جدید پاکستان کی راہ میں رکاوٹ

پاکستان کیسا ہونا چاہیے۔ ہم سب یہ فیصلہ خود ہی کرنا چاہتے ہیں


مزمل سہروردی March 04, 2017
[email protected]

پاکستان کیسا ہونا چاہیے۔ ہم سب یہ فیصلہ خود ہی کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں ایک لبرل پاکستان کی دبے دبے الفاظ میں بات کرتی ہیں جب کہ دینی جماعتیں ایک بنیاد پرست کنزرویٹو پاکستان کی بات کرتی ہیں۔ ایک طرف قائد اعظم کے مغربی لائف اسٹائل کو ایک لبرل پاکستان کی رہنمائی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ کا نعرہ پاکستان کی نظریاتی اساس کی بنیاد کہا جاتا ہے۔

اسی کشمکش میں اب تک ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے مخلوط تعلیم دے سکتے ہیں کہ نہیں۔ یہاں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک مخلوط تعلیم کے حامل اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے جب کہ میرے بھائی اور دیگر کزن ایسے اسکولوں میں گئے جہاں مخلوط تعلیم نہیں تھی۔ ذاتی تجربہ کی بنیاد پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ مخلوط تعلیم کے تعلیمی ادارے ہی بچے کی صحیح تعلیم و تربیت کرتے ہیں ۔

یہ نہایت افسوسناک امر ہے کہ ملک میں مخلوط تعلیم دینے والے اسکولوں اور کالجوں کی ایک مربوط پالیسی کے تحت حوصلہ شکنی کی گئی اور جس اسکول سے میں نے مخلوط نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کی وہاں بھی اب لڑکے اور لڑکیوں کی کلاسز الگ کر دی گئی ہیں ۔ میں اس کو جدید پاکستان کے خلاف سازش سمجھتا ہوں۔ جب یہ طے ہو گیا ہے کہ صنف نازک کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں اور ان کو ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہو گا تو پھر مخلوط تعلیم کے اسکول کالج اور یونیورسٹیاں ترقی کی اس شاہراہ پر دونوں کے اکٹھے کام کرنے کی پہلی تربیت گاہ ہے۔ اگر ہم دونوں کو اکٹھے پڑھنے نہیں دیں گے تو وہ ملک کی ترقی اکٹھے مل کر کیسے کر سکتے ہیں۔

آجکل حساس ادروں کی جانب سے ایک تھریٹ لیٹر گردش کر رہا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ دہشتگرد مخلوط تعلیم کے اداروں کو ٹارگٹ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس خطرہ کے پیش نظر حکومت نے این سی اے جیسے ادارہ کو بند کیا ہے اور مخلوط تعلیم کی حامل یونیورسٹیوں میں چیکنگ کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ ہاسٹلز کی تلاشی لی جا رہی ہے اور یہ چیک کیا جا رہا ہے کہ کہیں ہاسٹلز میں کوئی غیر ملکی تو نہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ مجھے اس بات پر بھی نہایت افسوس ہوا کہ دہشتگرد ماڈرن تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر تعلیمی ادارے میں مخلوط تعلیم لازمی ہونی چاہیے۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ والدین مخلوط تعلیم کے اداروں میں خطرہ سے ڈر کر اپنے بچے اور بچیاں ان اداروں میں بھیجنا بند کردیں۔کیا یہ جدید پاکستان کے ساتھ سازش نہیں اور یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے۔ لیکن ہمیں دشمن کی اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔ خواتین کی الگ یونیورسٹیاں کالج اور اسکول دنیا میں کوئی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے بلکہ اس کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ایک طرف ہم پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کے خواہاں ہیں۔ سیاحت کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ سرمایہ کار اور سیاح کے لیے تفریح کے تمام مواقع بند کر دیے جائیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان سے لوگ تفریح کے لیے دبئی اور ملائشیا جیسے اسلامی ممالک میں جاتے ہیں۔ اور وہاں سرمایہ کاری میں اضافہ کی ایک بنیادی وجہ ان کی لبرل پالیسیاں بھی ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلے جدید دنیا میں قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ اس ضمن میں کیا یہ مثال کافی نہیں کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے اپنے فیصلوں کو برقرار رکھنے میں شدید مشکل ہو رہی ہے۔ پردہ کرنا یا نہ کرنا کسی بھی خاتون کا انفرادی حق ہے ، اس ضمن میں عدالتی فیصلے انسانی آزادی کے خلاف ہے۔

مجھے پتہ ہے کہ میری باتوں سے اختلاف کرنے والوں کے پاس مذہب اور اخلاقیات کی آڑ میں دلائل کا انبار ہو گا۔ لیکن کیا ہم پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر کے پاکستان کی ترقی کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ کیا جدید پاکستان کی کوئی بھی شکل دنیا کے ساتھ چلے بغیر ممکن ہے۔ کیا ہم دنیا کو پاکستان دوست بنانا چاہتے ہیں یا ایک ایسا پاکستان دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں جس کو دیکھ کر دنیا پاکستان سے دور ہو جائے۔ کیا ترقی کرنیو الے اسلامی ممالک نے اپنے دروازے دنیا کے لیے کھولے ہیں یا بند کیے ہیں۔ کیا ہم اپنے تعلیمی ادارے بنیاد پرست بنا کر ان کو عالمی سطح پر کوئی مقام دے سکتے ہیں۔

...............

ملتان پریس کلب جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا پریس کلب ہے۔ میں نے تو ملتان میں تب کام کیا ہے جب ملتان سے صرف ایک اخبار نکلتا تھا۔ لیکن اب ملتان سے تمام قومی اخبارات نکلتے ہیں اور تمام چینلز کے بڑے بڑے بیورو اب ملتان میں موجود ہیں۔ ملتان میں ڈی ایس این جی کی بھی بھرمار ہے۔ ملتان میں صحافت کی اس ترقی نے ملتان میں پریس کلب کو بھی ترقی دی ہے۔

لیکن ایک بات ملتان کو پاکستان کے دیگر پریس کلبوں سے ممتا کرتی ہے وہ ملتان پریس کلب کے صدر شکیل انجم کی شخصیت ہے۔ وہ اب نویں دفعہ ملتان پریس کلب کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ یہ اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزشتہ دو ماہ میں ملتان پریس کلب کے عہدیداروں سے ملاقات کے دو تین پروگرا م طے ہوئے ہیں لیکن ملکی حالات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ملتان میٹروکے افتتاح کے مواقع پر بھی یہ ملاقات طے تھی لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے نہ ہو سکی۔

لیکن بغیر ملاقات کے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب نے ملتان پریس کلب کی ہاوسنگ سوسائٹی میں صحافیوں کو قبضہ کی منظوری دے دی۔ اس ضمن میں سیکریٹری اطلاعات حکومت پنجاب راجہ جہانگیر کی کاوشیں قابل دید ہیں۔ لیکن پھر بھی جس طرح لاہور کے صحافی وزیر اعلیٰ پنجاب کو روز پکڑ لیتے ہیں ملتان کے صحافیوں کے لیے یہ ممکن نہیں۔ اس لیے میری گزارش ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ملتان پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کو نہ صرف ملنے کا وقت دیں بلکہ لاہور ملتان پریس کلب کے درمیان گرانٹ اور دیگر فرق کو ختم کریں ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اور اس حوالہ سے کوتاہی پنجاب کی یکجہتی کے حق میں نہیں۔ بہر حال شکیل انجم کو ہر دفعہ ملتان پریس کلب کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد۔

مقبول خبریں