دہشت گردی کے خلاف آپریشن مگر احتیاط سے

اس وقت پنجاب ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے


مزمل سہروردی February 28, 2017
[email protected]

اس وقت پنجاب ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ جنوبی پنجاب جائیں تو وہاں کے حالات بھی عجیب لگ رہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کا خطرہ ہے ۔ میں اپنے دوست ظفر آہیر کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے ملتان گیا' اس شادی میں بعض اہم شخصیات شاید سیکیورٹی خدشات کی بنا پر شریک نہیں ہوئیں' ان میں گورنر پنجاب اور سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی شامل ہیں۔ ویسے تو ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ظفر آہیر کو مبارکباد دینے جانا تھا لیکن ان کا دورہ ملتان بھی سیکیورٹی خدشات کا ہی شکار ہو گیا۔

ادھر لاہور کے حالات بھی ملتان سے مختلف نہیں ہیں۔ اتوار بازار بند کر دیے گئے ہیں' البتہ لاہور میں شاد مان کا معروف اتوار بازار کھلا رہا۔ کومبنگ آپریشن کا شور ہے۔ کئی مارکیٹوں میں سرچ آپریشن جاری ہیں۔ نیشنل کالج آف آرٹس بند ہے' یونیورسٹیاں کبھی بند کی جاتی ہیں کبھی کھول دی جاتی ہیں' ہاسٹلز کی بھی تلاشی شروع ہے۔

ادھر سابق رکن صوبائی اسمبلی قیصر امین بٹ کے بیٹے کے ولیمہ میں سیاستدانوں کا ایک جم غفیر موجود تھا۔ اس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق' خواجہ سلمان رفیق' رانا مشہود اور مئیر لاہور سمیت وزرا کی ایک ظفر موج موجود تھی۔وزیر اعلیٰ پنجاب پہلے ہی قیصر امین بٹ کے گھر جا کر ان کو مبارکباد دے چکے تھے۔ چلیں قیصر امین بٹ اس حوالے سے خوش نصیب رہے کہ ان کے بیٹے کی دعوت ولیمہ لاہور میں تھی اگر ملتان میں ہوتی تو ان کے بہت سے دوست شرکت سے محروم رہ جاتے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی کمی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے اس لڑائی سے نبٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے سول اور عسکری اداروں کو مکمل فری ہینڈ دیا جا رہا ہے۔ سرچ آپریشنز میں مشکوک افراد کی گرفتاریوں کی خبریں بھی میڈیا میں آرہی ہیں۔ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی نرمی کے خلاف ہوں۔ لیکن کارروائی ٹارگٹڈ ہونی چاہیے تاکہ بے گناہ افراد محفوظ رہیں۔ لیکن پھر بھی لاہور بالخصوص پنجاب میں یہ تاثر بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ جیسے پختونوں کو ٹارگٹ کیاجا رہا ہے حالانکہ پنجاب اور لاہور کا حسن یہی ہے کہ یہاں کوئی لسانیت نہیں ہے۔

یہاں پورے پاکستان کی ساری قومیتیں آرام اور سکون سے رہ سکتی ہیں۔ یہ میرا لاہور ہی ہے جہاں لیاقت بلوچ اپنے نام کے ساتھ بلوچ لگا کر سیاست کر سکتے ہیں۔ عمران خان خان لگا کر سیاست کر سکتے ہیں۔بھٹو' بھٹو لگا کر سیاست کر سکتے ہیں۔ یہ میرا لاہور ہی ہے جہاں سندھ کی بے نظیر بھٹو کا تاریخی استقبال ہو سکتا ہے۔ اور بلاول اس کو فتح کرنے کے خواب دیکھ سکتا ہے۔ یہاں رنگ و نسل زبان قومیت کی کوئی پہچان نہیں۔ مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ پورے ملک سے لوگ لاہور اور پنجاب کے کسی بھی علاقہ میں آکر آباد ہو جاتے ہیں اور انھیں کوئی مشکل نہیں پیش آتی۔

یہاں پنجاب یونیورسٹی میں ہزاروں بلوچ بچے پڑھ رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی نفرت نہیں بلکہ وہ پنجاب کی ثقافت کو انجوائے کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان ہے اور یہاں پورا پاکستان رہ سکتا ہے۔ لیکن میرے لیے یہ نہایت تکلیف دہ ہے کہ موجودہ آپریشن کے حوالہ سے ایسا تاثرپھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے کسی مخصوص کمیونٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ پاکستان کے خلاف سازش لگتی ہے' اس سے شاید دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تو کوئی وقتی کامیابی مل جائے لیکن یہ مستقل حل نہیں ہو گا بلکہ نفرتیں بڑھ سکتی ہیں۔

اس موقع پر میں لاہور کے ایک شخص کی داستان بھی لکھنا چاہتاہوں۔ اسے دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے ادروں نے سانحہ گلشن اقبال کے بعد مشکوک سمجھ کر اٹھا لیا۔ پہلے دو ماہ سے زائد اسے نامعلوم مقام پر رکھا گیا۔ جہاں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔ا ن کا خاندان پریشان تھا۔انھوں نے مجھ سے بھی مدد کی بات کی۔ لیکن ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا تھا کہ جب بات کی جائے تو افسران یہ کہتے کہ آپ دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔

دو ماہ بعد جب اس شخص کے خلاف کچھ نہیں ملا تو اسے پولیس کے حوالہ کر دیا گیا۔ پولیس نے اسے رہا کرنے کے بجائے اس کے خلاف ایک فرسودہ کیس بنا یا کہ اسے سبزہ زار کی گراؤنڈ سے دہشت گردی کا منصوبہ بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔ اور یوں اسے جیل بھیج دیا گیا۔ نو ماہ بعد اس کے خلاف کوئی بھی ادارہ کوئی ثبوت عدالت میں نہیں پیش کر سکا تو عدالت نے اسے رہا کر دیا۔ لیکن وہ شخص اور اس کا خاندان جس تکلیف اور کرب سے گزرا ہے۔ اس کا کون حساب دے گا۔ لیکن ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اسے انصاف دینا بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جزو ہے۔

ہمیں سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاگ جنگ اپنی جگہ لیکن ایک بھی معصوم و بے گناہ شہری کے ساتھ زیادتی کا جواب کون دے گا۔ کیا یہ لمبے لمبے سرچ آپریشن مسائل کا حل ہیں یا معاملات کو خراب کر رہے ہیں۔ کیا یہ سرچ آپریشن انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی نہیں ہیں کہ ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں اور ہم نے جگہ جگہ تلاشی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردوں کے سلیپر سیل ہیں لیکن کسی کے پاس پکی معلومات نہیں ہیں۔ اسی لیے اندھیرے میں تیر چلائے جا رہے ہیں۔

خدا راہ فری ہینڈ کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے، اس سے صرف پنجاب نہیں ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچے گا۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھے گی۔ ایسا نہ ہم ایک بیماری کا علاج کرتے دوسری مہلک بیماری میں پھنس جائیں۔ اس لیے احتیاط لازم ہے۔

مقبول خبریں