عالمی سرمایہ کار امریکا کی بجائے چین کو ترجیح دے رہے ہیں او ای سی ڈی

گزشتہ سال عالمی سطح پر غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری 38 فیصد کی کمی کے ساتھ 846 ارب ڈالر رہ گئی


ویب ڈیسک May 05, 2021
تنظیم برائے عالمی اقتصادی تعاون کا کہنا ہے کہ آج امریکا کی جگہ چین عالمی سرمایہ کاروں کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی سرمایہ کاروں کی اکثریت اس وقت امریکا کو چھوڑ کر چین میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ انکشاف ''او ای سی ڈی'' کے تازہ اعداد و شمار میں کیا گیا ہے۔

چند روز قبل اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال عالمی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ 15 سال کی کم ترین سطح پر آگئی تاہم چین ان چند اہم معیشتوں میں سے ایک رہا جنہوں نے ترقی کو برقرار رکھا اور امریکا کی جگہ لے کر دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری منزل بن گیا۔

رائٹرز کے مطابق، او ای سی ڈی کی اس رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ کووڈ 19 کی وبا نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس لئے 2020 میں عالمی سطح پر غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری 38 فیصد کی کمی کے ساتھ 846 ارب ڈالر رہ گئی، جو 2005 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ وبا کی وجہ سے امریکا میں بہت سے معاشی شعبے بند ہوگئے اس لیے چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی سب سے بڑی منزل کے طور پر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔

مقبول خبریں