بیٹنگ ایک بار پھر توقعات کا بوجھ اٹھانے میں ناکام 

کارکردگی میں تسلسل کا خواب، سراب بن کر رہ گیا


Abbas Raza December 09, 2018
کارکردگی میں تسلسل کا خواب، سراب بن کر رہ گیا۔ فوٹو: فائل

مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کا حملہ ہوا تو پاکستان میں کھیلوں کے میدان ویران ہوگئے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو نیوٹرل وینیو کے طور پر متحد عرب امارات کا انتخاب کرنا پڑا، وہاں کے میدان ہوم گراؤنڈ تو نہیں لیکن کنڈیشنز پاکستان جیسی ہی ہیں۔

ایک عرصہ تک میزبان ٹیم نے اس مضبوط قلعے میں شگاف نہیں پڑنے دیا، 24 ٹیسٹ میچز میں سے 13 جیتے، 4 ہارے اور 7 ڈراہوئے،اس دوران کسی سیریز میں شکست نہیں ہوئی، یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد قیادت سرفراز احمد نے سنبھالی، سینئرز کی ذمہ داری اظہر علی اور اسد شفیق کے کندھوں پر آگئی۔

یونس خان اور مصباح الحق کے بغیر پہلی ہی سیریز میں گزشتہ سال سری لنکا کی ناتجربہ کار اور کمزور ٹیم نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا، سرفراز احمد اور تشکیل نو سے گزرتی پاکستان ٹیم پہلے امتحان میں بری طرح ناکام ہوئی، بیٹسمین مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کر سکے، ٹاپ آرڈر ڈگمگائی تو مڈل آرڈر بھی زیادہ مزاحمت نہ کرسکی، ٹیل اینڈرز نے بھی طویل فارمیٹ کے تقاضوں کو نہ سمجھا، کوئی بیٹنگ لائن 150سے کم کا ہدف حاصل کرتے ہوئے بھی اعتماد سے عاری نظر آئے تو اس سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

رواں سال پاکستان نے اسی نوعیت کی تمام تر خامیوں کے باوجود آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتی تو امید پیدا ہوئی کہ شاید کھلاڑی یواے ای کی کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف زیادہ بہتر کھیل پیش کریں گے، ابوظہبی میں کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں 4 روز تک پاکستان ٹیم حریف پر حاوی رہی، صرف 176 رنز کا ہدف اور وقت بھی کافی ہونے کے باوجود بیٹنگ لڑکھڑائی اور منہ کے بل جاگری،اظہر علی نے ٹیل اینڈرز کو کیوی بولرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور 4 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سینئر بیٹسمین خود چیلنج لیتے ہوئے رنز بناتے تو دیگر بیٹسمینوں پر دباؤ کم رہتا لیکن انہوں نے اپنی وکٹ بچائے رکھی اور منزل سے چند قدم دوری پر ہمت ہارگئے، دبئی ٹیسٹ میں یاسر شاہ نے 14وکٹیں حاصل کرتے ہوئے میزبان ٹیم کی مشکل یوں آسان کردی کہ دوسری بار بیٹنگ کی نوبت ہی نہیں آئی، اس فتح کے بعد پاکستان ٹیم تیسرے ٹیسٹ کے لیے ابوظبی آئی تو امید تھی کہ اعتماد کی بحالی کے بعد کھلاڑی حریف کو دباؤ میں رکھتے ہوئے سیریز اپنے نام کر لیں گے لیکن پہلے روز سے آخری تک کی جانے والی کئی چھوٹی غلطیاں بڑی بنتی گئیں اور میچ کے ساتھ سیریز بھی ہاتھ سے نکل گئی۔

پہلی اننگز میں بی جے واٹلنگ کا 9 پر کیچ ڈراپ نہ ہوتا تو وہ 77 کی اننگز کھیل کر کیویز کا مجموعہ 274 تک نہ پہنچاتے، جوابی اننگز میں اوپنرز کی ناکامی کے باوجود اظہر علی اور اسد شفیق کی سنچریوں کی بدولت پاکستان مضبوط پوزیشن میں آ گیا تھا، اس کے باوجود آخری 7وکٹیں 65 رنز کے سفر میں گنوا کر 150 سے زائد کی برتری حاصل کرنے کا موقع گنوا دیا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے کین ولیمسن اور ہینری نکولس نے غیرمعمولی اننگز کھیلیں لیکن اس ضمن میں سرفراز احمد کی قیادت اوربولرز حکمت عملی بھی قصور وار تھے، موقع ہونے کے باوجود کپتان نے دفاعی حکمت عملی کے تحت نئی گیند لینے سے گریز کیا، اسپنرز نے وکٹیں لینے کی بجائے رنز روکنے پر توجہ دی، دونوں بیٹسمین رنز کا انبار لگانے میں کامیاب ہوگئے، مہمان ٹیم کی پیشہ ورانہ سوچ کی داد دینی چاہیے کہ پاکستان کی ہدف کے تعاقب میں کمزور یوں کو بھانپتے ہوئے پانچویں روز کے آغاز میں ہی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اتنا دباؤ بڑھا دیا کہ میزبان بیٹنگ لائن کا حوصلہ بھی پست ہو گیا۔

اس اننگز میں پاکستان کی حکمت عملی ہی واضح نہیں تھی، چوتھی باری کھیلتے ہوئے ''اے'' اور ''بی'' پلان سیٹ کرنا پڑتے ہیں، کتنی وکٹوں کے گرنے تک جیت کی کوشش کرنا اور کس موقع پر سنبھل کر کھیلتے ہوئے ڈرا کے لیے کریز پر قیام طویل کرنا ہے، یہ سب کچھ طے کرنا پڑتا ہے، پاکستان کی ٹاپ آرڈر گھبراہٹ کا شکار نظر آئی تو مڈل آرڈر بھی مزاحمت نہ کرپائی، میزبان بیٹسمین نہ رنز بنا سکے اور نہ ہی کریئر پر قیام طویل کرتے ہوئے شکست کا رخ موڑ سکے۔

سرفراز احمد ٹیل اینڈرز کیساتھ کھیلتے ہوئے باقی وقت گزارکر میچ ڈرا کرنے کی پالیسی بناسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسی تیزی دکھائی کہ جیسے ہدف کا تعاقب کررہے ہوں، ہوم کنڈیشنز میں اعتماد سے عاری نظر آنے والی بیٹنگ لائن جنوبی افریقہ میں ڈیل سٹین اور کاگیسو ربادا کا سامنا کیسے کرے گی، یہ سوال ابھی سے ذہنوں میں گردش کرنے لگا ہے،محمد حفیظ نے مشکل ٹور سے قبل ہی ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ کر اپنی جان چھڑالی، یواے ای میں مسلسل ناکام امام الحق پروٹیز پیسرز کے وار کس طرح برداشت کریں گے۔

ایک سال بعد ٹیم میں واپس آنے والے شان مسعود سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں،باؤنسی وکٹوں پر فخرزمان کی دلیری ٹیم کے کام آسکتی ہے لیکن ان کی فٹنس پر شکوک ہیں،سعد علی کی صلاحیتیں تو یواے ای میں بغیر کھیلے ہی پرکھ لی گئیں،ان کو ڈراپ کرکے محمد رضوان کو شامل کیا گیا، ماضی میں مشکل ٹورز پر ساتھ لے جائے جانے والے وکٹ کیپر بیٹسمین کا اس بار کیا حشر ہوگا کوئی نہیں جانتا،جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے اسکواڈ میں محمد عامر کی واپسی بھی حیران کن فیصلہ ہے۔

ناقص کارکردگی کی وجہ سے ڈراپ ہونے والے پیسر بے پناہ دباؤ میں ہوں گے،بلال آصف کو ٹیسٹ کرکٹ کا تجربہ دلایا گیا، پرفارم کرنے کے باوجود ان کو باہر بٹھاکر ان فٹ شاداب خان کو شامل کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے، پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ 26دسمبر سے شروع ہوگا،مشکل ٹور میں مہمان ٹیم کی کارکردگی طویل فارمیٹ میں کپتان سرفراز احمد کے مستقبل کے لیے بھی اہم خیال کی جارہی ہے۔

 

مقبول خبریں