پانی کی کمی خوراک کی قلت کا باعث بن سکتی ہے ماہرین

نئے ڈیمز تعمیر نہ ہونے سے 34 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہورہا ہے، ایشین ڈیولپمنٹ بینک


Online October 13, 2013
آبادی کے تیزی سے اضافہ اورزرعی معیشت رکھنے والے ملک میں پانی کی قلت خورا ک کی کمی کے بحران جنم کودے سکتی ہے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

ملک میں نئے ڈیمزکی تعمیر نہ ہونے کے باعث ہرسال 34ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوکر ضائع ہورہا ہے۔

پاکستان کاشمار دنیا کے ایسے 15ممالک میں ہونے لگاہے جہاں پر پانی کی دستیابی دبائو کاشکار ہے ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کااپنی رپورٹ میں انکشاف تفصیل کے مطابق ماہرین کے مطابق پاکستان کاشمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں بین الاقوامی پیمانے کے مطابق ایک ہزار دنوں کی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے مگرحکومت کی جانب سے نئے ڈیمز کی تعمیرکے حوالے سے عدم دلچسپی کے باعث محض پاکستان میں تیس دنوں کی ضروریات کاپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ آب پاشی کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 13ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اورہرسال 34ملین ایکڑ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہورہا ہے جسے ماہرین ناقص منصوبہ بندی کانتیجہ قراردیتے ہیں۔



ذرائع کے مطابق گزشتہ حکومت نے لیزرسے زمین ہموار کرنے کے آلات دینے اورڈرپ اریگیشن کے پروگرام شروع کیے تھے لیکن معلوم نہیں انکا کیا بنا۔ آب پاشی کے ذرائع کے مطابق اگرحکومت نے پانی کی کمی کی طرف توجہ نہ دی توملک کی داخلی سلامتی ہی نہیں بلکہ خطے کے امن کیلیے خطرہ بن سکتا ہے۔ آبادی کے تیزی سے اضافہ اورزرعی معیشت رکھنے والے ملک میں پانی کی قلت خورا ک کی کمی کے بحران جنم کودے سکتی ہے۔ ملک بھرمیں جوچندایک ڈیمز بنائے بھی جارہے ہیں وہ تھوڑی بہت بجلی پیداکرسکتے ہیں لیکن پانی ذخیرہ کرنے کی کوئی خاص گنجائش نہیں رکھتے۔ ماہرین کے مطابق تقریبا ہرسال سیلاب کے باعث پاکستان میں بربادی کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے باوجود پاکستان پانی کی کمی کاشکارہورہاہے ۔

مقبول خبریں