آخر کون

میں ایک پاکستانی ہوں اور کراچی میں رہ رہی ہوں اور اس الجھن میں ہوں کہ مجھے کون سا پیشہ اختیار کرنا چاہیے...



میں ایک پاکستانی ہوں اور کراچی میں رہ رہی ہوں اور اس الجھن میں ہوں کہ مجھے کون سا پیشہ اختیار کرنا چاہیے اور کہاں ملازمت کرنی چاہیے لیکن ان تمام معاملات پر جو شے سب سے زیادہ حاوی ہے، وہ ہے میرے ملک میں الیکشن کا خوف اور اذیت۔ ویسے تو تمام ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے مگر شہر کراچی سب سے زیادہ متاثر ہے۔

جیسے جیسے الیکشن کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔ قتل و غارت، فائرنگ، بم دھماکوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عوام جس احساسِ محرومی، اضطراب اور ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں، اس کا اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے۔ کس کس طرح یہاں کے لوگ کسب معاش کے لیے سر پر کفن باندھ کر نکل رہے ہیں۔ بچے تعلیمی اداروں میں جاتے ہوئے خوفزدہ ہیں۔

حد یہ ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں بھی خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات مجھ جیسے تمام نوجوانوں کے ذہن میں ہو گی کہ ا س ملک کو اس حالت تک پہنچانے والے آخر کون ہیں؟ کیوں آج ہمارے عوام موت سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں؟ کس نے ان کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا ہے؟ پاکستان کی 65 سالہ تاریخ میں ہر آنے والا نیا سال کڑے سے کڑا ہوتا جا رہا ہے۔ آخر کون اس کا ذمے دار ہے؟

جو عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے بھاری بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کا تقریباً اسی فیصد بالا بالا مختص کیا جاتا ہے، عوام کو اپنے گھروں کی چار دیواری میں تحفظ حاصل نہیں ہے، جب کہ اس ملک پر حکمرانی کرنے والے کس اعتماد سے اپنی الیکشن مہم میں ٹی وی پر مختلف اشتہاروں میں بڑے کرو فر کے ساتھ اپنی جھوٹی کارکردگی میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ حکومت کرنے کی باریاں لگتی ہیں، جب کہ یہ لوگ ملک کی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں۔ یہی پارٹیاں دوبارہ برسر اقتدار آ جاتی ہیں۔

اپنے ملک کی تاریخ میں ہم نے آج تک ایسا نہیں دیکھا۔ ٹی وی پر ہر پارٹی کے اشتہارات دیکھتے دیکھتے دل پریشان ہو جاتا ہے۔ آخر اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے میں شاید ہماری سیاسی پارٹیاں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ روزانہ اربوں روپے کے اشتہارات ٹی وی پر چلائے جا رہے ہیں اور عوام دوست ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ وہ عوام جو بھوک اور افلاس کی چکی میں بری طرح پس رہے ہیں، جب کہ سیاسی جماعتیں خدا جانے ان اشتہارات میں کن خواب و خیال کی باتیں کر رہی ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیلنے والی بے خوابی کا شکار عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں۔

مگر یہاں مجھے متحدہ قومی موومنٹ کا نہ تو کوئی اشتہار ٹی وی پر چلتا نظر آرہا ہے اور نہ ہی ان کے قائد کی تقریریں۔ معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ ایک متوسط طبقے کی جماعت ہے اور کروڑوں روپے کے اخراجات برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ حیرت ہوئی کہ جس پارٹی کے بارے میں یہ تأثر ہے کہ یہ مافیاہے، جو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر بھتہ لیتی ہے۔ لوگ ان کے خوف سے زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم دوسری پارٹیوں کی طرح چلا سکیں۔ ایک تجسس بڑھا کہ آخر اصل بات کیا ہے تو میں نے اس پارٹی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ارادہ کیا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے میں نے اس پارٹی کا منشور پڑھا۔ لفاظی سے زیادہ عام اور سادہ لفظوں میں عام آدمی کی بنیادی ضروریات پر زور دیا گیا۔

لائبریری سے ایم کیو ایم کی تاریخ پر کتاب جاری کروائی۔ ''سفر زندگی'' نامی کتاب جس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے وہ تلخ تجربات اور نا انصافیاں تحریر ہیں جو انھوں نے زمانہ طالب علمی میں برداشت کیں اور ایک انسان دشمن ماحول میں کس طرح اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ متوسط اور غریب طبقے کے ساتھ کیا کیا ناانصافیاں ہوئیں اور کس طرح ایک تعلیم یافتہ اور معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے تلخ تجربات اور صبر آزما کٹھن حالات میں ردِ عمل کو کس مثبت انداز میں استعمال کیا اور نہ صرف اپنی جدوجہد کو جاری رکھا بلکہ پاکستان کی موروثی اور بوسیدہ سیاست کو نیا انداز دیا اور کس طرح چند طالب علموں کے ساتھ مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی اور ایک طویل جدوجہد کے بعد آج دنیا کے سامنے اپنے آپ کو نہ صرف منوایا بلکہ ان کی منفی سوچ کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ جو کل تک ایوانوں میں نمایندگی متوسط طبقے کے لیے کی اور آج سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک عام آدمی کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا ہے اور ان کو عوام کا مینڈیٹ حاصل ہے۔ یہ خالص عوامی جماعت ہے جس پر تنقید برائے تنقید تو کی جا سکتی ہے لیکن مخالفین حقیقی معنوں میں اسے بدنام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ مجھ جیسے عام نوجوان کو جسے تھوڑی بہت اپنے ملک کی تاریخ اور اس کے مسائل سے آگاہی حاصل ہے، بغیر تصدیق کیے کسی بھی بارے میں اپنی رائے قائم نہیں کریں گے۔

میری تمام اہل وطن سے گزارش ہے کہ ووٹ قوم کی امانت ہے۔ اس کو عبادت کی طرح ادا کیجیے اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ اپنی رائے قائم کریں۔ خدا میرے ملک کی باگ ڈور مخلص اور باصلاحیت افراد کو عطا فرمائے (آمین)۔

مقبول خبریں