شہباز شریف نواز شریف کی ریڑھ کی ہڈی

ن لیگ کی اپنی مخالف سیاسی جماعتوں پر برتری میں نواز شریف اور شہباز شریف کی جوڑی بھی ایک فیکٹر ہے۔


مزمل سہروردی April 27, 2017
[email protected]

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن آصف زرداری کو یہ سمجھ آ گئی ہے کہ میاں نواز شریف کو تب تک انتخابی میدان میں نہیں ہرایا جا سکتا جب تک شہباز شریف کوکمزور نہیں کیا جائے گا۔ شہباز شریف میاں نواز شریف کی وہ ریڑھ کی ہڈی ہیں جو انھیں ہر سیاسی جھٹکے سے بچا لیتے ہیں۔ اسی لیے آصف زرداری نے مالاکنڈ میں شہباز شریف کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

یہ بات کم لوگ مانیں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے پیچھے شہباز شریف کی حکمت عملی اور ایک پلاننگ تھی۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے پنجاب میں لوڈ شیڈنگ پر آواز اٹھائی۔ مینار پاکستان پر ہاتھ والے پنکھوں کے ساتھ بیٹھے۔ حمزہ شہباز نے لاہور اور بڑے شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف جلوس نکالے۔ پنجاب کے ساتھ لوڈ شیڈنگ میں کی جانیوالی زیادتی کو سامنے لایا گیا۔

عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ لوڈ شیڈنگ کا یہ مسئلہ بھی مسلم لیگ (ن) ہی حل کر سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ شہباز شریف نے لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے دعوے کیے لیکن ان دعوؤں نے عوام میں یہ اعتماد پیدا کیا کہ مسلم لیگ (ن) ملک میں جلد از جلد لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی طرح شہباز شریف 2008ء سے پنجاب میں وزیر اعلیٰ تھے۔ شہباز شریف کے انداز حکمرانی کے حوالہ سے عام تاثر یہی ہے کہ وہ ارکان اسمبلی کو زیادہ لفٹ نہیں کرواتے۔ ان کے کام نہیں کرتے۔ ان کی توجہ سیاسی معاملات سے زیادہ گڈ گورننس پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ شہباز شریف نے پنجاب میں ایک ایسی انتخابی حکمت عملی تیار کی تھی جس سے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب جیتنے میں آسانی ہوئی۔

شہباز شریف نے پنجاب کی ہر سیٹ کو جیتنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ ہر سیٹ کے لیے موزوں امیدوار کا انتخاب کیا اور اس کا نام میاں نواز شریف کو تجویز کیا۔ میاں نواز شریف نے بھی شہباز شریف کی حکمت عملی پر اگر سو فیصد نہیں تو نوے فیصد عمل کیا۔ جس کی وجہ سے ہی مسلم لیگ (ن) پنجاب جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں شہباز شریف کے منصوبے نے سو فیصد نتائج دیے۔ اس لیے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی جیت میں شہباز شریف کے کردار کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

2008ء سے 2013ء تک شہباز شریف کی حکومت کوئی مضبوط حکومت نہیں تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت نہیں تھی۔ محترم آصف زرداری نے شہباز شریف کی حکومت ختم کرنے کے لیے گورنر راج بھی لگایا۔ مرحوم سلمان تاثیر نے شہباز شریف کا تختہ الٹنے کی بھر پور کوشش کی۔ارکان کو پرکشش پیشکشیں کی گئیں۔ وزارتوں کا بھی لالچ دیا گیا اور مراعات کی بھی پیشکش کی گئی۔ لیکن آصف زرداری شہباز شریف کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس ناکامی نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کا بوریا بستر گول کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سیاست میں ایک ہار آپ کو جیت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اسی طرح ایک جیت جیت کا سفر شروع کر دیتی ہے۔ گورنر راج کی ناکامی نے پیپلزپارٹی اور چوہدری برادران کی پنجاب کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا اور عمران خان کے لیے خلا پیدا کیا۔ اب یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ خلا کتنا تھا اور عمران خان نے کتنا پر کیا۔

اب بھی صورتحال یہی ہے کہ شہباز شریف نے میاں نواز شریف کو پنجاب کے اکثریتی ضمنی انتخاب جیت کر دیے ہیں ۔یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جب ایسا لگتا ہے کہ گو نواز گو ملک کا مقبول ترین نعرہ ہے، مسلم لیگ (ن) ہر ضمنی انتخاب جیت رہی ہے۔ حال ہی میں جب پانامہ کا ڈرامہ عروج پر تھا تو ملک کی ساری سیاسی جماعتوں نے مل کر تلہ گنگ کی سیٹ پر مسلم لیگ (ن) کے خلاف اتحاد کر لیا۔

حسب عادت عمران خان الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود تلہ گنگ جلسہ کرنے گئے گو نواز گو کے نعرہ لگوائے، پانامہ کا قصہ سنایا اور پھر یہ سیٹ بھی مسلم لیگ (ن) نے ایک بڑے مارجن سے جیت لی۔ اس طرح کی ان گنت داستانیں ہیں جنہوں نے ہر برے وقت میں مسلم لیگ (ن) کی کشتی کو سیاسی سہارا دیا ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ اگر مسلم لیگ (ن) ان ضمنی انتخاب کی اکثریت ہار چکی ہوتی تو کیا ہوتا۔ کیا یہ شور نہ مچ جاتاکہ میاں نواز شریف عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ لیکن جیت پرخاموشی ہی شہباز شریف کی جیت ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب کے چند دورے کرنے کے بعد آصف زرداری کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ جب تک شہباز شریف کو کمزور نہیں کیا جائے گا مسلم لیگ (ن) سے پنجاب چھینا نہیں جا سکتا۔ اسی لیے انھوں نے توپوں کا رخ شہباز شریف کی طرف کر دیا ہے۔میرے خیال میں اس معاملہ میں بھی آصف زرداری نے بہت دیر کر دی ہے۔ شہباز شریف اپنا کام کر چکے ہیں۔ انھوں نے آیندہ انتخابات کے لیے پنجاب کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ امیدواروں کے نام شہباز شریف کی حد تک فائنل ہیں۔جہاں تک پیپلزپارٹی کی پنجاب میں بحالی کا معاملہ ہے تو شائد اس ضمن میںآصف زرداری خود بھی نا امید ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

عمران خان نے بھی کافی دفعہ شہباز شریف پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ناکام رہے ہیں۔ عمران خان کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی جیت میں شہباز شریف ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ شہباز شریف کی انتخابی مینجمنٹ اس قدر بہترین ہے کہ کامیاب جلسوں کے باوجود عمران خان سیٹ نہیں جیتتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن کی پابندیوں کی وجہ سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف خود ضمنی انتخاب میں جلسہ نہیں کر سکتے۔ لیکن حمزہ شہباز نے اس حوالہ سے ایک کامیاب حکمت عملی ترتیب دی ہوئی ہے جو ہر حلقہ میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی جوڑی عجیب ہے۔ ان کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی اڑائی جاتی ہیں مگر ہر بحران میں یہ دونوں سیسہ پلائی دیوار کی طرح اکٹھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اب پانامہ کے ڈرامہ میں بھی نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات کی خبریں زبان زد عام تھیں۔ لوگ کہانیاں سنا رہے تھے کہ بس بات چیت بند ہو گئی ہے۔ بڑے میاں صاحب نے پنجاب کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔

تجزیہ نگار جو ان اختلافات کی کہانیاں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے تھے وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ بس علیحدگی ہونے والی ہے۔ بلکہ ہمیں یہ سمجھایا جا رہا تھا کہ علیحدگی ہو گئی ہوئی ہے۔ بس اعلان باقی ہے۔ لیکن ہر دفعہ کی طرح پانامہ کے فیصلہ والے دن شہباز شریف کی مریم نواز اور نواز شریف کے ساتھ تصویروں نے سب کہانیوں کو ایک مرتبہ پھر غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ تصویر ن لیگ کے سیاسی مخالفین کے لیے ایک اعلان تھا۔جو شائد آصف زرداری کی سمجھ میں آگیا ہے۔

ن لیگ کی اپنی مخالف سیاسی جماعتوں پر برتری میں نواز شریف اور شہباز شریف کی جوڑی بھی ایک فیکٹر ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ آصف زرداری اور بلاول بھی ایسی جوڑی اور انڈر اسٹینڈنگ نہیں بنا سکے ہیں۔ عمران خان کے پاس بھی ایسی کوئی شخصیت نہیں جس پر وہ اس قدر ہی اعتماد کر سکتے ہوں جتنا نواز شریف شہباز شریف پر کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں