چوہدری شجاعت حسین سب کو قابل قبول ہیں

چوہدری شجاعت حسین اس وقت چار جماعتوں کے ایک اتحاد کے سربراہ ہیں


مزمل سہروردی April 25, 2017
[email protected]

کیا چوہدری شجاعت حسین اپوزیشن کے کسی اتحاد کی سربراہی کر سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نوابزادہ نصر اللہ خان کی وفات کے بعد پاکستان کی سیاست میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے بعد کوئی ایسا سیاستدان سامنے نہیں آیا جو اپوزیشن کے سیاسی اتحاد کی سربراہی کر سکے۔ نوابزادہ نصر اللہ کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ سب کو قابل قبول تھے۔ سب کو ان کی بزرگی کا احترام تھا اور اپنی انھی خصوصیات کی وجہ سے اپوزیشن کے ہر اتحاد کی سربراہی کے لیے وہ سب سے موزوں سمجھے جاتے تھے، چوہدری شجاعت حسین اپوزیشن کے اتحاد کی سربراہی کیلیے ایک موزوں امیدوار کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن کا کوئی بھی اتحاد پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کی شمولیت کے بغیر نا مکمل ہے۔ اگر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دونوں کسی اتحاد میں شامل ہو جاتی ہیں تو یہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔ لیکن شنید یہی ہے کہ دونوں جماعتوں کا کسی ایک اتحاد میں شامل ہونا ممکن نہیں ہے۔ عمران خان کے کیمپ میں یہ سوچ موجود ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد تحریک انصاف کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں جب کہ آصف زرداری کو بھی جانتے ہیں کہ عمران خان ان کے کسی بھی ٹریپ میں نہیں آئیں گے لہٰذا صورتحال یہی ہے کہ اپوزیشن کے اتحاد میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں سے ایک جماعت شامل ہو گی جب کہ اس اتحاد سے باہر رہنے والی جماعت کو سولو فلائٹ کرنا ہو گی۔

اب تک اپوزیشن کے اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہیں۔ وہ ایک دن چھوٹی جماعتوں کو یہ اشارہ دیتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کے ایک بڑے انتخابی اتحاد کو بنانے کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن جب سیاسی میدان میں کسی ایک کامیابی کے بعد یہ اشارہ دینا شروع کر دیتے ہیں کہ نہیں وہ آیندہ انتخابات میں سولو فلائٹ ہی کریں گے۔جب چھوٹی جماعتوں کو یہ اشارہ ملتا ہے تووہ پیپلزپارٹی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ سے باہر ایک بڑے انتخابی اتحاد کے لیے تیار ہے۔لیکن عمران خان کی حکمت عملی یہی ہے کہ نہ تو وہ خود کوئی انتخابی اتحاد بنا رہے ہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی کو بنانے دے رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں نہ کھیلیں گے اور نہ ہی کھیلنے دیں گے۔

عمران خان شائد اس انتظار میں ہیں کہ اگر پاناما کے محاذ پر کوئی بہت بڑی کامیابی مل جاتی ہے تو اپوزیشن کا اتحاد ان کی ضرورت نہیں ہو گا۔ اور اگر ان کو کوئی کامیابی نہیں ملتی تو وہ اپوزیشن کے اتحاد کی طرف جائیں گے۔ عمران خان کی یہی گو مگو کی کیفیت نے اپوزیشن کے اتحاد کو فی الحال سبوتاژ کیا ہوا ہے۔ تا ہم اب ایسا لگتا ہے کہ چھوٹی جماعتوں نے کوئی فیصلہ کرنے کا سوچ لیا ہے۔ اور چوہدری شجاعت حسین ایک ایسے اتحاد کے بارے میں سوچ رہے ہیں جسے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے بغیر ہی پٹری پر چڑھایا جا سکے اور اس کی سیاسی اہمیت کو منوایا جا سکے۔

چوہدری شجاعت حسین اس وقت چار جماعتوں کے ایک اتحاد کے سربراہ ہیں۔ جس میں عوامی تحریک ، سنی تحریک ، مجلس وحدت مسلمین اور چوہدری شجاعت حسین کی جماعت مسلم لیگ (ق) شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد متحدہ مجلس عمل کا نعم البدل ہو سکتا ہے۔کیا چوہدری شجاعت حسین مولانا فضل الرحمن کو اس اتحاد میں لا سکیں گے ۔ یہ ابھی مشکل لگ رہا ہے۔ شائد اسی لیے چوہدری شجاعت حسین نے جماعت اسلامی کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن دونوں ایک جیسی صورتحال کا شکار ہیں۔ جماعت اسلامی اس امید میں ہے کہ پاناما میں عمران خان کا ساتھ دینے کے بعد اب ان کے اور تحریک انصاف کے درمیان انتخابی اتحاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمن سمجھ رہے ہیں کہ پاناما کے معاملہ پر انھوں جس طرح کھل کر میاں نواز شریف کا ساتھ دیا ہے لہٰذا ان کے اور میاں نواز شریف کے درمیان انتخابی اتحاد ممکن ہو گیا ہے۔ ویسے تو دنیا امید پر قائم ہے لیکن ابھی دونوں جماعتوں کی راہ میں کافی رکاوٹیں ہیںکیونکہ امیر مقام شائد کے پی کے کی وزارت اعلیٰ مولانا فضل الرحمن کو دینے کے لیے تیار نہ ہوں اور یہی صورتحال جماعت اسلامی کی بھی ہے۔

لیکن اگر عمران خان نے جماعت اسلامی سے انتخابی اتحا د سے انکار کر دیا اور مولانا فضل الرحمن کو میاں نواز شریف سے کچھ نہ ملا تو تو پھر متحدہ مجلس عمل اور اپوزیشن کے اتحاد میں ان کی شمولیت ممکن ہو سکے گی۔ ان کے بغیر مذہبی جماعتوں کا اتحاد بے رنگ ہو گا۔ لیکن جماعت اسلامی کے پاس ایک ا ٓپشن ہے کہ اگر وہ وقتی طور پر چوہدری شجاعت حسین کے اتحاد میں شامل ہو بھی جاتی ہے تو اس سے اس کی عمران خان کی آپشن باقی رہتی ہے۔ تا ہم مولانا فضل الرحمن اس وقت اپوزیشن کے کسی اتحاد میں شامل نہیں ہو سکتے۔

جہاں تک چوہدری شجاعت حسین کا تعلق ہے ان کی سربر اہی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ یہ صورتحال دلچسپ ہے کہ عمران خان اور آصف زرداری دونوں میں سے جو بھی اپوزیشن کے اس اتحاد میں شامل ہو گا اس کو کم از کم چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ چوہدری شجاعت حسین اس وقت سب کو قابل قبول ہیں۔ مزہ کی بات تو یہ ہے کہ جہاں تک چوہدری شجاعت حسین کی ذات کا تعلق ہے تو وہ ذاتی طور پر تو میاں نواز شریف کو بھی قابل قبول ہیں۔ اس لیے چوہدری شجاعت حسین نوابزہ نصر اللہ خان کی طرح ایک ایسی شخصیت بن کر ابھر رہے ہیں جو سب کو قابل قبول ہیں۔

یہ درست ہے کہ اپوزیشن کے اندر یہ سوچ موجود ہے کہ میاں نواز شریف کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحدہ اپوزیشن الائنس کی ضرورت ہے۔ لیکن اس الائنس کے لیے جس قربانی کی ضرورت ہے اس کے لیے عمران خان اور آصف زرداری تیار نہیں۔ایسے میں چوہدری شجاعت حسین کے لیے سب سے بڑی مشکل یہی ہو گی کہ کیا وہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے بغیر اپنے اتحاد کی کوئی شکل نکال سکیں گے۔کیا متحدہ مجلس عمل کے طرز کا اتحاد چوہدری شجاعت حسین کی کوئی آپشن ہے۔کیا ڈاکٹر طاہر القادری کو ساتھ لے کر چلنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ اتحاد بنے یا نہ بنے۔ لیکن چوہدری شجاعت حسین نے تمام جماعتوں میں اپنی قبولیت ثابت کر دی ہے۔ جس کی اپنی جگہ ایک سیاسی اہمیت ہے۔

مقبول خبریں