آزاد پرندوں کا رزق

بھارت کے خلاف جب ہم ستمبر 1965کی جنگ لڑ رہے تھے اور اس میں بھارت حملہ آور تھا


Abdul Qadir Hassan September 25, 2013
[email protected]

ایک زلزلہ پشاور میں آیا جس میں ہمارے اہل کتاب بھائیوں کی عبادت گاہ ایک دھماکے سے اڑا دی گئی دوسرا زلزلہ قدرت نے بلوچستان میں بھیج دیا جو اس ملک کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ تھا۔ روز مرہ کے چھوٹے موٹے زلزلے اور دھماکے بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری ہیں اور ہم بحیثیت ملک اور قوم اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کا ہم پر غصہ ہی نہیں اترتا۔ جسے دیکھیں وہی چڑھ دوڑتا ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ جنگوں کا رشتہ رکھتے تھے۔ برصغیر کی تقسیم بھارت کی ماتا کو ٹکڑے کرنے کے برابر تھی۔ پھر پاکستان جیسی محض جغرافیائی نہیں ایک نظریاتی مملکت تو ظاہر ہے کہ ناقابل برداشت تھی جس کے نظریے کی بنیاد دو قومی نظریے پر تھی یعنی ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور وہ ایک ساتھ گھل مل کر زندگی بسر نہیں کر سکتیں ہمارے تو کھانے پینے کے برتن تک بھی جدا جدا ہیں۔

آج یہی بھارت اس قدر نخوت اور رعونت کا شکار ہے کہ ہماری بار بار کی گزارش کے باوجود اس کا وزیراعظم ہمارے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے تیار نہیں اور بہانے بنا رہا ہے، ہماری خوشامد اور اس کے بہانوں کا مقابلہ ہے حالانکہ اسے یہ تو یاد ہونا چاہیے کہ ہمیں تو قوم نے اس قدر زیادہ ووٹ اس لیے دیے تھے کہ ہم بھارت کے ساتھ دوستی کر سکیں۔ اس سے پہلے جو صاحب ہمارے انچارج تھے ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کے دل میں ایک بھارتی اور ہر بھارتی کے دل میں ایک پاکستانی چھپا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امریکا کے حکم پر ہر پاکستانی حکمران یا امریکا کی طرف سے پاکستان کا انچارج عہدہ دار در حقیقت بھارت کا نمایندہ یا ایلچی ہے جو پاکستان میں متعین ہے۔ بھارت کے عشق میں جو پاکستانیوں کے نزدیک ایک عشق ممنوع ہے ہم اس قدر آگے چلے گئے ہیں کہ اپنے سب سے بڑے ثقافتی اور سیاسی مرکز لاہور کو آیندہ بھارتی بجلی سے روشن کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اور برملا کر رہے ہیں۔

بھارت کے خلاف جب ہم ستمبر 1965کی جنگ لڑ رہے تھے اور اس میں بھارت حملہ آور تھا تو بھارتی فوج کے سپہ سالار نے کہا تھا کہ میں اب جلد ہی لاہور کے جمخانے میں ہاف پیگ پیوں گا لیکن تب پاکستانیوں میں غیرت اور قومی حمیت کی شمع روشن تھی اور ہم نے بھارت کے حملہ آور ہونے کے باوجود جب کہ حملہ آور کی طاقت زیادہ ہوا کرتی ہے لاہور کے جمخانے کی حفاظت کی اور بھارتی سپہ سالار کی خواہش پوری نہیں ہونے دی۔ ایک بات پھر دہراتا ہوں کہ انھی دنوں ایک پریس کانفرنس میں اس وقت کے سیکریٹری جناب الطاف گوہر مرحوم سے جب سوال کیا گیا کہ اگر بھارت نے لاہور پر قبضہ کر لیا تو پھر کیا ہو گا تو اس سرکاری افسر نے جواب دیا کہ پھر میں تو زندہ نہیں ہوں گا یہ سوال کسی اور سے پوچھ لیجیے گا۔ پڑوسی سے دشمنی بڑی مہنگی پڑتی ہے اور پھر بھارت جیسا پڑوسی جس کی آبادی کے ساتھ ہمارے رشتے بھی ہیں اور تعلقات بھی۔ بھارت کی عرف عام کی زبان بھی اردو ہی ہے اور ہماری بھی مزید برآں اس پڑوسی کے ساتھ نسلوں کی دشمنی چلی آ رہی ہے۔ ہمارے قائد نے کہا تھا کہ برصغیر کی زمین پر جب پہلا بھارتی مسلمان ہوا تو اس وقت وہ پاکستان کا پہلا شہری تھا۔ ایسا بلیغ فقرہ شاذ و نادر ہی کسی زبان سے صادر ہوتا ہے اس فقرے کے پیچھے کوئی زبان دانی یا نکتہ آفرینی نہیں تھی ایک ابدی نظریہ تھا جو برسہا برس بعد پاکستان کی صورت میں عمل میں آیا مگر آج اس ملک کے حکمران پوری قوم کے ووٹ بھارت دوستی کی نذر کر رہے ہیں۔

تاریخ میں پڑھا کہ وسط ایشیائی ملک کا ایک سردار یتیم ہو گیا تو اس کے باپ کے دوستوں نے اسے مشورہ دیا کہ فلاں سردار تمہارے باپ کا گہرا دوست تھا مدد کے لیے اس کے پاس جائو۔ اس کے جواب میں اس یتیم نوجوان تموچن جو چنگیز خان کے نام سے لرزندہ جہاں ٹھہرا، کہا کہ جب میں کسی قابل ہوں گا تو پھر ہی کسی کے پاس مدد امداد کے لیے جانا اچھا لگوں گا۔ لیکن افسوس کہ ہم ایک ان پڑھ قوم ہیں جو صرف ڈالر کی زبان میں سنتی اور بولتی ہے اور ڈالر اب ایک سو آٹھ روپے کا ہو گیا ہے اور یہ کل کا نرخ تھا۔ کچھ عرصہ پہلے میں ترکی گیا تو اس کی کرنسی لیرا کی بے قدری بھی انتہا پر تھی، سیکڑوں لیرا کی چائے کی ایک پیالی ملتی تھی اور ترک بھائی اس میں شرمندگی کا اظہار کرتے تھے لیکن اس عزم کے ساتھ کہ ہم بحران پر قابو پا لیں گے مگر ہم کہہ رہے ہیں کہ مزید قرض لیں گے تاکہ ہم بہتر ہو جائیں۔ حیران کن پھر حیران کن کہ قرض لے کر دنیا میں کوئی خوشحال بھی ہو سکتا ہے۔ یہ مالیاتی حکمت و دانش صرف ہمارے حصے میں آتی ہے جس کا وزیر خزانہ ایک اکائونٹنٹ ہے مگراس کی ایک اور خوبی بھی ہے جو اسے پکا رکھتی ہے۔

میں ایک دن کے لیے بیمار ہو گیا۔ پیٹ میں گڑ بڑ ہو گئی اور کالم تک نہ لکھ سکا جب کہ میں یہ بھی سنتا رہا کہ کالم دماغ سے لکھا جاتا ہے پیٹ سے نہیں لیکن میں پیٹ سے بھی لکھتا ہوں اور یہ پیٹ ایک ایسی لعنت ہے کہ اس کے سامنے نظریات گنگ ہو جاتے ہیں۔ ایک حدیث تو آپ نے سنی ہو گی کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ ''غریبی انسان کو کفر کے قریب لے جاتی ہے'' اس لیے میں دماغ کو زندہ رکھنے کے لیے پیٹ کی خاطر کالم لکھتا ہوں اور کسی پرندے کی طرح ہر روز کی روزی اللہ کے نام پر گمنام ہوائوں میں تلاش کرتا ہوں اور حصول رزق کے تمام نظرئیے اور فلسفے ختم کر دیتا ہوں۔ پرندہ جو رات بھر کسی شاخ پر سوتا رہتا ہے اور ہوا میں جھولتا رہتا ہے صبح بالکل خالی پیٹ قدرت کی لامحدود فضائوں میں نکل پڑتا ہے اور پیٹ بھر کر رات کو اپنے گھونسلے میں لوٹتا ہے۔ ہم لوگ بھی پرندوں سے روزی کا سبق کیوں حاصل نہیں کرتے۔ انسانوں کے سامنے کیوں رسوا ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں