سندھ حکومت طاقتور ہوتی تو ڈاکٹر عاصم کو نیب سے چھڑا لیتی سپریم کورٹ

اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ کیس میں دلائل پر ریمارکس، آغا سراج درانی نے مقدمات بنوائے، وکیل


Numainda Express October 20, 2017
عدالت کاعائشہ باوانی کالج مئی 2019تک ٹرسٹ کے سپردکرنے کاحکم،قتل کے 4ملزمان رہا، سی ڈی اے فارم ہاؤسزپر رپورٹ جمع۔ فوٹو:فائل

سپریم کورٹ نے سندھ میں اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے ایک مقدمے میں ریمارکس دیے ہیں کہ سندھ حکومت تو ڈاکٹر عاصم کونیب کی حراست سے نہیں چھڑا سکی توکسی کیخلاف کیسے کارروائی کر سکتی ہے؟

جسٹس اعجازافضل خان کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی تو ملزم شوکت جوکھیوکے وکیل نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سے تنازع پر میرے موکل کیخلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان پرسیکڑوں ایکڑ بارانی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا الزام لگایا گیاجو درست نہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ کیا سندھ حکومت واقعی اتنی طاقتور ہے؟کیا سندھ حکومت ان دنوں اتنی طاقتور ہے کہ نیب پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اگر سندھ حکومت واقعی اتنی طاقتور ہوتی تو ڈاکٹر عاصم کو نیب کی حراست میں نہ رہنے دیتی، سندھ حکومت توڈاکٹر عاصم کو نیب کی حراست سے نہیں چھڑا سکی توآپ کیخلاف کیسے کارروائی کر سکتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ عدالت اب تک تفتیش سے مطمئن نہیں ہے،جو دستاویزات ملی ہیں وہ درخواست گزارکے پاس موجود ہی نہیں۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب میں کیس چل رہا ہے، دستاویزات نہیں مل رہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جب تک فریقین کے پاس تصدیق شدہ کاپیاں نہیں ہوںگی ان کے اصل ہونے پر سوال رہے گا۔ محکمہ مال کے حکام کا کہنا تھاکہ ہمارے مطابق یہ کاغذات جعلی ہیںکیونکہ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں،عدالت نے مصدقہ دستاویزات طلب کرتے ہوئے مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نے پاک فوج کے اہلکارکے قتل میں مبینہ طورپر ملوث 4 ملزمان کو بری کردیا۔ ملزمان پر2004 میں منڈی بہاؤالدین میں اکرم نامی فوجی کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے قرار دیا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میںناکام رہا ہے، واقعہ کازخمی گواہ 14 گھنٹے بعدسامنے آیا اوراستغاثہ کی جانب سے میڈیکل رپورٹ میں کہانی بنائی گئی۔ فاضل جج نے کہاکہ کئی مقدمات میں دیکھا کہ اہلکار چھٹی پر آئے اور قتل ہوگئے۔

دوران سماعت ملزمان کے وکیل چوہدری ارشدچکرا کرگرگئے توان کا کمرہ عدالت میں طبی معائنہ کیا گیا،جسٹس آصف کھوسہ نے فاضل وکیل سے کہاکہ آپ کیس جیت گئے، جاکر آرام کریں۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر پنجاب محمدجعفر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کے ایک شریک ملزم فریدکا کوئی پتا نہیں کہاں ہے، سپریم کورٹ نے حکومت سندھ اور عائشہ باوانی ٹرسٹ کا تنازع حل کرادیا۔

گزشتہ روز جسٹس شیخ عظمت سعیدکی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سندھ حکومت کو حکم دیا کہ مئی 2019 تک عائشہ باوانی کالج ٹرسٹ کے سپرد کیا جائے، عدالت نے انتظامیہ کوگورنمنٹ عائشہ باوانی کالج میں مزیدنئے داخلے کرنے سے روک دیا، عدالت کاکہنا تھا کہ عائشہ باوانی ٹرسٹ نئے نام سے رجسٹریشن کراسکتاہے،2سال کے بعدکالج سے ٹرسٹ کا نام ہٹادیا جائے۔جسٹس عظمت سعیدکاایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہنا تھاکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہونگے، فیصلے کی خلاف ورزی پرتوہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے خبردارکیاکہ اس عدالت میں توہین عدالت میں بندہ جیل میں پہلے جاتا ہے سماعت بعد میں ہوتی ہے۔ اس دوران عدالتی ہدایت کی روشنی میں سندھ حکومت کی جانب سے عائشہ باوانی ٹرسٹ کو85 لاکھ کا چیک بھی دے دیا گیا۔ سی ڈی اے کی جانب سے الاٹ زرعی فارم ہاؤسزسے متعلق ازخودنوٹس کیس میں سی ڈی اے نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔ جسٹس عظمت سعیدکی سربراہی میں بینچ نے رپورٹ تمام فریقین کو مہیا کرنے کاحکم دیتے ہوئے سماعت3 ہفتے تک ملتوی کردی۔

مقبول خبریں