محکمہ تعلیم کی غفلت لاکھوں درسی کتب شاہراہ لیاقت کالج میں رکھ دی گئیں

کروڑوں روپے سے چھاپی گئی انٹرکی کتابیں کالجوں کے طلبا کومفت تقسیم کی جانی تھیں،سیشن کے آغاز کو6ماہ ہوگئے.


Safdar Rizvi February 26, 2013
کچھ پرنسپلز کتابیں لے گئے ،باقی کتابیں کلاس رومز میں رکھ کر تالے ڈال دیے گئے ہیں، کلاسز بھی نہیں ہورہی ہیں،پروفیسر روبینہ سومرو. فوٹو: فائل

GILGIT: صوبائی محکمہ تعلیم کی غفلت اور لاپروائی کا اپنی نوعیت کا انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے انتہائی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری کالجوں کے طلبا کیلیے چھاپی گئی کئی لاکھ درسی کتب گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین شاہراہ لیاقت میں ڈال دی ہیں،کروڑوں روپے سے چھاپی گئی انٹرکی یہ کتابیں کراچی کے سرکاری کالجوں کے طلبا کو مفت تقسیم کی جانی تھیں جسے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین شاہراہ لیاقت کے کلاس رومزمیں رکھ کر اس میں تالے ڈال دیے گئے ہیں،کراچی کے سرکاری کالجوں میں تعلیمی سیشن کے آغاز کو تقریباً 6 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کتابوں کوطلبا تک نہیں پہنچایا جاسکا ، اب انٹر کے امتحانات کے آغاز میں محض ڈھائی ماہ کا عرصہ باقی ہے تاہم جن طلبا کے لیے یہ کتا بیں چھا پی گئی تھیں۔

وہ ان کے حصول سے محروم ہیں'' ایکسپریس'' کو صوبائی محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں گذشتہ کئی ماہ سے ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالجز کی عدم فعالیت کے سبب کراچی کے سرکاری کالجوں کے لیے چھاپی گئی یہ درسی کتا بیں تقسیم ہی نہیں کی جاسکی، پہلے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے کتابیں تاخیر سے چھاپ کر فراہم کی گئی اور بعد ازاں ریجنل ڈائریکٹوریٹ کے عملے نے اسے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے گودام سے اٹھا کرگورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین شاہراہ لیاقت میں رکھ دیا ہے ،کتابوں کی تقسیم کا کام ریجنل ڈائریکٹر کے ایک افسر عبدالغفار بھٹو کے سپرد کیا گیا ہے تاہم وہ بھی ان کتابوں کوکالج یا طلبا تک پہنچانے میں تا حال ناکام ہیں۔



درسی کتابوں میں سائنس ( پری انجینئرنگ، پری میڈیکل)، کامرس اور آرٹس کے علاوہ لاکھوں پریکٹیکل جرنلز بھی ہیں جو کالج کے کلاس رومز کی نذر کردیے گئے ہیں ، واضح رہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے انٹر کی یہ درسی کتب کراچی کے نئے قائم ہونے والے 13سرکاری کالجوں کے علاوہ ان سرکاری کالجوں کے طلبا کے لیے چھاپی گئی تھیں جن کے پرنسپلز نے کالج کے '' بک بینک '' میں کتب کی کمی کی شکایت کی تھی، ذرائع نے بتایا کہ نئے قائم ہونے والے چند سرکاری کالجوں تک کتابیں پہنچ سکی ہیں۔

تاحال متعلقہ کالج میں کتا بوں کا انبارلگا ہوا ہے، ''ایکسپریس'' کے رابطہ کرنے پرگورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین شاہراہ لیاقت کی پرنسپل پروفیسر روبینہ سومرو نے بتایا کہ کچھ کالجوں کے پرنسپلز کتابیں لے گئے ہیں ، باقی کتابیں ان کے کلاس رومز میں رکھ کر تالے ڈال دیے گئے ہیں جس کے سبب ان کمرہ جماعت میں کلاسز بھی نہیں ہو پارہی ہے ۔

مقبول خبریں