کیا متحدہ مجلس عمل بحال ہو جائے گی
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور ان کی سیاسی پالیسیوں سے بلا شبہ اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی شو نے ان کے ناقدین اور ہمدردوں دونوں کو ہی حیران کر دیا ہے۔ بلا شبہ جے یو آئی کی صد سالہ اجتماع نے ملک کی سیاست میں دینی جماعتوں کے کردار پر ایک بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ جے یو آئی کی صد سالہ سیاسی تاریخ بہت بھر پور ہے۔ جس کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی صد سالہ تقریبات میں تمام مکاتب فکر کی شمولیت نے بلا شبہ اس کی بھر پور تاریخ کی عکاسی کی ہے۔ ویسے تو 52 ممالک کے نمایندہ اس میں شریک ہیں لیکن امام کعبہ کی شمولیت نے یقینا اس کی سیاسی و مذہبی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔
امام کعبہ کوئی پہلی دفعہ پاکستان نہیں آئے۔ وہ پاکستان آتے رہتے ہیں۔ سعودی حکومت نے پہلے بھی انھیں پاکستان کے ساتھ سفارتکاری اور پاکستان میں سعودی حکومت کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ جب یمن میں فوج بھیجنے کا معاملہ تھا تب بھی وہ پاکستان آئے تھے لیکن تب ماحول خراب ہو چکا تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور ان کی سیاسی پالیسیوں سے بلا شبہ اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تو ان کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ وہ سیاست کے کھیل کے ایک ماہر کھلاڑی ہیں۔ جے یو آئی کی صد سالہ تقریبات مولانا فضل الرحمٰن کی کامیاب حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ پیپلزپارٹی کو مدعو کیا گیا ہے۔
مولانا سینیٹ میں پی پی پی کے اتحادی ہیں۔ ن لیگ کے اعلیٰ سطح کے وفد کو مدعو کیا گیا ہے۔ مولانا قومی اسمبلی اور کے پی کے میں ن لیگ کے اتحادی ہیں۔ سراج الحق کو دعوت دی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی مولانا کی سیاسی آپشن میں ہمیشہ سر فہرست رہا ہے۔ اب سراج الحق جماعت اسلامی کے امیر ہیں۔ ان کا تعلق کے پی کے سے ہی ہے اور وہ کے پی کے میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جے یو آئی کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد نوشہرہ میں کیا ہے۔ یقیناً کے پی کے کی تحریک انصاف کی حکومت نے اس ضمن میں جے یو آئی (ف) سے تعاون کیا ہے۔ لیکن پھر بھی تحریک انصاف کو ان تقریبات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
سراج الحق نے اس موقع پر اپنے خطاب میں دینی جماعتوں کے اتحاد کا اختیار مولانا ٖفضل الرحمٰن کو دے دیا ہے۔ویسے تو اس وقت جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمٰن کے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کی کے پی کے میں اتحادی ہے۔ شریک اقتدار ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اتحاد اور شراکت قتدار صرف اور صرف کے پی کے کی حکومت تک محدود ہے۔ کیونکہ شریک اقتدار ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں نے کے پی کے میں بلدیاتی انتخاب ایک دوسرے کے مقابلے میں لڑا ہے۔ اس لیے سراج الحق اور مولانا فضل الرحمٰن کی مستقبل کی قربت میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی شراکت اقتدار حائل نہیں ہو سکتی۔ شاید مولانا فضل الرحمٰن خود اس قسم کے اتحادوں کے ماہر ہیں۔ اور وہ جماعت اسلامی کی سیاسی ضروریات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
اگر بغو ر جائزہ لیا جائے تو اس وقت جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی ایک جیسی سیاسی صورتحال کا شکار ہیں۔ اگر پہلے جے یو آئی (ف) کا جائزہ لیا جائے تو جے یو آئی (ف) کے لیے دو صوبوں کے پی کے اور بلوچستان کی سیاست سب سے اہم ہے۔ وہ انھی دو صوبوں میں حکومت بنانے کی خواہاں ہے۔ اور یہی دو صوبے اس کی پہلی ترجیح ہیں۔ اس وقت جے یو آئی کوایسے اتحادیوں کی تلاش ہے جو ان دو صوبوں میں اس کی مدد گار ثابت ہو سکیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کے جے یو آئی (ف) کے پاس ان دو صوبوں میںووٹ بینک ہے۔ کیا کسی سیکولر اور سیاسی جماعت سے اتحاد کی صورت میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ووٹ بینک کو استعمال کر سکیں گی۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اسی لیے سیاسی تجزیہ نگار ن لیگ اور جے یو آئی کے اتحاد کی جیت کی پیشن گوئی نہیں کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی اس سیاسی شو میں شرکت نہ کرنا بھی ایک پیغام ہے کہ ابھی کچھ طے نہیں ہے۔ جب کہ دوسری طرف جماعت اسلامی اور جے یو آئی ماضی میں مل کر جیت چکے ہیں۔ اور جب سے دونوں جماعتیں الگ ہوئی ہیں۔ جیت بھی ان سے دور ہو گئی ہے۔
دوسری طرف جماعت اسلامی بھی شدید شش و پنج کا شکار ہے۔ ایک تو تحریک انصاف کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ انتخابات کے موقع پر کوئی سیاسی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ کرے گی یا نہیں۔ دوسرا جماعت اسلامی اور تحریک انصا ف کے ووٹ بینک کو بھی وہی مشکل ہے جو جے یو آئی اور ن لیگ میں ہے۔ دینی اور سیکولر کا معاملہ۔
جماعت اسلامی کے ن لیگ سے دروازے اسی طرح بند ہیں جیسے مولانا فضل الرحمٰن کے تحریک انصاف سے بند ہیں۔ لیکن اگر عمران خان جماعت اسلامی سے ملک بھر میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا عندیہ دے دیں تو یہ جماعت اسلامی کی پہلی ترجیح ہو سکتا ہے جیسے اگر میاں نواز شریف مولانا فضل الرحمٰن کو یہ عندیہ دے دیں تو یہ مولانا کی پہلی ترجیح ہو گا۔ لیکن نہ تو میاں نواز شریف جے یو آئی کو اور نہ ہی عمران خان جماعت اسلامی کو آیندہ انتخابات کے لیے کوئی یقین دہانی دے رہے ہیں۔
دونوں جماعتیں اپنے اپنے اتحادیوں کے حو الہ سے ایک جیسی صورتحا ل کا شکار ہیں۔ اس لیے دونوں کی ایک دوسرے سے اتحاد ہی میں عافیت ہے۔ اسی سے دونوں کی سیاسی گیم بن سکتی ہے۔ لیکن یہ اتحاد بطاہر جتنا سادہ نظر آتا ہے۔ اس میں مسائل بھی بہت ہیں۔ جماعت اسلامی ماضی کے تجربات کی روشنی میں چھوٹا اتحادی بننے کے لیے تیار نہیں او ر جے یو آئی برابر رکھنے کو تیار نہیں۔ لیکن سراج الحق نے قدم بڑھا دیا ہے۔ اب مولانا فضل الرحمٰن نے جواب دینا ہے۔