اسکولوں میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کی تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم

اسپیشل سیکریٹری تعلیم کمیٹی کے کنوینرمقرر، کمیٹی ذمے داروں کاتعین کرکے 15روزمیں رپورٹ بھی پیش کرے گی.


Safdar Rizvi February 09, 2013
کمیٹی نے ڈائریکٹوریٹ اسکولز کراچی اور اس کے ذیلی دفاتر سے بھرتیوں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا، متعلقہ افسران میں کھلبلی. فوٹو: فائل

KARACHI: صوبائی محکمہ تعلیم نے کراچی کے سرکاری اسکولوں میں جعلی بھرتیوں کے حوالے سے کمیٹی قائم کردی ہے۔

یہ کمیٹی گذشتہ 6ماہ کے دوران کراچی کے سرکاری اسکولوں میں تدریسی وغیرتدریسی اسامیوں پرکی خلاف ضابطہ بھرتیوں کی تحقیقات کرے گی، غیرقانونی طریقے سے کی گئی بھرتیوں کے ذمے داروںکا تعین کرکے 15روزمیں رپورٹ سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکو پیش کرے گی،کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا ہے جس کے تحت اسپیشل سیکریٹری تعلیم شفیق میسڑ کوتحقیقاتی کمیٹی کے کنوینر مقررکیا گیا ہے جبکہ محکمہ تعلیم سیکریٹریٹ گروپ کے ایک ایڈیشنل اور ایک ڈپٹی سیکریٹری کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنے کام کاآغاز کردیا ہے اور اس حوالے سے کمیٹی کے دو اجلاس بھی منعقد ہوچکے ہیں، صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے تشکیل دی گئی یہ کمیٹی گذشتہ چھ ماہ کے دوران کراچی کے سرکاری اسکولوں میں تدریسی اسامیوں پر ''سبجیکٹ اسپیشلسٹ'' کی بھرتیوں اور نچلے گریڈز میں غیرتدریسی عملے کی بھرتیوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے گئے، اس حوالے سے کمیٹی نے ڈائریکٹوریٹ اسکولز کراچی اور اس کے ذیلی دفاتر سے ریکارڈ بھی طلب کیا ہے تاہم متعلقہ افسران کی جانب سے ریکارڈ پہنچانے میں پس وپیش سے کام لیا جارہا ہے۔

 

6

واضح رہے کہ کراچی کے سرکاری اسکولوں میں ڈرائنگ ٹیچرز،عربی لینگویج ٹیچرزاورسندھی لینگویج ٹیچرزکی اسامیوں پر گذشتہ چھ ماہ میں خالی اسامیوں سے کئی گنا زیادہ افرادکو بھرتی کرلیا گیا ، سندھی لینگویج ٹیچرز اور عربی لینگویج ٹیچرزکے لیے منعقدہ ٹیسٹ کے نتائج جاری نہیں کیے گئے اور امیدواروںکے انٹرویوزکرکے انھیں تقررنامے جاری کردیے گئے تاہم خالی اسامیوں سے زیادہ تعداد میں کی گئی بھرتیوں کے باعث ڈائریکٹوریٹ اسکولز کراچی نے ان امیدواروں کو پرائمری اسکول ٹیچرز ، جونیئراسکول ٹیچرز اور ہائی اسکول ٹیچرز کی خالی اسامیوں پرمنتقل کردیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ تینوں اسامیوں پر بھرتیاں عالمی بینک سے معاہدے کے تحت ٹیسٹ کی بنیاد پرکی جاتی ہیں، یاد رہے کہ چندروز قبل اے جی سندھ کی جانب سے بھی خالی اسامیوں کے علاوہ کی گئی بھرتیوں کے حامل امیدواروں کی تنخواہیں نہ دینے کاواضح فیصلہ کیاہے جبکہ اسی اثناء میں صوبائی محکمہ تعلیم نے بھی کمیٹی قائم کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

مقبول خبریں