس باریک سرحد کو پار کر لیتے ہیں۔ اسی لیے کھیلوں کی تنظیموں نے کھلاڑیوں پر نظر رکھنے کے لیے بڑے بڑے نیٹ ورک بنائے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی کر کٹ کوئی عروج پر نہیں ہے بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس بات کے شدید خطرات موجود ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ کا بھی ہا کی جیسا حال نہ ہو جائے۔ پی ایس ایل بھی پاکستان کی کرکٹ کو بچانے کی ہی ایک کوشش ہے۔ ہم کرکٹ میں کسی بڑے سانحہ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کرکٹ ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں پی ایس ایل میں جوا سکینڈل بھی کرکٹ کے لیے دھچکا ہے۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا ہم نے محمد عامر کو کرکٹ میں واپسی کا راستہ دیکر پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ اور جوا کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی ہے۔ کیا محمد عامر کو واپسی کا راستہ نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ بلکہ انھیں عبرت کا نشان بنا دیا جانا چاہیے تھا۔ محمد عامر پر زندگی بھر کے لیے کرکٹ کے دروازے بند ہونے چاہیے تھے۔ میں اس دلیل کا حامی نہیں ہوں۔
ایک مہذب معاشرہ میں کسی بھی جرم کی مقررہ سزا کاٹنے کے بعد ہر شہری کے پاس واپسی کا قانونی حق موجودہ ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ محمد عامر کی واپسی سے جوا کھیلنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی قابل قبول نہیں۔ اگر محمد عامر دوبارہ جوا کھیلتے پکڑے بھی جاتے میں تب بھی یہ دلیل ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی چور پر چوری کی سزا کاٹنے کے بعد زندگی کے دروازے بند کردیں۔
جہاں تک شرجیل خان اور خالد لطیف اور اس جیسے دوسرے کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو اس میں جہاں ان کھلاڑیوں کا قصور ہے وہاں کہیں نہ کہیں پی سی بی کا بھی قصور ہے۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ پی سی بی کھلاڑیوں کی تربیت کرنے میں نا کام رہا ہے۔ ہم کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شعیب اختر کے اس تبصرہ سے تو میں متفق نہیں ہوں کہ کھلاڑیوں کا پینڈو پن سامنے آ گیا ہے۔ یہ پینڈو پن کا سوال نہیں ہیں۔ ہماری دیہی آبادی تو بہت ذہین ہے۔ دراصل یہ سوال تربیت اور لالچ سے دور رہنے کا ہے۔
جب محمد عامر سلمان بٹ اور آصف پکڑے گئے تھے تب بھی پی سی بی بچ گیا تھا۔ اور سارا ملبہ کھلاڑیوں پر ہی گر گیا تھا۔ لیکن پی سی بی نے اتنے بڑے سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پی سی بی نے اپنے اندر ایسا کوئی میکنزم نہیں بنا یا کہ وہ ابھرتے کھلاڑیوں کو جوا کی لعنت سے بچانے کی حکمت عملی بنا سکے۔ کیا پی سی بی کا کمال صرف کرکٹ سے پیسہ کمانا ہے۔ اور ناکامی کی ذمے داری کھلاڑیوں پر ڈال دینے سے پی سی بی بچ جائے گا۔
عمران خان کی نجم سیٹھی سے دشمنی اپنی جگہ۔ یہ دشمنی سیاسی ہے۔ لیکن پی سی بی کے چیرمین شہر یا خان اور نجم سیٹھی کو کم از کم قوم کو یہ اعتبار تو دینا ہو گا ۔ کہ ان کے پاس اس کو روکنے کے لیے کوئی پلان یا مربوط حکمت عملی موجود ہے۔ ابھی تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ اس سارے معاملہ میں پی سی بی ایک خاموش تماشائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ پی سی بی کا کردار پولیس سے زیادہ کچھ نہیں۔ کہ جب جرم ہو جائے گا ہم مجرم کو پکڑ لیں گے۔ اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
یہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی بھی نا کامی ہے۔ اس کے سربراہ کو بھی معطل کیا جانا چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کو اینٹی کرپشن پر قائل نہیں کر سکا۔ جس طرح بچوں کے برے رزلٹ پر ٹیچر کی بھی سرزنش ہوتی ہے اسی طرح صرف شرجیل خان اور خالد لطیف کی معطلی کافی نہیں۔ پی سی بی کے اندر بھی اس سانحہ پر احتساب ہونا چاہیے۔
مجھے ان خبروں پر بھی ہنسی آ رہی ہے جس میں اس سکینڈل میں بھارت کا ہاتھ بتا یا جا رہا ہے۔ ویسے تو آئی پی ایل میں بھی جوا پکڑا جا چکا ہے۔ اس لیے بھارت کا اپنا ریکارڈ اس معاملہ میں کوئی اتنا اچھا نہیں کہ وہ ہم پر انگلی اٹھا سکے۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ قصور ہماری مرغی کا ہے جو ہمسائیوں کے گھر انڈا دے آئی ہے۔ اس لیے ہر معاملہ میں بھارتی سازش قرار دیکر ہمیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جہاں یہ کھلاڑیوں کی نااہلی ہے وہاں یہ پی سی بی کی بھی نا کامی ہے۔ اور پی سی بی کو اپنے اندر بھی احتساب کرنا چاہیے۔ کم از کم نا اہل لوگوں کو ہی نکالنا ہو گا۔ ورنہ ایسا ہو تا رہے گا۔ کیونکہ یہ پی سی بی کی نا کامی اور نا اہلی بھی ہے۔ ملبہ صرف کھلاڑیوں پر نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کرنا ہو گی۔