سندھ ہائیکورٹ کا فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے اثاثہ جات تحویل میں لینے کا حکم

2015ء سے اب تک فضائیہ اسکیم کے تمام بینک اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ طلب، متاثرین کے لیے اشتہار دینے کی ہدایت


کورٹ رپورٹر June 11, 2020
2015ء سے اب تک فضائیہ اسکیم کے تمام بینک اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ طلب، متاثرین کے لیے اشتہار دینے کی ہدایت (فوٹو : فائل)

سندھ ہائی کورٹ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے تمام اثاثہ جات اپنی تحویل میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے 2015ء سے اب تک فضائیہ اسکیم کے تمام بینک اکاؤنٹس میں آنے اور جانے والی رقومات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل سنگل بینچ کے روبرو فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے اکاؤنٹس کھولنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے آفیشل اسائنی کو نگران مقرر کردیا اور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے تمام اثاثہ جات آفیشل اسائنی کو اپنی تحویل میں لینے کی ہدایت کی۔

عدالت نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے اکاؤنٹس میں 2015ء سے اب تک رقم آنے اور جانے کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ آفیشل اسائنی اخبارات میں اشتہار دیں تاکہ متاثرین کلیم کے لیے رابطہ کرسکیں۔

متاثرین کے وکیل نے موقف دیا کہ ہمیں ہماری بنیادی رقم کے ساتھ معاوضہ بھی دلوایا جائے، ملزمان نے کچھ متاثرین کے ساتھ مل کر آرڈر پاس کرالیا ہے، ملزمان کو اس شرط پر ضمانت دی گئی ہے کہ 6 ماہ میں متاثرین کو رقم واپس کریں گے، ہم نے اس کی مخالفت میں درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت وقت پر نہیں ہوسکی، ملزمان نیب آرڈی ننس کے تحت صرف پلی بارگین کرسکتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایک کرمنل ضمانت کی درخواست میں اس طرح کی سیٹلمنٹ ہوسکتی ہے؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 32 متاثرین کی جانب سے رقم واپسی کی درخواست دائر کی گئی تھی، عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کرکہ آرڈر پاس کیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ملزمان کو جو ضمانت دی گئی ہے اس میں رقم بھی نہیں لکھی گئی۔

وکیل میکسم مارکیٹنگ نے موقف اپنایا کہ تمام متاثرین کو ان کا پرنسپل اماؤنٹ دیا جائے گا مگر یہ انٹرسٹ بھی مانگ رہے ہیں، 5 ہزار 5 سو متاثرین ہیں ان کی رقم 15 ارب سے زائد ہے مگر اب فضائیہ ہاؤسنگ کے اکاؤنٹس میں 13 ارب روپے پڑے ہیں، پراپرٹی فروخت کی جائے گی جس کے ذریعے بقیہ رقم ادا کی جائے گی۔

مقبول خبریں