پی ایس ایل فائنل کا لاہور میں انعقاد ۔۔ ویلڈن شہباز شریف
پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد پر سب ہی خوش ہیں
NEW DELHI:
پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد پر سب ہی خوش ہیں۔بلا شبہ اس کامیاب انعقاد پر ویلڈن شہباز شریف کہنا چاہیے۔ یہ شہباز شریف کے لیے ایک آسان فیصلہ نہیں تھا۔ ایک ایسے ماحول میں جب لاہور دہشت گردوں کے نشانہ پر تھا ۔شہباز شریف نے لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کرانے کی حامی بھر کے ایک بہت بڑا رسک لیا تھا۔ سب کہہ رہے تھے کہ اگر کچھ ہو گیا تو کیا ہوگا ۔
لیکن شہباز شریف کو اپنی ٹیم پر یقین تھا۔ عمران خان نے بھی ماحول خراب کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ لیکن شاید انھیں پہلی دفعہ اندازہ ہوا ہو گا کہ عوامی جذبات کے خلاف چلنے میں عزت نہیں رسوائی ہی رسوائی ہے۔ عمران خان غلط بات نہیں کر رہے تھے لیکن شاید وہ بات غلط موقع پر کر رہے تھے۔ ہر بات ہر وقت نہیں کہی جا سکتی۔ عمران خان کے خدشات کا کس کو علم نہیں تھا۔لیکن انھیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ یہ وقت حکومت پر تنقید کرنے کا نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا تھا۔ شایداسی لیے وہ خود تنقید کر کے بند گلی میں پھنس گئے۔ جس کا انھیں بعد میں اندازہ ہوا ۔ لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔
ویسے تو پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد پر مریم نوازنے بھی بہت سے ٹوئٹ کیے جن میں بہترین تو نہیں ریساں لاہور شہر دیاں تھا۔ تا ہم ان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو خراج تحسین اور اس بات کا اقرار کہ وہ شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں کی بہت بڑی فین ہیں۔ مریم نواز کی جانب سے شہباز شریف کو مبارکباد اور ان کی فین ہونے کا اعلان بھی مستقبل کے سیاسی نقشہ کی منظر کشی کر رہا ہے۔ پی ایس ایل کی خوشی میں شاید ان ٹوئٹ کی سیاسی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یقیناً لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کے امیج کو بہتر کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی پذیر ائی ہوئی ہے۔ اور ہمارے دشمن کو ناکامی ہوئی ہے۔
یہ درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے نہیں۔ یہ جنگ کسی ایک دن کے امن کے نتیجہ میں جیتی نہیں جا سکتی۔ یہ درست ہے کہ پی ایس ایل کا لاہور میں فائنل دہشت گردوں کے ساتھ ایک فائنل سے کم نہیں تھا۔لیکن یہ کوئی مستقل جیت نہیں ۔ مستقل جیت مستقل امن سے ہی ہو گی۔ اور مستقل امن کے لیے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف جب ہم پی ایس ایل کے فائنل کے کامیاب انعقاد پر خوشی منا رہے ہیں دوسری طرف پاک فوج کے پانچ جوانوں نے افغانستان کی سرحد سے پاکستان میں گھسنے والے دہشت گردوں کو روکتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ابھی ہم یہ جنگ جیتے نہیں ہیں۔
پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے سے پہلے پنجاب کی حکومت ہی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے افسران بھی شدید شش و پنج کا شکار تھے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔جس میں نا کامی کا کوئی چانس نہیں تھا۔ اگر کچھ بھی غلط ہو جاتا اگر دہشت گرد ایک بھی چھوٹی سی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو سب کی چھٹی پکی تھی۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ قذافی اسٹیڈیم کو قلعہ بنا کر میچ کرایا گیا ، غلط کہہ رہے ہیں ۔ میری جب سی سی پی او لاہور سے بات ہوئی اور میں نے کیپٹن(ر) امین وینس سے کہا کہ آپ قذافی اسٹیڈیم کو قلعہ بنا کرمیچ کرا رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں ہمارے لیے تو لاہور کا ایک ایک انچ اہم ہے۔ اس دن اگر پورے لاہور میں کہیں بھی کوئی کچھ ہو جاتا ہے تو ساری محنت پر پانی پھر جائے گا۔
اس لیے ہمارے لیے پورا لاہور اہم ہے۔ تا ہم میں سمجھتا ہوں کہ اس دن پوار لاہور ہی نہیں پوارا پاکستان اہم تھا۔ ہم پاکستان میں کہیں بھی کسی بھی دہشت گرد حملے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔بہر حال قذافی اسٹیڈیم کا سیکیورٹی پلان ایس ایس پی رانا ایاز سلیم نے ترتیب دیا تھا۔ اور اس کو اسمارٹ سیکیورٹی پلان کا نام دیا گیا۔
یہ اسمارٹ سیکیورٹی پلان کامیاب رہا ۔ جہاں تک پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کامعاملہ ہے ۔ اس ضمن میں پی ایس ایل کا فائنل ایک ٹیسٹ کیس ضرور تھا لیکن فائنل ٹیسٹ نہیں تھا۔ صرف اس فائنل کے انعقاد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ممکن نہیں۔اس کے لیے ملک میں حقیقی امن لانا ہو گا۔ صرف کھیل کے میدان محفوظ بنا کر ایسا ممکن نہیں۔ جب حقیقی امن ہو گا تب کھیل کے میدان خود بخود آباد ہو جائیں گے۔ خاص سیکیورٹی میں آکر بین الاقوامی کھلاڑی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ کھلاڑی آزاد پنچھی ہیں وہ بغیر سیکیورٹی کے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس لیے جب ہم انٹرنیشنل میچ نارمل سیکیورٹی کے ساتھ کرانے کی پوزیشن میں آجائیں گے تو انٹرنیشنل کرکٹ خود بخو د بحال ہو جائے گی۔
پی ایس ایل فائنل کے حوالے سے گو نواز گو کے نعروں کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ بھی زیادتی ہو گی۔یہ نعرے لگے لیکن ایسا بھی نہیں کہ صرف یہی نعرہ لگا۔ نجم سیٹھی کی تقریر کے دوران یہ نعرے لگے۔ نجم سیٹھی کو سمجھنا ہو گا کہ وہ سیاسی طور پر ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں اپنے اچھے کاموںکا کریڈٹ لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔پی ایس ایل کے فائنل پر نجم سیٹھی بہت مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن انھیں اتنی پذیر ائی نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ لیکن سیاست کے کھیل میں ایسا ہو تا ہے۔ تا ہم پی ایس ایل کا کریڈٹ ان کا ہے جو ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔ جہاں تک گو نواز گو کے نعرہ کا تعلق ہے تو یہ اب ایک سیاسی نعرہ نہیں شغل بن گیا ہے۔
ایک تاثر یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی گو نواز گو کے نعروں کے خوف سے میچ دیکھنے نہیں آئے۔ ویسے تو یہ باقاعدہ اعلان نہیں ہو اتھا کہ وزیر اعظم میچ دیکھنے آئینگے لیکن ماحول ایسا بن چکا تھے جیسے وزیر اعظم میچ دیکھنے آئیں گے۔
یہ معمہ حل طلب ہے کہ کیا وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے میچ دیکھنے نہیں آئے یا اس میں گو نواز گو کے نعروں کا مسئلہ تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم نے پی ایس ایل کا فائنل کرا لیا ہے تو اب پی سی بی اور پاکستان کے دفتر خارجہ کو مل کر ایک مربوط حکمت عملی بنانی چاہیے تا کہ ہم کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں سے ایک دو کو پاکستان آکر انٹرنیشنل میچ کھیلنے پر قائل کر سکیں۔ اس ضمن میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آسکتی ہے، اس کی امید پیدا ہوئی کے کیونکہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی بلا جھجھک آئے ہیں۔تا ہم پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا ایک مرتبہ پھر منوا لیا ہے۔ اسی لیے ان کے مخالف بھی کہہ رہے ہیں ویلڈ ن شہباز شریف۔