فاٹا پاکستان کاسب سے پُرخطر انتخابی میدان
ویسے تو جہادِ افغانستان کے صدقے اور جنرل ضیاء الحق کی وضع کردہ جہادی پالیسیوں کی مہربانیوں سے...
ویسے تو جہادِ افغانستان کے صدقے اور جنرل ضیاء الحق کی وضع کردہ جہادی پالیسیوں کی مہربانیوں سے اِس وقت پاکستان کا کوئی بھی علاقہ ظالمان کی کارستانیوں سے محفوظ نہیں لیکن ''فاٹا'' اور فرنٹیئر ریجنز (ایف آر) کے علاقے یہاں کے مکینوں کے لیے غیر محفوظ بن چکے ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے یہ خطہ پاکستان کا سب سے زیادہ پُرخطر اور پُر آزمائش قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اِس علاقے کے بارے میں پہلے ہی پاکستانی اور افغانی طالبان کے ساتھ ساتھ ''القاعدہ'' کے خونی وابستگان کے لیے ''جنت'' کی سند جاری کی جا چکی ہے۔ گیارہ مئی 2013ء کے عام انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے یورپی یونین کی طرف سے جو مبصرین پاکستان آئے ہیں، وہ بھی فاٹا سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اُنہوں نے وہاں جانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اِن مبصرین کے سربراہ مائیکل گاہلر نے ایک انگریزی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے غیر مبہم الفاظ میں کہا ہے: ''بھئی میں اپنی ٹیم کے کسی بھی فرد کو فاٹا اور بلوچستان بھیجنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں۔''
فاٹا، جہاں بہت سے یورپی صحافی اور سیاح اغوا کرکے یا تو قتل کر دیے گئے یا اُن سے رہائی کے بدلے بھاری تاوان وصول کیے گئے، کا نام سُنتے ہی غیر ممالک کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کر دیتے ہیں لیکن آفرین ہے اُن پاکستانی باشندوں پر جو اِن نامساعد، دہشت انگیز اور ناقابلِ اعتبار حالات کے باوجود فاٹا میں رہتے ہوئے جرأت مندی سے انتخابات کی ''جنگ'' میں حصہ لے رہے ہیں۔ فاٹا میں بروئے کار بعض دہشت پسند تنظیموں، خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے جمہوریت کو کُفر اور ووٹنگ کو کافرانہ عمل قرار دیے جانے کے باوجود فاٹا میں مقیم ہمارے بھائی سیاستدان گیارہ مئی کے لیے ہتھیلیوں پر جان رکھ کر انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور وہاں کا خصوصاً نوجوان طبقہ کفر کے تمام تر فتوئوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ووٹ پول کرنے کا عزمِ صمیم کیے ہوئے ہے۔
''فاٹا'' دراصل سات قبائلی ایجنسیوں کا نام ہے: باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کُرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان۔ اِن ساتوں ایجنسیوں کی مغربی سرحدیں افغانستان کے صوبے کُنر، ننگرہار، لوگر، پکتیا اور خوست سے متصل ہیں۔ یوں افغانستان کے دہشت گردوں کا پاکستان کے اِن قبائلی علاقوں میں آ کر چھپ جانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ یہ مغربی سرحدیں پیچیدہ پہاڑی اور بلند درّوں کی وجہ سے نہایت مسام دار بھی ہیں۔ مُلّا فضل اللہ ایسے دہشت گردوں کا افغانستان فرار ہونے کے لیے بھی یہ سہل گزرگاہیں ہیں۔
فاٹا کی ساتوں ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ فرنٹیئر ریجن (ایف آر) کے چھ علاقے بھی ہیں جو دراصل خیبر پختون خوا کے بندوبستی علاقوں اور فاٹا کے درمیان نیم قبائلی علاقے کا نام ہے۔ انھیں ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنوں، ایف آر لکی مروت، ایف آر ٹانک اور ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان سے موسوم کیا گیا ہے۔ فاٹا کی ہر ایجنسی اگر ایک پولیٹیکل ایجنٹ (پی اے) کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہے تو ہر فرنٹیئر ریجن اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ (اے پی اے) کی گرفت میں ہوتا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ ''فاٹا'' کے نام سے بھی کوئی آشنا نہ تھا، سوائے اس کے کہ یہ ایک ''آزاد'' علاقہ ہے۔ جہادِ افغانستان کی ''برکتوں'' سے اب اِس کا نام چہار دانگ عالم میں گونج رہا ہے۔ فاٹا اور فرنٹیئر ریجن سے قومی اسمبلی کے پورے ایک درجن افراد منتخب ہو کر انشاء اللہ منظرِ عام پر آئیں گے۔ فاٹا کی سات ایجنسیوں سے گیارہ اور ایف آر کے چھ علاقوں سے صرف ایک۔ گزشتہ دو ماہ کی انتخابی مہمات کے دوران فاٹا کی ساٹھ سیاسی شخصیات شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل کی جا چکی ہیں۔
(دہشت گردوں کے ہاتھوں اے این پی کے تقریباً آٹھ سو افراد کا قتل ایک علیحدہ المناک اور خوں رنگ داستان ہے جو نواز شریف کو نظر آ رہی ہے نہ عمران خان کو) تمام تر المناکیوں اور خطرناکیوں کے باوجود فاٹا انتخابات کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ خطہ بن چکا ہے۔ یہی ہے وہ حیرت انگیز علاقہ جہاں کی ایک ایجنسی، باجوڑ، سے بادام زری نامی ایک بہادر خاتون الیکشن لڑنے کے لیے میدان میں اُتری ہیں تو ایک دنیا نے اُن کی جرأتوں کو سلام اور تحسین پیش کیا ہے۔ ایک غریب اسکول ٹیچر کی اہلیہ بادام زری نے بڑے بڑے قبائلی سرداروں کو انگشت بدنداں کر رکھا ہے۔
فاٹا اور ایف آر کی بارہ سیٹوں کے لیے 339 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ یہاں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد تقریباً سترہ لاکھ بیس ہزار ہے جن میں ایک تہائی ووٹ خواتین کے ہیں۔ جس طرح محترمہ بادام زری پردے کے باوجود میدان میں نکلی ہیں، اِسی طرح اگر اِن ایک تہائی قبائلی خواتین ووٹروں کو گھروں سے نکل کر ووٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی تو اِس سے فاٹا کی تاریخ بھی بدل سکتی ہے اور تقدیر بھی۔ پُرتشدد اور پُرخطر حالات کے باوجود فاٹا میں انتخابات کا معرکہ اِس لیے بھی دلچسپی کا حامل ہے کہ یہاں خیبر پختون خوا کے گورنر کے والد بسم اللہ خان اور ایک بھائی بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
غالباً اِسی وجہ سے مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیدوار صاحبزادہ ہارون رشید صاحب شکایت کر رہے ہیں کہ گورنر کے پی انجینئر شوکت اللہ کو اِس عہدے سے ہٹایا جائے کیونکہ وہ اپنے والد اور بھائی کے لیے ''پری پول رگنگ'' کر رہے ہیں۔ فاٹا کی ایک ایجنسی میں مخالف امیدوار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایک اہم شخص، جو خود بھی انتخابی عمل میں شریک ہے، نے طالبان سے اُس کے سب سے بڑی حامی کو قتل کروایا ہے۔ فاٹا کے ایک حلقے (این اے۔41 جنوبی وزیرستان) میں جے یو آئی (ایف) کے امیدوار مولانا عبدالمالک ہیں۔ وہ 2002ء اور 2008ء کے انتخابات میں بھی جیت گئے تھے۔ اُن پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے تشدد پسندوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
فاٹا کا ایک تشخص یہ بھی ہے کہ یہاں دیوبندی مکتبِ فکر کی آواز دوسرے مکاتبِ فکر کے مقابلے میں زیادہ بلند ہے۔ اُن کے مدارس کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ طالبان بھی اِسی فکر کے حامل ہیں؛ یوں مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کے جیتنے کے زیادہ امکانات محسوس کیے جا رہے ہیں لیکن فاٹا میں ایک حلقہ طالبان سے ہمدردی رکھنے والوں کی نظر میں زیادہ کھٹک رہا ہے اور یہ ہے خیبر ایجنسی میں این اے۔54 جہاں سے بریلوی مکتبِ فکر کے ممتاز سیاستدان جناب نور الحق قادری انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
قادری صاحب 2008ء کے انتخابات میں بھی جیت گئے تھے لیکن وہ طالبان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ طالبان سے اُن کے خاندان اور پیروکاروں کا تصادم بھی ہوا جس میں نورالحق قادری کے کئی نہایت قریبی عزیز قتل کر دیے گئے۔ اِس خونریز سانحہ سے قادری صاحب اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ گزشتہ تین برس انھوں نے اپنے حلقے کے بجائے اسلام آباد میں گزارے جہاں وہ اکثر تسبیح بدست نظر آتے رہے۔ اب اٹھارہ امیدواروں کے مقابلے میں نورالحق قادری صاحب اکیلے ''میدانِ جنگ'' میں کھڑے ہیں۔
فاٹا اور ایف آر میں یوں تو سیکڑوں امیدوار میدان میں نظر آ رہے ہیں لیکن ان میں جو نام بلند آہنگ سنائی دے رہے ہیں اُن میں سے اہم ترین یوں ہیں: بلال رحمان، گل محمد صادق، ائیر مارشل (ر) سید قیصر حسین (جن کے ایک بھائی ڈاکٹر ریاض حسین، جو کرم ایجنسی میں پیپلزپارٹی کے صدر بھی تھے، کو مبینہ طور پر طالبان نے پشاور میں قتل کر دیا تھا)، منیر خان اورکزئی، سید نور اکبر، جواد حسین، پیر محمد عاقل شاہ، قیوم شیر محسود، مولانا جمال الدین محسود، شہاب الدین خان، ساجد حسین طوری، سید اخونزادہ چٹان، ظفر بیگ بھٹانی اور ملک حاجی باز گل آفریدی۔
آج سے چار دن بعد پورے ملک کے ساتھ فاٹا میں بھی عام انتخابات کا رَن پڑے گا۔ ٹی ٹی پی کے انتخاب دشمن فتوئوں اور بم دھمکیوں کے باوجود فاٹا کی تمام جری اقوام پوری تندہی سے الیکشن میں حصہ لینے کی داعی ہیں، خواہ کسی کے سینے پر کتنے ہی سانپ کیوں نہ لوٹیں۔ فاٹا کے کامیاب انتخابات انشاء اللہ دہشت پسندوں کی شکست اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے اکثریتی امن پسندوں کی فتح ہو گی۔