ٹوئٹس کا تنازعہ اور شہباز شریف لائف انشورنش
حکومت سے تو خبر یہی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے تنازعہ کو بڑھانا نہیں چاہتے
حکومت سے تو خبر یہی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے تنازعہ کو بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے معاملات ادھر ہی جائیں گے جدھر اسٹیبلشمنٹ چاہ رہی ہے۔ تا ہم اگر یہ معاملہ حل بھی ہو جائے تب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ تنازعہ اتنا بڑھ کیوں گیا۔ اگر یہ طوفان چائے کی پیالی میں بھی تھا تب بھی کیوں تھا۔کس کی غلطی تھی۔
کیا میاں نواز شریف جو اس وقت سیاسی طور پر اپنے مخالفین کے نرغے میں ہیں مزید کسی تنازعہ کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کیا میاں نواز شریف کے کیمپ کو یہ سمجھ نہیں تھی کہ یہ وقت اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کا نہیں ہے۔ اب حالات کو سنبھالنے کا وقت ہے۔ الیکشن کا وقت ہے۔
نہ جانے ایسا کیوں لگتا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ٹوئٹ ہیں۔ چوہدری نثار علی خان ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹوئٹس کو زہر قاتل قرار دے رہے ہیں جب کہ اس ضمن میں بھی تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹوئٹس یک طرفہ ہیں۔کیا وزیر اعظم ہاؤ س سے بھی ٹوئٹس کا سہارا نہیں لیا جا تا۔ اگر سول حکومت کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹوئٹس پر اعتراض ہے تو شائد دوسری طرف بھی مریم نواز کے ٹوئٹس پر اعتراض موجود تھا۔
سوال تو یہ بھی موجود ہے کہ جندال کی وزیر اعظم سے ملاقات کا ٹوئٹ مریم نواز کیوں کرتی ہیں۔ اس حوالے سے باقاعدہ ایک سرکاری سیٹ اپ موجود ہے جس کو کام کرنا چاہیے۔ دونوں طرف سے ہی معاملات ٹوئٹس پر چلائے جا رہے ہیں۔ اور ایک دوسرے پر اعتراض بھی کیا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس معاملے میں میں چوہدری نثار علی خان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ انھوں نے اس سے پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر پر کمنٹ کیا جس کو پسند نہیں کیا گیا۔ اور اب بھی انھوں نے بے جا رد عمل دکھاکر حکومت کے لیے کوئی آسانی نہیں پیدا کی ہے۔
یہ وہی چوہدری نثار علی خان ہیں جو پریس کانفرنس میں اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بہترین تعلقات کا اقرار کرتے نہیں تھکتے تھے۔ وہ آج کیوں اسٹیبلشمنٹ سے لڑ رہے ہیں۔ ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ وہ بھی جنرل راحیل شریف کے متاثرین میں سے ہیں اور نئی اسٹیبلشمنٹ میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے، وہ آؤٹ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ان کے لیے ناسازگار صورتحال ہے کیونکہ شائد مسلم لیگ (ن) سے تو وہ پہلے ہی آؤٹ تھے۔
اسٹیبلشمنٹ کیا چاہ رہی ہے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ کوئی لمبا چوڑا اختلاف نہیں ہے۔ فوج یہ چاہتی ہے کہ جیسا کہ انکوائری رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ نیوز لیکس سے نیشنل سیکیورٹیbreach ہوئی ہے۔ اس کو پبلک کیا جائے۔ میری رائے میں فوج یہ شائد اس لیے چاہتی ہے کہ وہ عوام کے سامنے سرخرو ہو جائے کہ وہ بے جا اس معاملہ پر شور نہیں مچا رہے تھے۔ اسی طرح یہ کیسے قومی سلامتی کے خلاف تھا یہ بھی واضع کیا جائے تا کہ عوام کو پتہ چل جائے کہ کن وجوہات کی بنا پر فوج اس کو قومی سلامتی کے خلاف سمجھتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی واضع کیا جائے کہ جن جن افراد کو ذمے دار قرارد یا گیا ہے ، ان کا کیا کیا قصور ہے۔ ان کی چارج شیٹ کو پبلک کیا جائے۔ اور آخر میں ان کے خلاف کیسے کارروائی کی جائے گی۔ اس کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔ اس سے زیادہ اختلاف نہیں ہے۔ کون کون ذمے دا ر ہے اس پر مکمل اتفاق موجود ہے۔ اس ضمن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
دوسری طرف میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو سول ملٹری تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے یہ کام وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو سونپنا چاہیے کیونکہ ابھی تک جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں کر رہے ہیں۔ معاملات مس ہینڈل ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف یہ کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ اور جب جب یہ کام میاں انھوں نے کیا ہے اس کے بہتر نتائج ہی سامنے آئے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ بہت سے نازک مواقع پر بھی شہباز شریف نے ہی میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پل کا کام کیا ہے۔ جس کا بہت فائدہ ہوا ہے۔ لیکن شائد یہ کام میاں شہباز شریف سے واپس لے لیا گیا تھا۔ وقت آگیا ہے کہ یہ کام واپس میاں شہباز شریف کو ہی سونپ دیا جائے۔
آجکل ویسے بھی عمران خان میاں شہباز شریف پر تابڑ توڑ حملہ کر رہے ہیں۔ دس ارب والا معاملہ بھی عمران خان نے شہباز شریف پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ سوال یہ اہم ہے عمران خان شہباز شریف کو ٹارگٹ کیوں کر رہے ہیں۔ سادہ بات ہے کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ اگر وہ میاںنواز شریف کو گرا بھی لیں تو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو بچانے اور میاں نواز شریف کی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے شہباز شریف موجود ہوںگے۔ شہباز شریف میاں نواز شریف کی سیاسی زندگی کی لائف انشورنس ہے۔ جب تک لائف انشورنس موجود ہے ۔میاں نواز شریف کی سیاست بچ سکتی ہے۔
ایک لمحہ کے لیے اگر فرض کر لیا جائے کہ حالات اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں جس کے امکانات بہت کم ہیں کہ میاں نواز شریف کو پیچھے ہٹنا پڑے تو تب بھی شہباز شریف موجود ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کوئی پیپلزپارٹی والی صورتحال کا شکار نہیں ہے کہ 2013 میں ان کے پاس انتخابی مہم کی قیادت اور انتخاب لڑنے کے لیے کوئی بندہ موجود ہی نہیں تھا۔آصف زرداری ایوان صدر میں تھے۔ یوسف رضا گیلانی نا اہل تھے۔ بلاول نابالغ تھے۔ شائد عمران خان کو یہ بات سمجھ آگئی ہے۔
اسی لیے انھوں نے توپوں کا رخ شہباز شریف کی طرف کر لیا ہے کیونکہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ پنجاب میں شہباز شریف کی گڈ گورننس کی وجہ سے ان کی پسندیدگی کا ایک عنصر موجود ہے۔ ان کا نام پانامہ میں بھی نہیں ہے۔ چین بھی شہبازشریف کو پسند کرتا ہے بلکہ چین تو شہباز شریف کے کام کی رفتار کا معتقد ہے۔ پنجاب میں کام بھی بہت ہوئے ہیں ۔ ایسے میں شہباز شریف کسی بھی نازک صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کی کشتی اور میاں نواز شریف کی سیاست کو بچا سکتے ہیں۔ اسی لیے میں شہباز شریف کو نواز شریف کی لائف انشورنس کہتا ہوں۔
یہ الگ بات ہے کہ سیاسی تھیوری موجود ہے کہ میاں نواز شریف اپنی سیاسی وراثت شہباز شریف کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن یہ تھیوری دینے والے شائد شریف فیملی اور بھٹو فیملی میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں، لوگوں کے سامنے مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا اختلاف ہے۔ لوگ اردن کے شاہ حسن اور حسین کی مثالیں دیتے ہیں۔ مثالیں تو اور بہت سی دی جا رہی ہیں۔ لیکن شائد ابھی تک یہ سب مفروضے ہیں۔
بات سمجھنے کی ہے شہباز شریف کوئی نواز شریف کو چیلنج نہیں کر رہے۔وہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے لیے کوئی سیاسی تھریٹ نہیں ہیں ۔ اگر وہ سامنے آئیں گے بھی تو اس سیاسی وراثت کو بچانے کے لیے سامنے آئیں گے۔ وہ لائف انشورنس ہیں۔ شائد مسلم لیگ (ن) والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی لیکن عمران خان کو سمجھ آگئی ہے۔ اسی لیے وہ شہباز شریف کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔