پنجاب پولیس کی نئی وردی کا مقدمہ
تبدیلی کی خواہش جس قدر شدید ہوتی ہے اس تبدیلی کو قبول کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے
تبدیلی کی خواہش جس قدر شدید ہوتی ہے اس تبدیلی کو قبول کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ جتنا پرزور مطالبہ تبدیلی کے لیے کیا جاتا ہے اسی پرزور طاقت سے تبدیلی کا راستہ بھی روکا جاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تبدیلی کو ہضم کرنا ایک مشکل کام ہے۔عمران خان کا ایک نعرہ بہت مقبول ہوا ہے کہ تبدیلی آئے گی نہیں بلکہ تبدیلی آچکی ہے۔
آجکل پنجاب پولیس میں وردی کی تبدیلی کے حوالہ سے ایک بحث شروع ہو چکی ہے۔ ویسے وردی تبدیل ہو چکی ہے۔ لیکن پھر بھی وردی کی تبدیلی پر دانشور اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ وردی کو گو کہ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے لیکن یہ ابھی عوام کے سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اس پر عوامی رد عمل کے حوالہ سے تو اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا ضرور لگ رہا ہے کہ وردی کی تبدیلی کو ایک مسئلہ بنا کر ضرور پیش کیا جا رہا ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا کہ ایک مرتبہ پھر تبدیلی کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
پولیس کی موجودہ وردی کی کہانی بھی عجیب ہے۔موجودہ پولیس کا قیام 1861 میں انگریز کی جانب سے کیا گیا۔ انگریز نے امن و امان کی ذمے داری نبھانے کے لیے فوج سے ایک دستہ الگ کیا اور اس کو پولیس کا نام دیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس وقت انگریز نے پولیس کے لیے علیحدہ کوئی بھرتی نہیں کی تھی بلکہ فوج سے ہی جوانوں کو امن و امان کے قیام کے لیے پولیس میں بھیجا گیا۔ اسی لیے پولیس کا ابتدائی یونیفارم بھی خاکی ہی تھا۔ بھارت میں تو ابھی تک خاکی ہی ہے۔
سوال یہ بھی اہم ہے اگر اس کا ابتدائی یونیفارم خاکی تھا تو پولیس کو یہ کالی قمیض کس نے پہنائی۔ شاید آج وردی کی تبدیلی پر تنقید کرنے والے یہ بھول گئے کہ1958 میں پاکستان میں مارشل لا کے نفاذ سے پولیس کی وردی میں پہلی تبدیلی کی گئی۔ شاید فوج نے اقتدار میں آکر یہ سمجھا کہ پولیس کی بھی خاکی وردی اور فوج کی بھی خاکی وردی یہ درست نہیں۔ اس لیے پولیس کی پہلی وردی مارشل لا میں تبدیل ہوئی اور پولیس کی قمیض کالی کر دی گئی۔ اور اس طرح پولیس کا موجودہ یونیفارم معرض وجود میں آیا۔
میں نے پولیس کے اعلیٰ پولیس افسران سے پوچھا ہے کہ آخر پولیس کی وردی میں تبدیلی صرف تبدیلی کی خاطر کی جا رہی ہے یا اس کی کوئی ضرورت بھی تھی۔ تو ذمے دار پولیس افسران کا موقف ہے کہ پولیس کی وردی میں تبدیلی کوئی نئی اسکیم نہیں بلکہ کئی سالوں سے اس پر بات ہو رہی ہے لیکن شاید کوئی بھی اسے کرنے سے ڈرتا تھا۔ اور ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم نے کر دیا ہے۔
پنجاب پولیس کی وردی میں تبدیلی کوئی ایسا کام نہیں جو پہلی دفعہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے ادارے اپنی اپنی ضروریات کے تحت وردی تبدیل کر چکے ہیں فوج نے بھی اپنی وردی میں وقت اور اپنی ضروریات کے تحت تبدیلی کی ہے۔ اے ایس ایف ، رینجرز اور ائیر فورس نے بھی اپنی اپنی وردیوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔ اس لیے کسی بھی فورس کی وردی میں تبدیلی کوئی ایسا کام نہیں جو پہلی دفعہ ہوا ہے اور اس پر بہت شور و غوغا کیا جائے۔ نئی وردی پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پرانی وردی کی تبدیلی کیوں ضروری تھی۔ پولیس کو اس وردی سے کیا مسائل تھے۔
پولیس کا یہ مقدمہ سمجھنے کے بعد ہی ہم وردی کی تبدیلی کا مقدمہ سمجھ سکتے ہیں۔پرانی وردی پر سب سے بڑا اعتراض تو یہ تھا کہ یہ آرام دہ نہیں ہے۔ ہمارے موسم سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کو کلف لگانے کی وجہ سے اس کی استری اور دھلائی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اس کا کپڑا اس قدر عام ہو گیا ہے کہ یہ اب بازار میں آسانی سے میسر ہے۔ اس طرح یہ وردی ایک سیکیورٹی رسک بن گئی ہے۔ پولیس کی یہ وردی دہشت گرد اور ڈاکو بھی اپنی کاروائیوں میں با آسانی استعمال کر لیتے ہیں۔
اس تناظر میں پولیس کو ضرورت تھی ایسی وردی جو پاکستان کے گرم موسم میں آسانی سے پہنی جا سکے یعنی ہمارے موسم سے مطابقت رکھے۔ پہننے میں آرام دہ ۔ اس کو کلف لگانے کی ضرورت نہ ہو۔ اس کو دھونا اور ا س کی استری آسان ہو۔ جہاں تک رنگ کی بات ہے تو یہ درست ہے کہ وردی کے معاملہ میں بہت محدود رنگ میسر ہیں۔ آپ ہر رنگ کو وردی کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ پھر وردی کے بہت سے رنگ بہت سے اداروں نے پہلے ہی استعمال کر لیے ہیں۔ اس لیے رنگ کے معاملہ میں یقینا پولیس کے ذمے داران بند گلی میں ہی تھے۔ ان کے پاس بہت محدود آپشن تھیں۔ جن میں مناسب فیصلہ ہی کیا گیا ہے۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ وردی کے رنگ سے زیادہ اہمیت اور توجہ وردی کے کپڑے پر دی گئی ہے۔ یہ ایک خاص کپڑا ہے جو صرف پولیس کی وردی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ گرمیوں میں ٹھنڈا ہو گا اور پولیس کے عام جوان کے لیے شدید گرمی میں اسے پہننا آسان ہو گا۔ اسی طرح یہ ایک واش اینڈ وئیر کپڑا ہے جس کی استری کوئی مسئلہ نہیں۔ اور یہ نرم کپڑا نہایت آرام دہ ہو گا۔ اسی طرح یہ خاص کپڑا عام مارکیٹ میں میسر نہیں ہو گا۔ اس کپڑے کو ہانگ کانگ کی لیبارٹری سے باقاعدہ چیک کروایا گیا ہے کہ یہ عالمی معیار کے مطابق ہے۔
اس نئی وردی کی تمام خصویات اپنی جگہ لیکن پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ پنجاب پولیس کی وردی کی تبدیلی پر کتنا اضافی خرچہ آئے گا۔ کیا ہم اس عیاشی کے متحمل ہو سکتے تھے۔ لیکن آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا موقف ہے کہ انھوں نے پولیس کی وردی کی تبدیلی کے لیے حکومت سے کوئی اضافی فنڈ نہیں لیا بلکہ ہر سال وردی کے لیے جو پیسے ملتے ہیں انھی پیسوں میں وردی کی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے لیکن بات سمجھنے کی ہے۔
پولیس قواعد کے تحت کانسٹیبل سے سب انسپکٹر تک کی فورس کو سالانہ دو وردیاں محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہیں۔ اس سال یہ دو نئی وردیاں دی جا رہی ہیں اس طرح کوئی نیا خرچہ نہیں آئے گا۔ باقی افسران کو وردی الاؤنس ملتا ہے۔ انھیں وہ الاؤنس ملے گا اور وہ اس سے نئی وردی خرید لیں گے۔ اس طرح اس تبدیلی کی کوئی اضافی لاگت نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اب کانسٹیبل سے آئی جی تک سب ایک ہی کپڑے کی وردی پہنیں گے۔ ورنہ پہلے کانسٹیبل نے عام کپڑے کی اور افسران نے اچھے کپڑے کی وردی پہنی ہوتی تھی۔ لیکن اب چونکہ یہ کپڑا مارکیٹ میں موجود نہیں اس لیے سب اسی کپڑے کی وردی خریدیں گے۔
اس وردی کی قیمت کے حوالہ سے بھی بہت ابہام پیدا کیا جا رہا ہے لیکن اس ضمن میں بھی صورتحال دلچسپ ہے۔ پولیس کو وردی کا مکمل سیٹ جس میں بیلٹ اور بیج شامل ہونگے 1940 روپے میں میسر ہو گا۔ مجھے کچھ دوستوں کی یہ دلیل مضحکہ خیز لگ رہی ہے کہ کالی شرٹ والی پولیس کی وردی میں پولیس کا رعب تھا اور اب اس نئے رنگ کی وردی میں پولیس کا رعب نہیں ہو گا۔ میری دعا ہے کہ ایسا ہو ہی جائے۔
پولیس کا رعب ہی اس کے لیے عوامی نفرت کا باعث ہے۔ اگر یہ نئی وردی اس کا رعب ختم کر دے تو اس کے لیے عوام میں محبت بھی پیدا ہو جائے گی۔ شائد پولیس کے یونیفارم میں تبدیلی ہضم نہیں ہو رہی۔ لیکن وقت کے ساتھ باقی صوبوں کو بھی اس سے قدم ملانا ہو گا۔ کیونکہ یہ تبدیلی وقت کی ضرورت تھی۔