کرۂ ارض کا مقدمہ
اس خوفناک صورتحال میں دنیا کے مدبرین دانشوروں اور عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ ان جنگی شیطانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں
FAISALABAD:
عموماً جرائم فرد کے خلاف ہوتے ہیں، افراد کے خلاف ہوتے ہیں، قبیلوں کے خلاف ہوتے ہیں، ملک و قوم کے خلاف ہوتے ہیں، لیکن ایک جرم ایسا ہے جو انسانی تاریخ کا انسانیت کے خلاف سب سے بھیانک جرم ہے، جس کا ارتکاب دوسری عالمی جنگ کے دوران 1945ء میں دنیا کے سب سے زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ ملک کے صدر ٹرومین نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گراکر کیا۔
حیرت ہے کہ لاکھوں انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح ماردینے والے اس مجرم کے خلاف دنیا کے اہل علم، اہل دانش نے کوئی طاقتور آواز اٹھائی، نہ دنیا کی کسی عدالت نے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے عالمی مجرم کے خلاف کوئی منصفانہ فیصلہ کیا۔
بلاشبہ ہٹلر دنیا کے لیے ایک خطرہ بن رہا تھا لیکن ہٹلر کو اس کے جرائم کی سزا دینے کے بجائے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر انسانی تاریخ کا جو سب سے گھناؤنا جرم کیا گیا اس کا احتساب آج تک نہ ہوسکا۔ ہٹلر مجرم تھا، جاپان کا حکمران طبقہ مجرم تھا، لیکن ہیروشیما اور ناگاساکی کے غریب اور معصوم عوام کا کیا جرم تھا، جس کی سزا میں انھیں ایٹمی آگ سے جلادیا گیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیشہ جواب طلب ہی رہے گا۔
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ امریکی صدر کا انفرادی فیصلہ ہو یا ان کی کابینہ کا اجتماعی فیصلہ، یہ فیصلہ کرنے والے انسانی تاریخ کے بدترین مجرم ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنا امریکا کے عوام اور دنیا کے مدبرین کا انسانی فرض ہے۔ دنیا کی تاریخ میں سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کیس چلاکر انھیں ان کی موت کے بعد بھی سزا سنائی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کے اس سب سے زیادہ بھیانک جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف نہ ان کی زندگی میں ان کا ٹرائل ہوا، نہ ان کی موت کے بعد ان کا ٹرائل کرکے انھیں قرار واقعی سزا سنائی گئی۔ آج 1945ء کے جرم کا تذکرہ کرنا یوں ضروری ہورہا ہے کہ آج کا ٹرومین ایک بار پھر دنیا کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی کوریا کی قیادت بھی جذباتیت کا مظاہرہ کررہی ہے اور خوف کا شکار ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ دنیا کے 7 ارب انسانوں کو ایٹمی سولی پر لٹکا دیا جائے۔ شمالی کوریا ایک چھوٹا سا ملک ہے، اس کا ایٹمی امریکا سے خوف زدہ ہونا ایک فطری بات ہے، اس کا مثبت علاج یہ تھا کہ شمالی کوریا کو یقین دلایا جاتا، اقوام متحدہ کی ضمانت دی جاتی کہ اس کے خلاف کبھی ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے، نہ اس کے خلاف روایتی ہتھیاروں کے ذریعے جارحیت کی جائے گی۔ اس معاہدے میں چین اور روس کو ضامن بنایا جاتا، لیکن ایسا کچھ نہیں کیا جارہا ہے ۔
اس حوالے سے سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد بڑی طاقتوں نے جو بندر بانٹ کی کیا اسے مستقل ہونا چاہیے تھا؟ جرمنی بھی اسی بندر بانٹ کا شکار ہوا، لیکن دیر ہی سے سہی جرمن عوام نے اس بندر بانٹ کو مسترد کرکے اور بڑی طاقتوں کی اٹھائی ہوئی دیوار برلن کو گرا کر جرمن قوم کو ایک کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شمالی اور جنوبی کوریا کی تقسیم کو ختم کرکے انھیں جرمنی کی طرح متحد کردیا جاتا لیکن امریکا نے جنوبی کوریا کو اپنا فوجی اڈہ بنادیا اور اپنی فوج کے ساتھ جنوبی کوریا میں ایٹمی ہتھیار بھی پہنچادیے تاکہ یہ اڈہ روس اور چین سے ممکنہ جنگ میں استعمال کیا جاسکے۔
یہ احتیاط نہیں بلکہ جارحانہ شیطانی حربہ ہے اور اس حربے سے شمالی کوریا کا خوف زدہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ دنیا کے مدبرین جرمنی کی طرح کوریا کی تقسیم کو ختم کرکے اسے متحدہ کوریا بنانے کا مطالبہ کرتے لیکن اس حوالے سے یہ مدبرین گونگے، بہرے، اندھے بنے ہوئے ہیں۔
اگر دونوں کوریاؤں کے درمیان سامراجی سازشوں سے جنگ ہوتی ہے تو نقصان کس کا ہوگا؟ کیا اس سوال پر شمالی اور جنوبی کوریا کے حکمران طبقے نے غور کرنے کی زحمت کی ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے عوام نسلاً اور اصلاً ایک ہیں، ان کی زبان ان کی ثقافت، ان کی تہذیب ایک ہے، اگر سامراجی ملکوں نے اپنے مفادات کی خاطر انھیں تقسیم کردیا ہے تو یہ ان کی قومی ذمے داری تھی کہ وہ اس مصنوعی تقسیم کے خلاف کھڑے ہوجاتے اور سامراجی ملکوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے اپنے مفادات کی خاطر تقسیم کے خلاف آواز اٹھاتے، لیکن اس حوالے سے بے چارے کوریائی عوام کو دوش دینا اس لیے بیکار ہے کہ سرمایہ دارانہ نیابتی جمہوریت میں فیصلے عوام نہیں کرتے بلکہ ان کے منتخب نمایندے کرتے ہیں اور اس نظام میں منتخب نمایندے بکاؤ مال ہوتے ہیں، جو منہ مانگی قیمت پر فروخت ہوجاتے ہیں۔
اگر دونوں کوریاؤں میں آج بھی ریفرنڈم کرایا جائے تو کوریائی عوام کی اکثریت متحدہ کوریا کے حق میں ووٹ دے گی۔ انسانوں کی تقسیم خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کیوں نہ کی جائے ایک ایسا انسانی جرم ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ جب امریکا کی فوجیں جنوبی کوریا کی فوجوں کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کرتی ہیں تو شمالی کوریا کا خوف زدہ ہونا ایک فطری بات ہے اور وہ اس خوف کے عالم میں دھڑا دھڑ ایٹمی مزائل کے تجربے کرنے لگ جاتا ہے، تو دنیا کس طرح اسے دوشی ٹھہرا سکتی ہے؟
لیکن شمالی کوریا کی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ نقصان ہر صورت میں کوریائی عوام ہی کا ہوگا۔ اگر شمالی کوریا امریکی حکمرانوں کی جارحیت کے خلاف امریکی شہروں پر ایٹمی میزائل داغتا ہے تو کوریائی عوام کی طرح بے گناہ امریکی عوام کا ہی نقصان ہوگا۔ امریکا کا حکمران طبقہ بہرحال محفوظ رہے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ ارشاد میں کہا ہے کہ ''ہمارے پاس شمالی کوریا کو تباہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے'' ٹرمپ کا مزید کہنا یہ ہے کہ ''دیکھتے ہیں اقوام متحدہ کیا کرلے گا'' پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا دنیا کا ''سب سے بڑا'' انسان شمالی کوریا کی تباہی کا مطلب سمجھتا ہے۔ شمالی کوریا میں شمالی کوریا کا صرف سربراہ ہی نہیں رہتا بلکہ کروڑوں بے گناہ کوریائی عوام بھی رہتے ہیں۔ کیا ٹرمپ کے پاس ایسی کوئی جدید ٹیکنالوجی ہے جس میں جنگوں سے وہ بھی ایٹمی جنگوں میں صرف حکمرانوں کو نقصان ہوگا۔
عوام محفوظ رہیں گے!! جب ٹرمپ یہ کہے گا کہ ہمارے پاس شمالی کوریا کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے تو شمالی کوریا کا حکمران یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہوگا کہ ہم امریکا کے شہروں کو اپنے جوہری میزائلوں سے نشانہ بنائیںگے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جاپان کے شہروں پر 1945ء میں ایٹم بم گرانے کے بعد بلا توقف ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی لگادی جاتی لیکن ہوا یہ کہ 1945ء میں استعمال ہونے والے ایٹم بموں سے پچاسوں گنا زیادہ طاقتور بم نہ صرف بنائے گئے بلکہ ان کے اتنے بڑے بڑے ذخیرہ کرلیے گئے کہ دنیا ان بموں سے ایک بار نہیں بلکہ ایک ہزار بار تباہ ہوسکتی ہے۔
شمالی کوریا کی قیادت کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ایٹمی ہتھیار سو پچاس لوگوں کی جان نہیں لیتا بلکہ پلک جھپکتے میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو جلاکر راکھ کردیتا ہے۔ اس خوفناک صورتحال میں دنیا کے مدبرین دانشوروں اور عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ ان جنگی شیطانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور انھیں ہرگز یہ اختیار نہ دیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرکے کروڑوں انسانوں کی جان لینے کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال میں تشکیل پانے والی تہذیب کو بھی تباہ کردیں اور کرۂ ارض راکھ کے ایک ڈھیر میں بدل کر رہ جائے۔