قبائل ڈرون حملوں کے حامی ہیں امریکی تھنک ٹینک کا دعویٰ

2010 ء میں 20 فیصد افراد ڈرون حملوں کی حمایت کرتے تھے جبکہ اگلے 6 ماہ بعداس کی حمایت بڑھ کر24 فیصد ہوگئی، تھنک ٹینک


Online October 24, 2013
2010 ء میں 20 فیصد افراد ڈرون حملوں کی حمایت کرتے تھے جبکہ اگلے 6 ماہ بعداس کی حمایت بڑھ کر24 فیصد ہوگئی، تھنک ٹینک. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

امریکی تھنک ٹینک 'نیوامریکا فاؤنڈیشن' نے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان کے قبائلی امریکی ڈرون حملوں کے حامی ہیں رواںسال کے 10 ماہ کے دوران قبا ئلی علا قو ں پر 20 ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

جن میں 17 شمالی اور 3 جنوبی وزیر ستان میں کیے گئے ، ان حملوں میں 104سے 127افراد ہلاک ہوئے جن میں صرف 3 سے 5 عام شہری تھے،امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ان 20 ڈرون حملوں میں 17 کا ٹارگٹ غیر واضح تھا جبکہ 4 حملوں میں طالبان 2 میں القاعدہ اور ایک میں حقانی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا ۔ ایک اور امریکی تھنک ٹینک پی ای ڈبلیو ریسرچ گلوبل انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2010 ء میں 20 فیصد افراد ڈرون حملوں کی حمایت کرتے تھے جبکہ اگلے 6 ماہ بعداس کی حمایت بڑھ کر24 فیصد ہوگئی۔

لیکن اس کے بعد سے اس حمایت میں مسلسل کمی ہوتی گئی اور 2012ء کے سروے کے مطابق صرف 17 فیصد لوگ ڈرون حملوں کے حمایتی تھے ۔ اس سے پہلے مقامی ادارے اریانہ انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل اسٹڈیز اینڈ ایڈوکیسی کے 2009کے سروے میں شریک 52 فیصد قبائلی افراد کا خیال تھا کہ ڈرونز حملوں کی سمت درست ہے اور 60 فیصد کا ماننا تھا کہ ان حملوں سے شدت پسند کمزورہوئے ہیں،اریانہ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین کاکہناہے کہ پاکستان کے شہری علاقے اور مڈل کلاس کا وہ طبقہ جو ٹی وی اورانٹرنیٹ کیساتھ زیادہ وابستہ ہے، اس کا خیال ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کیخلاف ہیں اوراس سے عام لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

 

مقبول خبریں