کیا ہم سب پاکستانی ہیں

ہم لوگ جو گھریلو ملازمین کی محتاجی میں زندگی بسر کرتے ہیں اور خود سوائے کھانے پینے کے کچھ نہیں کرتے


Abdul Qadir Hassan September 17, 2013
[email protected]

ہم لوگ جو گھریلو ملازمین کی محتاجی میں زندگی بسر کرتے ہیں اور خود سوائے کھانے پینے کے کچھ نہیں کرتے، جب کبھی کوئی تہوار آتا ہے تو ڈرنے لگتے ہیں کہ ملازمین عید بقرعید منانے گھر چلے جائیں گے اور پھر جب جی چاہے گا واپس آئیں گے یا کسی بہتر نوکری پر چلے جائیں گے تو ایسے میں ہم کیا کریں گے۔ اس دفعہ میں نے تینوں ملازمین سے باری باری پوچھا کہ وہ عید پر کس دن اور کتنے دنوں کے لیے چھٹی پر جائیں گے۔ ان کا جواب سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ معلوم ہوا کہ تینوں چھٹی پر نہیں جائیں گے یہیں رہیں گے۔ ان میں سے ایک جو میری خصوصی دیکھ بھال کرتا ہے صرف کالم نہیں لکھتا دوسرے سب کام کرتا ہے' کاغذ قلم دوات سب اس کی تحویل میں رہتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کے دوران مصنوعی روشنی بھی۔

ابھی ابھی جب وہ میری شیو بنا رہا تھا تو میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے چھٹی کے بارے میں پوچھا اور اس نے مجھے حیران بلکہ پریشان بھی کر دیا کہ وہ میری دن رات کی ضرورتوں کی وجہ سے گھر نہیں جائے گا۔ اس کے دل میں میری محبت کیسے جاگ اٹھی یہ مجھے اب معلوم ہوا۔ میں نے باورچی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ چونکہ قربانیاں کرنی ہیں، ان کے گوشت سنبھالے گا کون، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ اس عید پر نہیں جاؤں گا اور آپ لوگوں کو جی بھر کر گوشت کھلاؤں گا۔ بازار میں گوشت کا نرخ پانچ سے چھ سو روپے سے بھی زیادہ ہے اس لیے اسے عام دنوں میں جی بھر کر کون کھا سکتا ہے، بس سالن ہی پک سکتا ہے زیادہ سے زیادہ۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا تو وہ میری نقل و حرکت کے بارے میں مشوش نظر آیا کہ میں ہوں گا تو عید پر آپ کو کہیں لے جاؤں گا ورنہ تو آپ گھر میں ہی بند رہیں گے۔

ان تینوں کے دلوں میں یکایک جاگ اٹھنے والی مہربانیاں مجھے مشکوک دکھائی دیں اور میں نے غور کیا اور کچھ معلومات لیں تو پتہ چلا کہ کرائے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ایک مہینے کی تنخواہ تو کرائے اور چھوٹے موٹے تحفوں پر نکل جائے گی بلکہ اس سے بھی زیادہ اور پھر گھر پر عید کے اضافی اخراجات علیحدہ ہوں گے، سب نے بہتر یہی سمجھا کہ وہ عید میرے ساتھ ہی منائیں اور قربانی کے وافر گوشت سے لطف اندوز ہوں۔ غیر معمولی بلکہ ناقابل تصور مہنگائی میں زندہ رہنے کا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر ایک ماہ کی بچی ہوئی تنخواہ بھی گھر والوں کو مل جائے گی تو وہ نہال ہو جائیں گے اور کماؤ پتر کو دعائیں دیں گے۔

یہ تینوں گھریلو ملازم میرے کسی بھی لیڈر کی طرح اس ملک کے ووٹر ہیں اور شہری ہیں۔ ہمارے سرگرم سپریم کورٹ سے پوچھیں تو ان کے حقوق بھی ہماری طرح ہیں، سب برابر ہیں اور قانون اور آئین سب کو برابر کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ اگر کسی کے پاس عدالت کے اخراجات اور وکیل کی ہوشربا فیس ہو تو وہ کسی بھی لیڈر کے مقابلے میں مائی لارڈ کی خدمت میں حاضر ہو سکتا ہے اور ڈٹ کر بات کر سکتا ہے ورنہ وہ پولیس سے انصاف کا مزا چکھتا ہے۔ وہ پولیس جس نے قومی دارالحکومت میں ایک سہ پہر کو پانچ گھنٹے تک اپنی آخری رسومات ادا کی ہیں اور اب وہ فارغ ہے۔ ہم میں سے کسی پاکستانی کی اس ملک کی شہریت اور برابری آئین میں تو موجود ہے لیکن باہر شاید نہیں ہے مثلاً ہمارے ایک ابھرتے ہوئے لیڈر اپنی گزشتہ اعلیٰ ترین زندگی کے اس حصے میں جوانی کی تھکان اتارنے اسلام آباد کی ایک پہاڑی پر تین ساڑھے تین سو کنال کے گھر میں یا محل میں رہتے ہیں۔

ان کے بیٹے اپنے ننھال میں وہی اعلیٰ ترین زندگی بسر کرتے ہیں جو ان کا والد کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔ اس پر اس کے لیے تالیوں اور زندہ باد کی روحانی غذا الگ ہے اور چند بڑے لیڈروں کی طرف سے کاسہ لیسی کی موج مستزاد ہے۔ اس لیڈر کا کوئی ووٹر کوئی کارکن اور کوئی پیروکار اس زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کی سب سے بڑی عزت افزائی یہ ہے کہ اگر لیڈر کو اس کا نام یاد ہے یا وہ اس سے گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ ملاتا ہے جس سے پتہ چلے کہ وہ اسے جانتا اور اعتراف بھی کرتا ہے۔ اب ایک اور لیڈر کی بات کرتے ہیں وہ برسوں سے ولایت میں مقیم ہے وہاں کا شہری ہے اور ایک اعلیٰ ترین زندگی بسر کرتا ہے مگر اس کی پوری سیاست پاکستان میں مقیم ہے اور اس کی بڑی دھاک ہے۔ اس سے زیادہ کچھ لکھنا بے ادبی یا گستاخی کے ضمن میں آ سکتا ہے۔ پھر ایک اور لیڈر کے محل یا محلات کا تصور کیجیے۔

ان کی طرف جانے والا راستہ وہی ہے جو کسی زمینی جنت کی طرف جا نکلتا ہے۔ رقبہ ہزاروں کنال کا ہے۔ اس اعتبار سے عملہ بھی سیکڑوں میں ہے اور ہٹو بچو اور طمطراق کو دیکھ کر تاریخ کے پرانے بادشاہوں کے دربار یاد آتے ہیں۔ ان دنوں ٹی وی پر میں ایک شاہی قسم کا ڈراما دیکھ رہا ہوں اور مجھے اس میں کوئی بات اجنبی نہیں لگتی جو آج کے درباروں میں نہیں ہے بلکہ جدید دور کی نعمتیں تو ظاہر ہے کہ آج کے نئے زمانے کی دین ہیں۔ ماشاء اللہ پورے کا پورا خاندان ہی مع اپنے مصاحبین کے اور دور پار کے رشتہ داروں کے حکمرانی میں شریک ہے اور اپنی رعایا کی تفریح طبع کے لیے گُل کھلاتا رہتا ہے۔ عوامی لیڈروں کا ایک خاندان بھی برسرسیاست ہے مگر اتفاق سے وہ بھی بیرون ملک ہی مقیم ہے بلکہ زبان بھی بیرون ملک کی بولتا ہے مگر اب وہ اپنی متوقع رعایا کی زبان بھی سیکھ رہا ہے۔ اس کے پاس اتنی زیادہ مشہور و معروف دولت ہے کہ پاکستان کے دوسرے سیاسی خانوادے اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ یہ سیاسی خانوادہ ان دنوں اپنی سابقہ حکمرانی کی تکان اتار رہا ہے اور نئی حکمرانی کے لیے تازہ دم ہو رہا ہے۔ اسے ایک شریفانہ معاہدے کے تحت سیاسی امن حاصل ہے تا کہ وہ چند دن آرام کے ساتھ تو گزار لے اور اپوزیشن کی بک بک سے محفوظ رہے۔

کالم تمام ہونے والا ہے اور ابھی کئی سیاسی حکمرانوں کا ذکر باقی ہے لیکن آپ اگر کبھی غور کرنے کی ضرورت پا سکیں تو خود ہی اپنے سیاسی حکمرانوں کا اندازہ کر سکتے ہیں کیونکہ آپ بھی ان کی طرح ایک پاکستانی ہیں آئین اور قانون کی نظروں میں مگر عقل کے بغیر!

مقبول خبریں