سندھ کے پرائمری نصاب میں تبدیلی شر انگیزی پھیلانے والا مواد نکال دیا گیا

صبراوربرداشت سے متعلق حضرت محمدؐکے علاوہ حضرت موسیٰ ؑعلیہ السلام اورحضرت عیسیٰ ؑ کے قصوں کونصاب میں جگہ دی گئی


Safdar Rizvi March 27, 2014
صبراوربرداشت سے متعلق حضرت محمدؐکے علاوہ حضرت موسیٰ ؑعلیہ السلام اورحضرت عیسیٰ ؑ کے قصوں کونصاب میں جگہ دی گئی. فوٹو: فائل

KARACHI: محکمہ تعلیم نے سندھ میں پرائمری کلاسز کے نصاب میں انقلابی تبدیلی کرتے ہوئے ہندوبرادری اورہندومذہب کے خلاف شامل تمام مواد کونصاب سے نکال دیاہے۔

مزید براں نفرت کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے طور پر مسلمانوں کے تہواروں کے ساتھ ساتھ اب ہندو،عیسائی اورسکھ برادری کے تہواروں کوبھی نصاب میں جگہ دی گئی ہے ، سابق آمرجنرل ضیا الحق کے مارشل لا اور صدرپرویزمشرف کے دورمیں لگائی گئی ایمرجنسی کے جواز اور اس عمل کی تعریف وتوصیف کوبھی نصاب سے نکالتے ہوئے محض تاریخی طورپردونوں آمروں کاتذکرہ نصاب میں چھوڑ دیا گیاہے ، مذکورہ تمام تبدیلیاں چوتھی جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں کی گئی ہیں ''ایکسپریس''کوسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے اعلیٰ افسریوسف شیخ نے بتایاہے کہ چوتھی جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں ہندوبرادری کی ہولی کے تہوار اور عیسائی برادری کے کرسمس کے تہوارکوباقاعدہ طورپرنصاب میں شامل کیا گیاہے، سکھ برادری کی پاکستان میں موجود عبادت گاہوں کاتذکرہ بھی نصاب کاحصہ بنالیاگیاہے، کتاب سے ہندو برادری کے خلاف ایساتمام مواد نکال دیاگیاہے جوصوبے کے طلبا میں شرانگیزی پھیلانے کی وجہ بن رہاتھا اور اس سلسلے میں قیام پاکستان اورتحریک پاکستان کے ابواب میں سے ہندو برادری کے خلاف شامل ایسامواد نکالا گیا ہے ۔

جس سے ہندوبرادری کی جانب سے اس وقت کے مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کاتاثر ابھر رہاتھا ، مذکورہ اقدامات صوبے اورملک میں مذہبی ہم آہنگی کے پرچاراورنفرت کے خاتمے کے لیے کیے گئے ہیں جبکہ ان کی جگہ انسانی حقوق،نظریہ پاکستان،اسلامی نظریات کونصاب کاحصہ بنایاگیاہے جس کے لیے امن اور برداشت سے متعلق خاتم لانبیا حضرت محمدمصطفیؐ کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صبروبرداشت کے حوالے سے زندگی کے واقعات کونصاب میں جگہ دی گئی ہے علاوہ ازیں چوتھی جماعت معاشرتی علوم کی کتاب میں سابق آمرجنرل ضیا الحق اورسابق صدرجنرل پرویز مشرف کے ذکر کو محض تاریخی حوالوں کے طور پر چھوڑ دیا گیاہے تاہم جنرل ضیا الحق کے مارشل لا اورجنرل پرویز مشرف کے دورمیں ایمرجنسی کے نفاذ کے جوازکو کتاب میں جگہ نہیں دی گئی ہے جبکہ اس کے برعکس جمہوری حکومتوں کے حوالے سے موادکونصاب کاحصہ بنایاگیاہے ، یادرہے کہ جنرل ضیا الحق کے مارشل لا اور جنرل پرویزمشرف کی ایمرجنسی کو نصابی کتب میں سراہا گیا تھاسندھ ٹیکسٹ بک بورڈکے قائم مقام چیئرمین ذاکرشاہ کے مطابق ترامیم کے ساتھ درسی کتاب کامسودہ ناشرین کے حوالے کردیاگیا ہے۔

مقبول خبریں